ایک ایسے دور میں جب پرنٹ میڈیا کو بے وقار کرنے کی ساری سازشیں مکمل ہو چکی ہیں اور ڈیجیٹل میڈیا کے نام سے ایک ایسی برق رفتار میڈیا نے پورے عالم کو اپنی دسترس میں لے لیا ہے کہ قلم اپنی کم مائیگی پر خجل ہے اور اخبار اپنے قاری کی تلاش میں سرگرداں۔اب خبریں کہیں سے حاصل کرنے سے زیادہ بنائی جاتی ہیں اور حکومت وقت کی ناکامی کو کامیابی کے قصیدے بنا کر ،ہزیمت کو سرخروئی بتا کر موٹی موٹی رقم وصول کی جاتی ہے لیکن نہ عوام پر اس کا کوئی اثر ہوتا ہے اور نہ کوئی تحریک کھڑی ہوتی ہے۔حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ جس جمہوریت کے زینے پر چڑھ کر ایک معمولی سا شخص ملک کا سربراہ بن جاتا ہے وہی اس زینے کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے درپے ہو جاتا ہے لیکن ملک کے لوگ اسے کرشمائی لیڈر قرار دے دیتے ہیں۔سیاست کا مفہوم بدل کر رکھ دینے والے ناہنجار لوگوں کا گروہ جنہیں اقتدار حاصل کرنے کی تگ ودو کے سوا کوئی کار خیر کا کام نہیں آتا وہ لیڈر کہلاتا ہے اور کہیں سے کوئی آواز نہیں اٹھتی۔پورا ملک بے روزگار نوجوانوں کی جوانی کو گھن لگتے دیکھ رہا ہے لیکن آستھا کی بانسری بجانے میں مست ہے۔اور ان کے اس استغراق کو دیکھ کر سیاسی بالشتے گز گز بھر کی زبان سے نفرت کی چنگاریاں اچھال رہے ہیں۔خود کو وشو گرو کی دوڑ میں شامل جس شخص کو یہ بھی نہ معلوم ہو کہ تاریخ میں قطع و برید سے ملک بڑا نہیں ہوتا بلکہ جغرافیہ میں توسیع کرنے سے ملک بڑا ہوتا ہے۔عوام سے ٹیکس کے نام پر خون چوسنے والے بادشاہوں کے انجام سے ناواقف سیاسی بازیگر کو اپنی تباہی کے قدموں کی دھمک کا احساس بھی کہاں ہوتا ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایک شخص خود پسند ہے تو کیا اس ملک کی مٹی نے بھی دانشوروں کو پیدا کرنا بند کردیا ہے ؟کیا گاندھی کی دھرتی گاندھی کاخون پینے کے بعد بانجھ ہوگئی ہے ؟ملک کی بربادی کا تماشہ دیکھنے والے ایک سو تیس کروڑ ہندوستانیوں کو سر نہوڑائے قطار در قطار دیکھ کر تو یہ لگتا ہے کے بے لگام قیادت کے جبر نے سب کے جبڑوں کو توڑ دیا ہے اور اس دھرتی سے قدرت نے اس کامان ہی چھین لیا ہے۔ملک میں کسی اژدہے کی طرح بیروزگار نوجوان نسل کو نگلتی جا رہی ہے لیکن بادشاہ وقت کے خطاب میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔عام انتخاب کی تیاری زوروں پر ہے اور وزیر اعظم بی جے پی کے یوم تاسیس کے موقعہ پر بھی صرف اپنی رطب اللسانی میں مصروف ہیں۔اور وہ بھی پردے کے پیچھے سے۔وہ سب کاساتھ اور سب کا وکاس بھولنے کو تیار نہیں۔اور ملک میں بی جے پی کے لیڈروں،ان کے پسندیدہ میڈیا چینلوں اور ہردلعزیز تجارتی گھرانوں میں سےکوئی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ 2014سے اب تک وکاس نام کے کسی معمولی بیل بوٹے کی بھی پیداوار یہاں نہیں ہوئی ہے۔موصوف کہتے ہیں کہ بی جے پی جمہوریت کے بطن سے پیدا ہوئی ہے لیکن جب سے موصوف گدی پر سوار ہوئے ہیں ان کے اور ان کے وزیر خاص کے علاوہ کسی وزیر مشیر کا نام بھی کوئی نہیں جانتا۔جمہوری اقدار کی بات کرنے والے حضرت والا سے گذشتہ ایک ماہ سے حزب اختلاف یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ اڈانی سے اپنے رشتہ کی وضاحت کریں لیکن جمہوریت کے بطن سے پیدا ہونے والی پارٹی کو جواب دینے سے پرہیز ہے۔اور کیوں نہ ہو”اڈانی“ کا نام لیتے ہی ایک پورے سحر کے ٹوٹ جانے کا یقین ہے،وہ سحر جو 2014 سے ملک پر طاری ہے اور میڈیا کے ذریعہ مسلسل یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ ایک سو تیس کروڑ آبادی مودی کے ساتھ ہے۔اور جیسے ہی اس جھوٹے پرچار کے خلاف کسی چینل یا اخبار نے آواز اٹھائی اس پر ملک سے غداری کا الزام لگا کر بند کر دیا گیا۔40 فیصد ووٹ حاصل کر کے جگاڑ سے 303نشستیں حاصل کرنے والے وزیر اعظم کو تاریخ سے کوئی دلچسپی ہوتی تو انہیں معلوم ہوتا کہ اسی ملک کے ایوان میں راہل کے والد راجیو گاندھی کے پاس چار سو سے زیادہ سیٹیں تھیں لیکن اس نے اس کا پرچار کرنے کی جگہ ملک میں کمپیوٹر انقلاب برپا کیا ،ٹیلی مواصلات کو عام کیا۔
ایمر جنسی کانگریس کے دور اقتدار کا سیاہ صفحہ اس لئے ہے کہ اس میں بولنے اور لکھنے نیز سوال پوچھنے کی آزادی ختم ہو چکی تھی تو پھر ہم موجودہ دور کو ایمرجنسی کا دور کیوں نہیں کہہ سکتے جس میں حکومت وقت سے سوال پوچھنے والوں کو نہ صرف سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے بلکہ ان کی ممبر شپ بھی ختم کر دی جاتی ہے۔












