نئی دہلی، (یواین آئی) راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے رہنما ملکارجن کھڑگے نے مغربی ایشیا کے بحران کے باعث ملک میں رسوئی گیس سلنڈر کی فراہمی متاثر ہونے کا مسئلہ پیر کو ایوان میں اٹھایا، جس پر ایوان کے رہنما جگت پرکاش نڈا نے یہ کہتے ہوئے اعتراض کیا کہ کانگریس مصیبت کے وقت بھی سیاست کر کے عوام کو بھڑکا رہی ہے۔ مسٹر کھڑگے نے وقفۂ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک میں رسوئی گیس سلنڈر کی فراہمی متاثر ہونے کے سبب افراتفری مچی ہوئی ہ اور اس سے خاص طور پر غریب، متوسط طبقہ اور چھوٹے ریستوران متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنی ضرورت کی 60 فیصد رسوئی گیس درآمد کرتا ہے اور اس میں سے بھی 90 فیصد ہرمز آبنائے کے راستے آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فراہمی متاثر ہونے سے کمیونٹی کچن بند کرنے پڑ رہے ہیں اور سلنڈر کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت مغربی ایشیا بحران کے پیش نظر وہاں رہنے والے ہندوستانیوں کے لیے مشورہ جاری کر رہی تھی تو رسوئی گیس کی فراہمی کے لیے متبادل انتظام کیوں نہیں کیا گیا اور فراہمی کیوں نہیں بڑھائی گئی۔ ایوان کے رہنما مسٹر نڈا نے کہا کہ یہ وقفۂ صفر ہے اور اس میں ہر رکن کو تین منٹ کا وقت اپنی بات کہنے کے لیے دیا جاتا ہے لیکن مسٹر کھڑگے اپوزیشن لیڈر ہونے کے باوجود قواعد کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ صدرِ ایوان کی جانب سے مسٹر کھڑگے کو اضافی وقت دیے جانے کے باوجود ان کے بولتے رہنے پر مسٹر نڈا نے کہا کہ یہ عالمی بحران کا وقت ہے اور اس میں ہندوستان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس مصیبت کے وقت بھی سیاست کرنے سے باز نہیں آ رہی۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے ایوان میں پوری صورتحال کی وضاحت کی ہے لیکن کانگریس کے ارکان نے اس وقت ان کی بات نہیں سنی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ملک میں پُرامن صورتحال کو بھڑکا کر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کا ایک رہنما سلنڈر کی ذخیرہ اندوزی کے معاملے میں بھی پکڑا گیا ہے۔ اس دوران حکومت اور اپوزیشن دونوں کے ارکان زور شور سے ایک دوسرے کا جواب دیتے رہے۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے ریاست کے چیف سکریٹری اور ہوم سکریٹری کو ہٹائے جانے کے خلاف ترنمول کانگریس کے ارکان نے پیر کو راجیہ سبھا سے دن بھر کے لئے واک آؤٹ کیا۔ ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیرک اوبرائن نے متعلقہ دستاویزات پیش کیے جانے کے بعد وقفہ صفر سے قبل یہ مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ الیکشن کمیشن نے ریاست کے چیف سکریٹری، پرنسپل سکریٹری اور ہوم سکریٹری کو رات کے اندھیرے میں ہی ہٹا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کا حق ہے لیکن ان کی پارٹی نے اس کی شدید مخالفت کی اور احتجاج میں دن بھر واک آؤٹ کیا۔ اس کے بعد ترنمول کانگریس کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہے اور ایوان کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین نے الیکشن کمیشن کو ایسا کرنے کا اختیار دیا ہے اور اس معاملے کو ایوان میں اٹھانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس اور ترنمول کانگریس نے آئینی اداروں کی توہین کی عادت بنالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس نے ایک فضول مسئلہ پر ایوان کا وقت ضائع کیا۔ لوک سبھا میں پیر کو اپوزیشن کے ارکان نے ایوان کے آٹھ ارکان کی معطلی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے کے۔ سی۔ وینوگوپال نے وقفۂ صفر شروع ہونے سے پہلے اپوزیشن ارکان کی معطلی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایوان کے باہر سیڑھیوں پر بیٹھے ہیں۔ ان کی معطلی ختم کی جانی چاہئے۔ سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے اکھلیش یادو نے مسٹر وینوگوپال کے مطالبے کی حمایت کی۔ ایس پی کے ہی دھرمیندر یادو نے بھی کہا کہ معطل ارکان کی معطلی ختم کی جائے۔ اس پر اسپیکر اوم برلا نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اس پر ایوان میں بحث نہیں ہو سکتی۔ قابل ذکر ہے کہ بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلے میں تین فروری کو کانگریس کے سات اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے ایک رکن کو غیر شائستہ رویے کے الزام میں بجٹ اجلاس کی باقی مدت کے لیے ایوان سے معطل کر دیا گیا تھا۔) جل شکتی کے وزیر سی آر پاٹل نے پیر کے روز پارلیمنٹ میں اعتراف کیا کہ گوگل کی جانب سے ہر گھر کو نلکوں کے ذریعے پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے شروع کیے گئے جل جیون مشن کے تحت سروے کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں اور ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔












