نئی دہلی،سماج نیوز سروس: یونانی ڈے کے موقع پر لودی روڈ پر واقع اسکوپ بلڈنگ میں ایک سی ایم ای اور ایوارڈ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں آئی ایس ایم (انڈین سسٹم آف میڈیسن) ڈاکٹر سیل کی جانب سے یونانی میں حکیم امام الدین ذکائی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا تو وہیں آیوروید میں ڈاکٹر راکیش گویل کو بھی ایوارڈ دیا گیا۔ آئی ایس ایم ڈاکٹر سیل کے صدر ڈاکٹر عشرت کفیل اور پیٹرن راحت علی جبکہ جنرل سکریٹری ڈاکٹر سنیل وششٹھ نے یونانی ڈے پر حکیم اجمل خاں کی زندگی کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس موقع پر یونانی اور آیوروید کی ترقی کے لیے مقررین نے کہا کہ ہندوستانی تہذیب کے ساتھ ساتھ یونانی اور آیوروید پیتھی ایک اہمیت کی حامل ہے۔ ڈاکٹر عشرت کفیل نے کہا کہ جہاں ایک طرف حکیم اجمل خاں نے ملک کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا تو وہیں بھارت میں یونانی کی ترقی ان کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ حکیم اجمل خاں نے یونانی اور آیوروید کو ایک ساتھ رکھتے ہوئے بہت سے کام کئے ہیں۔ مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر وکاس گوسوامی اور سابق صدر ڈاکٹر بھانو پرتاپ سنگھ نے بھی اظہار خیال کیا۔ پروگرام کی نظامت حکیم و ڈاکٹر کاشف ذکائی نے بخوبی انجام دی۔ یونانی اور آیوروید میں نماییاں کامیابی حاصل کرنے والوں کو بھی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ علاوہ ازیں دہلی کے مشہور و معروف حکیم امام الدین ذکائی نے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ملنے پر کہا کہ یونانی پیتھی کا آج بھی کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ میری عمر تقریباً 80سال کے قریب ہے اور تمام زندگی یونانی طریقہ علاج کو اپناتا رہا اور آج بھی اپنے دواخانے پر یونانی طریقۂ علاج سے ہی مریضوں کا علاج کرتا ہوں۔ جس مریض کی نبض دیکھ کر اس کا حال بتا دیا جائے اُس مریض میں قدرتی فیلنگ آتی ہے اور وہ یونانی کی طرف مائل ہوتا ہے۔ مریض کے اعتماد کو بھی حاصل کرنا حکمت کا ایک حصہ ہے جس سے طبیب کے ہاتھوں میں شفا کی بات کہی جاتی ہےحالانکہ شفا دینا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔میں بار بار زور دیتا ہوں کہ یونانی طریقۂ علاج میں ایمانداری، دیانتداری اور اخلاق کا اہم کردار ہوتا ہے۔












