کلکتہ (یواین آئی) ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال کے گورنر سی وی آنند بوس کے خلاف چھیڑ چھاڑ کے الزامات کے خلاف کلکتہ میں راج بھون کے قریب مظاہرہ کیا اور گورنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین، جن میں ترنمول کانگریسسے منسلک مغربی بنگال کالج اور یونیورسٹی پروفیسرز ایسوسی ایشن (ڈبلیو بی سی یو پی اے ) کے ارکان شامل تھے ، نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور نعرے لگارہے تھے ۔تاہم مظاہرین کوپولیس گورنر ہاؤس کی طرف بڑھنے سے روک دیا۔ ڈبلیو بی سی یو پی اے کے ایک عہدیدار نے کہاکہ ‘‘یہ شرمناک ہے کہ وہ اب بھی کرسی سے چپکے ہوئے ہیںہے جب راج بھون کی خاتون عملہ سمیت ایک سے زائد خواتین نے ان پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔’’ پولس شکایت میں راج بھون کی ایک خاتون کنٹریکٹ ملازم نے گزشتہ ہفتے گورنر پر اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اس ہفتے کے شروع میں پولیس نے ایک کلاسیکل ڈانسر کی طرف سے درج کی گئی شکایت کے بارے میں ریاستی سیکرٹریٹ کو ایک رپورٹ بھی پیش کی تھی کہ بوس نے 2023 میں نئی دہلی کے ایک پوش ہوٹل میں ڈانسر کو جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔ فلم ساز سدیشنا رائے ، جنہوں نے ریلی میں واک بھی کی تھی کہاکہ میں یہاں خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آئی ہوں۔ آئین کے آرٹیکل 361(2) کے مطابق صدر اور گورنر کے خلاف عدالت میں فوجداری مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ گورنر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب سیاسی بنیاد پر کئے جارہے ہیں ۔کیوں کہ وہ بنگال کے عوام کے ساتھ ہیں اس لئے انہیں اس کی سزا دی جارہی ہے ۔ مغربی بنگال کی خواتین اور بچوں کی ترقی کے وزیر ششی پانجانے کہا تھا کہ یہ ‘‘شرمناک’’ہے کہ گورنر نے اپنے عہدے کو بدنام کیا ہے اور انہیں ایک عورت پر تشدد کے لیے استعمال کیا ہے ۔ مغربی بنگال کے گورنر اور ترنمول کانگریس کی حکومت نے نومبر 2022 میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی دونوں کے درمیان تعلقات خراب ہیںاور مختلف امور پر ان کے درمیان کئی تنازعات تھے ۔












