• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, مارچ 4, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

لڑکیوں کو سائبر کرائم سے ہوشیار رہنا ہوگا

Hamara Samaj by Hamara Samaj
نومبر 26, 2022
0 0
A A
لڑکیوں کو سائبر کرائم سے ہوشیار رہنا ہوگا
Share on FacebookShare on Twitter

مالا کماری

دہلی کی کویتا (نام بدلا ہوا ) سوشل میڈیا پر کافی ایکٹیو تھی۔ اس کے بہت سے فین فالوورز بھی تھے۔ لیکن ایک دن اچانک اسے معلوم ہوا کہ اس کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے ۔ کویتا کا کہنا ہے کہ ”لاک ڈاؤن کے دوران میں انسٹاگرام کی مختصر ریلز دیکھ کر کچھ سیکھنے کی کوشش کرتی تھی لیکن ایک دن مجھے اپنے دوستوں کے ذریعے معلوم ہوا کہ میرا انسٹا گرام اکاؤنٹ کسی نے ہیک کر لیا ہے اور اب وہ اسے غلط طریقے سے استعمال کر رہا ہے۔ میں تھوڑا سا پریشان ہو گئی، سمجھ میںنہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں؟ یہ کس کے ساتھ شیئر کروں اور کس کی مدد لوں؟ کیونکہ اگر ہیکر نے میری ویڈیو یا تصویر کا غلط استعمال کیا اور اسے وائرل کر دیا تو یہ میرے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔پھر اچانک مجھے اس پریشانی سے نکلنے کے لیے پروتساہن نام کی ایک تنظیم کے بارے میں معلوم ہوا،جو سائبر سیکیورٹی سے متعلق مسائل میں مدد کر تے ہیں۔ میں اس پریشانی سے بچنے کے لیے ان سے مدد مانگی اور انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کیا، انہوں نے مجھے آن لائن ایف آئی آر درج کرنے اور سائبر سیکیورٹی کے بارے میں بتایا۔
یہ مسئلہ نہ صرف ملک کی راجدھانی دہلی میں رہنے والے کسی بھی نوجوان کا مسئلہ ہے، بلکہ دوسرے بڑے شہروں سے لے کر دیہی علاقوں تک ایسی خبریں پڑھنا عام ہو گیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دہلی جیسے بڑے شہر میں رہ کر کویتا کو اس کے خلاف کارروائی کرنے میں مدد ملی ۔ لیکن دیگر علاقوں کے نوجوانوں اور خاص طور پر نوعمر لڑکیوں میں شعور کی کمی کی وجہ سے انہیں اتنی جلدی مدد نہیں ملتی اور وہ ہیکرز کا نشانہ بن جاتی ہیں۔ درحقیقت کوئی بھی معلومات حاصل کرنا یا سوشل میڈیا تک رسائی ان دنوں بہت آسان ہو گیا ہے۔ انٹرنیٹ کا پھیلاؤ بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے صارفین کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اب سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سرگرم نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد گاؤں دیہاتوںمیں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
دہلی سے متصل ایک دیہی علاقے کی رہنے والی مینا (نام بدلا ہوا) کہتی ہیں ”میرے گھر والوں نے مجھے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور اس سے متعلق اپ ڈیٹس کے لیے موبائل فون فراہم کیا تھا۔ میری آن لائن کلاسز ٹھیک چل رہی تھیں کہ اچانک ایک دن نامعلوم نمبر سے آئے دن کالز، میسجز اور فحش ویڈیوز آنے لگتی ہیں اور طرح طرح کی دھمکیاں دی جانے لگی۔ جس کی وجہ سے میں بہت خوفزدہ ہوگئی، سمجھ میںنہیں آرہا تھاکہ کیا کروں؟ اپنا مسئلہ کسی سے شیئرکرتے ہوئے بھی ڈر رہی تھی۔آخرکار میں نے پریشانی کی وجہ سے اپنا سم کارڈ بند کر دیا۔“ وہ کہتی ہے کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس کے خلاف شکایت کہاں اور کیسے درج کرائی جاتی ہے؟ میں سائبر سیکیورٹی کی معلومات نہ ہونے کی وجہ سے اس کا شکار ہوئی، کاش مجھے علم ہوتا اور کوئی مجھے سائبر سیکیورٹی ہیلپ لائن نمبر 1930 کے بارے میں بتایا ہوتا تو آج مجھے اپنا سم بند کرنے کی ضرورت نہ پڑتی بلکہ ایسے سائبر مجرم جیل میں ہوتے۔
درحقیقت انٹرنیٹ کا استعمال جہاں ہمارے لیے باعثِ رحمت ثابت ہوا ہے وہیں بعض مقامات پر یہ لعنت بھی ثابت ہوا ہے۔ اس کے غلط استعمال کی وجہ سے سائبر کرائم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ آج کے دور میں یہ بہت اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ جیسے جیسے انٹرنیٹ کی رفتار بڑھتی جا رہی ہے، اسی طرح سائبر کرائم نے بھی اپنے پنکھ پھیلا رکھے ہیں۔ اس کے استعمال سے دور بیٹھے لوگوں سے رابطہ قائم کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ اس نے کاروبار کو بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے ہماری روزمرہ کی زندگی کے کاموں کو کافی حد تک آسان بنا دیا ہے۔ لیکن جہاں انٹرنیٹ کے بہت سے فوائد ہیں، وہیں اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ اگر اسے احتیاط سے استعمال نہ کیا جائے تو ہیکرز کے جال میں پھنس سکتے ہیں۔ جو آپ کا اپنا موبائل غلط کاموں میں استعمال کر سکتا ہے۔ جسے سائبر کرائم کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس میں کمپیوٹر کے آلات کو غلط طریقے سے انٹرنیٹ کا استعمال کرکے آن لائن سائبر جرائم کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ ہیکنگ کے علاوہ آن لائن ذاتی معلومات چوری کرنا، دھوکہ دہی اور چائلڈ پورنوگرافی وغیرہ سب سائبر کرائم کے تحت آتے ہیں۔ سائبر بدمعاشی آن لائن سوشل میڈیا، فورمز یا گیمنگ کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔ جہاں صارف مواد پڑھ سکتے ہیں، اس کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں یا اس کا مواد ایک دوسرے کو دے سکتے ہیں۔ یہ ایس ایم ایس، ٹیکسٹ اور ایپلیکیشن کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے پروتساہن انڈیا فاؤنڈیشن کے آئی ٹی ٹرینر گووند راٹھور کا کہنا ہے کہ سائبر سیکیورٹی سے متعلق اس طرح کے مسائل ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں۔ نوجوانوں اور خاص طور پر نوعمر لڑکیوں کے لیے موبائل دستیاب ہیں، لیکن اس کی وجہ سے ہونے والے سائبر کرائم سے بچنے کا طریقہ نہ تو وہ جانتے ہیں اور نہ ہی والدین کو معلوم ہے۔ جس کی وجہ سے کئی بار نوعمر لڑکیوں کو بغیر کسی غلطی کے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ معاشرہ انہیں اس کا ذمہ دار ٹھہرانا شروع کر دیتا ہے۔ ایسے میں ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سائبر سیکیورٹی کے بارے میں آگاہ کیا جائے، تاکہ ان سائبر کرائمز کو کافی حد تک کم کیا جا سکے۔
اس حوالے سے بہت سے سائبر ماہرین کا مشورہ ہے کہ لوگوں کو سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر اور ذاتی معلومات شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس کا استعمال اسی وقت کرنا چاہیے جب ہمیں ان کے بارے میں مکمل علم ہو۔ آن لائن مجرموں سے بچنے کے لیے، ہمیشہ ایک مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں جس میں بڑے حروف، اعداد اور خصوصی حروف کا استعمال شامل ہو۔ ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا کا نیٹ ورک اور اس کی رسائی لامحدود ہے۔ ایسے میں سائبر مجرم یعنی ہیکرز کو درست طریقے سے ٹریس کرنا بہت مشکل ہے۔ اس وقت سوشل میڈیا جتنا ایڈوانس ہو رہا ہے، اس سے جڑے جرائم پیشہ افراد بھی زیادہ ایڈوانس ہوتے جا رہے ہیں۔ اس لیے اس سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو باخبر رکھیں ۔ یہ خاص طور پر نوعمر کے لیے اور بھی اہم ہو گیا ہے۔ ہر روز نئے آن لائن پلیٹ فارم دستیاب ہو رہے ہیں، جہاں آپ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، جس کے پیچھے نوجوان متوجہ ہو کر ہیکرز کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں۔ اس لیے کوئی بھی نئی ایپ مکمل معلومات کے بغیر ڈاؤن لوڈ نہیں کرنی چاہیے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ کسی کو اپنے گھر کی ذاتی معلومات، خاندان سے متعلق معلومات اور اپنا پاس ورڈ کبھی بھی آن لائن کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہیے، حتیٰ کہ اپنے ب قریبی دوست کو بھی ایسی چیزوں کو شیئر نہیں کرنی چاہیے۔ آپ کو وقتاً فوقتاً اپنا پاس ورڈ تبدیل کرتے رہنا چاہیے۔ اس کے لیے بیداری کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر کو دیکھتے ہوئے اب اسے اسکول کے نصاب کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔ سائبر کرائم سے بچنے کے لیے اسکولوں اور کالجوں میں خصوصی سیشن منعقد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لڑکیاں خوفزدہ نہ ہوں بلکہ بروقت اپنے فون کو ہیکرز سے محفوظ رکھ سکیں۔ یہ مضمون سنجوئے گھوش میڈیا ایوارڈ 2022 کے تحت لکھا گیا ہے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    مارچ 3, 2026
    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    مارچ 3, 2026
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist