جھانسی، (یو این آئی) سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے ہفتہ کے روز کہا کہ انہیں پہلے این ایس جی سکیورٹی فراہم کی گئی تھی جسے بعد میں واپس لے لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہیے تھا کہ این ایس جی سکیورٹی کیوں ہٹائی گئی۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر یادو نے کانگریس رہنما راہل گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ایس پی جی سکیورٹی بھی واپس لے لی گئی اور ان کی سرکاری رہائش گاہ بھی خالی کرائی گئی ۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کے سکیورٹی پروٹوکول کے تحت جو سہولت ملنی چاہیے وہ ضرور ملنی چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت سب کی توہین کرتی ہے۔ پریاگ راج کے ماگھ میلے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شنکراچاریہ اور بٹکوں کی توہین ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی غلطی ہوئی ہو تو وزیر اعلیٰ کو معافی مانگنی چاہیے تھی۔ اکھلیش یادو نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا، یوگی وہ ہوتا ہے جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے لیکن موجودہ حکومت عوام کی تکلیف کے تئیں حساس نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلڈوزر کارروائی پر حکومت خوشی کا اظہار کرتی ہے اور آئین و قانون کی پاسداری نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ سال 2017 میں داخل کیے گئے حلف نامے میں درج مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پر سنگین الزامات لگائے گئے تھے اور بعد میں مقدمات واپس لے لیے گئے۔ آئندہ انتخابات کے بارے میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو جزوی طور پر باہر کیا جا چکا ہے اور 2027 کے اسمبلی انتخابات میں عوام سماج وادی پارٹی کو تاریخی کامیابی دلائیں گے۔












