عبدالحسیب
نئی دہلی، لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے دہلی کے مہرولی میں ڈی ڈی اے کی طرف سے انہدام کے کام کو روک دیا ہے۔ ایل جی وی کے سکسینہ نے ڈی ڈی اے کو ہدایت دی ہے کہ مہرولی اور لدھا سرائے میں جاری انہدامی مہم کو اگلے ہدایات تک روک دیا جائے۔ڈی ڈی اے نے دہلی کے مہرولی میں انسداد تجاوزات مہم شروع کی۔ اس دوران مقامی لوگوں نے مہم کے خلاف احتجاج بھی کیا تاہم سیکیورٹی اہلکار موقع پر موجود تھے۔ ڈی ڈی اے نے ہائی کورٹ کے حکم کے تحت انسداد تجاوزات مہم شروع کی۔جی 20 سربراہی اجلاس آرکیالوجیکل پارک میں منعقد ہوگا۔ اس سے پہلے کارروائی مکمل کرنی ہوگی۔ ڈی ڈی اے کے مطابق دسمبر میں لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے دیواروں پر نوٹس چسپاں کیے گئے تھے۔قبل ازیںڈی ڈی اےنے مہرولی میں عمارتیں اور اسٹورز پر بلڈوزر چلادیا۔ڈی ڈی اے کے مطابق نوٹس دسمبر میں دیا جا چکا تھا۔لیکن وہاں کے لوگوں کاکہنا ہے کہ حکومت نے ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیاگیاتھا۔
خواتین کا کہناہے کہ ہمارے پاس ان گھروں کی مصدقہ رجسٹری موجود ہے جسے ڈی ڈی اے نے پاس کیا تھا۔تجاوزات کے دوران کچھ خاندانوں نے خود کو گھروں میں بند کر لیا اور کہا کہ بلڈوزر ہماری لاشوں کے اوپر سے گزرے گا۔ متاثرین کا روتے ہوئے کہنا ہے کہ ہم اور ہاؤس ٹیکس ،پانی کا بل، ٹیکس ادا کرتے ہے۔تو ڈی ڈی اے ہمارے گھر کیوں توڑ رہے ہیں۔عوام کے مطابق ڈی ڈی اے کو پروپرٹی ڈیلر سے بات کرنی چاہیے۔کیونکہ پروپرٹی ڈیلر نے ہمیں گھر فروخت کئے تھے۔ متاثرین کا رو رو کر برا حال ہے،ان کا کہنا ہے کہ ڈی ڈی اے نے ہماری محنت کی کمائی کے گھر تباہ کردئے ہیں، اب ہم کہاں جائیں گے۔ڈی ڈی اے کو عوام کازبردست احتجاج کا سامناکرنا پڑا،کچھ خواتین نے تجاوزات کےخلاف پولیس اہلکاروں پر مرچ پاؤڈر پھینکا۔بعد میںپولیس نے خواتین پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا۔19خاندانوںنے عدالت سے اسٹے لے رکھا ہے لیکن پھر بھی ڈی ڈی اے کی تجاوزات جاری ہے۔ نوٹس کے ذریعے بتایا گیا کہ دس دن کے اندر اس زمین سے تمام غیر مجاز تعمیرات ہٹا دی جائیں لیکن لوگوں نے نوٹس کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ جس کی وجہ سے توڑ پھوڑ کی کارروائی شروع کردی گئی۔












