نیویارک، (یواین آئی )ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پیر کی صبح عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے توانائی کے ایک بڑے عالمی بحران کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔جنگ کے آغاز سے اب تک عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 60 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت 3 فیصد اضافے کے ساتھ 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ، امریکی خام تیل کی قیمت 1.57 فیصد اضافے کے بعد 101.19 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اس سے قبل 19 مارچ کو قیمتیں مختصر وقت کے لیے 119 ڈالر تک پہنچی تھیں، جس کے بعد یہ موجودہ قیمت اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔قیمتوں میں اس حالیہ تیزی کی سب سے بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی موثر بندش ہے۔ ماہرین کے مطابقدنیا بھر میں تیل اور ایل این جی کی سپلائی کا پانچواں حصہ (20%) اسی راستے سے گزرتا ہے جو فی الحال معطل ہو چکا ہے، جس نے دنیا کو دہائیوں کے سب سے بڑے توانائی بحران میں دھکیل دیا ہے۔”ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے امریکہ کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی افواج کی آمد کے منتظر ہیں تاکہ انہیں "آگ کے حوالے” کر سکیں اور ان کے علاقائی اتحادیوں کو سزا دی جا سکے۔ پہلی بار ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے اسرائیل پر براہ راست میزائل داغے ہیں۔ اسرائیل نے جوابی کارروائی کے طور پر جنوبی لبنان میں اپنی جارحیت کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔اب یہ خطرہ صرف خلیج تک محدود نہیں رہا بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اہم تجارتی راستے بھی جنگ کی زد میں آ چکے ہیں۔












