نئی دہلی، (یواین آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ ایران میں واقع چابہار بندرگاہ اس وقت منظرنامے میں موجود نہیں ہے اور اس کا غائب ہونا حکومت کی سفارت کاری کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ کانگریس کے شعبۂ ابلاغ کے انچارج جے رام رمیش نے اتوار کو سوشل میڈیا ایکس پر لکھا کہ حکومت کو چابہار منصوبے کے بارے میں وضاحت کرنی چاہیے اور بتانا چاہیے کہ کیا ہندوستان اب بھی اس منصوبے میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہیں ہے تو یہ ہندوستان کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک نقصان ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس منصوبے کی موجودہ صورتحال کیا ہے یا کیا فی الحال اس کے سرمایہ کاری سے متعلق ذمہ داریاں پوری ہو چکی ہیں۔ چابہار کا منظرنامے سے غائب ہونا مغربی ایشیا کی سفارت کاری میں ہندوستان کے لیے دوسرا اسٹریٹجک دھچکا دکھائی دیتا ہے۔ ہندوستان پہلے ہی تاجکستان کے آیَنی فضائی اڈے کو بند کر چکا ہے۔ کانگریس رہنما نے اس منصوبے کی صورتحال پر حکومت سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانی میں تسلسل ایک بنیادی حقیقت ہے، جسے وزیراعظم کبھی قبول نہیں کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ 1990 کی دہائی کے آخر سے ہی ہندوستان نے ہندوستان-افغانستان-ایران تعاون حکمت عملی کے تحت ایران کے چابہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری کے امکانات تلاش شروع کیے تھے۔ تہران میں منعقدہ 16ویں غیرجانبدار سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ان منصوبوں کو نئی رفتار دی اور مئی 2013 میں کابینہ نے چابہار میں ابتدائی طور پر 115 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی منظوری دی۔ یہ فیصلہ اس وقت لیا گیا تھا جب ہندوستان اکتوبر 2008 میں دستخط شدہ ہندوستان-امریکہ جوہری معاہدے کو نافذ کرنے کے لیے بڑے اقدامات کر رہا تھا۔












