
ہمارے ملک میں صدیوں سے یونانی طریقہ علاج رائج ہے۔ انسانی صحت کی حفاظت یا اسے قائم رکھنا طبّ یونانی کا ایک اہم اور بنیادی مقصد ہے۔ چنانچہ اطباء نے اس فن شریف کی تعریف میں لکھا ہے:”یہ ایک ایسا علم ہے، جس میں انسان کے جسم کو صحت مند رکھنے کے اصول و قوانین بیان کیے گئے ہیں اور اگر انسانی جسم صحت مند نہ ہو تو بیماری کا ازالہ کر کے اسے دوبارہ صحت مند بنانا بھی اس کا مقصد ہے۔”طبّ یونانی کی بڑی تابناک تاریخ رہی ہے۔ یہ قدیم یونان (موجودہ گریک) میں پیدا ہوئی۔ دنیا کے بہت سے علوم و فنون کے ابتدائی نقوش بھی یونان میں پیدا ہوئے۔ عربوں نے اپنی بے پناہ علم دوستی کے سبب جہاں یونان کے بہت سارے علوم و فنون سے استفادہ کیا وہیں یونانی طریقہ علاج کو بھی اپنایا اور اپنی فطری دید و دریافت سے اس میں اس وسعت پیدا کی۔عربوں اور ان کے پروردہ علوم و فنون کی زوال کے بعد طب یونانی عربوں سے نکل کر وسط ایشیا اور ایران پہنچی۔ یہی وہ خطّہ ہے جہاں اس فن کی وہ تاریخ ساز کتابیں لکھی گئیں جن سے صدیوں تک اہل یورپ نے استفادہ کیا اور آج بھی یہ کتابیں بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ طبّ یونانی کے عروج و ارتقا میں بقراط (BC377 – 460:Hippocrates) کی خدمات اہم ہیں۔ اس نے اس فن کو عوام النّاس میں متعارف کرایا، لوگوں کو اس جانب ترغیب دلائی، اس کے اصول و ضوابط وضع کیے اور اپنے مشاہدات وہ تجربات کے ذریعہ اس نظام علاج کو بام عروج تک پہنچایا اور ابو الطِب کا خطاب حاصل کیا۔ بعد ازاں ارسطو، جالینوس، ابوبکر زکریا رازی، ابن سینا، ابو القاسم زہراوی، ابن زہر اور ابن رشد وغیرہ نے اپنے اپنے عہد میں اس میں گراں قدر اضافے کیے۔ہندوستان میں طب یونانی کی تاریخ ایک ہزار سال سے بھی قدیم ہے وسط ایشیا سے مسلمان اطبّاء کے ساتھ یہ فن ہندوستان میں داخل ہوا۔ مسلمان حکمراں، جنگجو قبیلوں، فوجوں اور علم بردوش قافلوں کے ساتھ بڑے بڑے جید طبیب ان کے علاج کے لیے ہمراہ آئے۔عہد سلاطین اور دورِ مغلیہ طبّ یونانی کا درخشاں دور تھا۔ برطانوی دور حکومت میں اس کی بقا اور ترقی کے راستے میں مشکلات حائل ہوئیں لیکن چونکہ عوام النّاس اس طریقہ علاج پر یقین رکھتے تھے، اس لیے یہ فن زندہ رہا اور دہلی میں خاص طور پر خاندانی شریفی، لکھنوء میں خاندان عزیزی، الہ آباد میں خاندانی عثمانی اور نظام حیدر اباد کی مسلسل جدوجہد کے باعث برطانوی دور حکومت میں بھی اس کی شمع روشن رہی۔ وقتاً فوقتاً عظیم الشّان علمی و فنی ذخیروں اور تجربات کو محفوظ رکھنے اور انہیں عوامی زندگی میں بامعنی بنانے کے لیے مسیحائے طب بھی پیدا ہوتے رہے۔ اس کے عظیم محافظوں میں حکیم محمد اکبر ارزانی، حکیم محمد اعظم خاؓں، حکیم محمد یعقوب لکھنوی، حکیم عبدالعزیز لکھنوی، حکیم خواجہ شمس الدّین، شفاءالملک حکیم رضئ الدّین، احمد حکیم رشید احمد خاں، مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں، حکیم سعید احمد خان، حکیم محمد الیاس خاں، حکیم چنّو میاں، حکیم غلام کبریا عرف بھورے میاں، علّامہ حکیم محمد کبیر الدّین بہاری، حکیم محمد عبدالرزّاق، حکیم عبدالحمید (بانی ہمدرد)، شہید حکیم محمد سعید دہلوی (پاکستان) نے جو کارنامے انجام دیئے، تاریخ انہیں کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ ان خادمینِ طب و دانشورانِ فن کی انتھک کوششوں سے طبّ یونانی کو جو فروغ اور عزّت و افتخار حاصل ہوا، اس کے لیے جہانِ طب میں یہ سدا جذبہ ممنونیّت کے ساتھ یاد رکھے جائیں گے۔مجاہدِ آزادی بابائے طِب مسیح الملک حکیم محمد اجمل خاں قد آور شخصیت کے حامل تھے۔ ہندوستان میں طبّ یونانی اور آیوریدک کے باب میں کوئی وقیع کام حکیم صاحب کے تذکرہ کے بغیر تشنہ اور نامکمّل رہے گا۔ وہ خاندانِ شریفی کے چشم و چراغ تھے۔ انہوں نے یونانی اور آیورویدک طریقہ علاج کے لیے قومی یکجہتی کا علمبردار ادارہ ” آیورویدک اینڈ یونانی طبّیہ کالج” کے قیام کا خاکہ پیش کیا اور اس کی بنیاد قرول باغ، دہلی میں 29 مارچ 1916 کو رکھی گئی اور افتتاح 13 فروری 1921 کو عمل میں آیا۔سرزمین ہند میں طبّ یونانی کے زندہ اور قائم رہنے نیز ترقی کرنے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی رہی کہ ہندوستان فطرت کے پیدا کیے ہوئے نباتاتی خزانوں سے مالا مال رہا ہے اور ملک میں جڑی بوٹیوں سے علاج کی ایک روایت پہلے سے ہی چلی آرہی تھی، اسی لیے طب یونانی کو بھی نشو نما کا موقع ملا۔ ملک میں دوائی پودوں (Medicinal Herbs) کی کثرت کے سبب اس میں استعمال ہونے والی دوائیں وافر مقدار میں اور سہولت سے دستیاب ہو جاتی ہیں، گویا ہندوستان کی فضا اور آب و ہوا طبّ یونانی کی بقا اور ہمہ جہت ترقی کے لیے موافق اور سازگار ملی، اسی لیے اس ملک میں اس فن نے اتنی ترقی کی کہ آج اس نظامِ علاج کے ماہرین قومی صحت کے ہر میدان میں اپنا کردار بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں۔ماہرین طب نے مشاہدات اور فلسفے کو تجربات کی کسوٹی پر پرکھا اور اس فن کو خامیوں سے پاک کیا اور ضرورت کے مطابق اس میں ضروری حذف و اضافے بھی کیے۔ یہ بات مسلم ہے کہ امراض کا علاج ایک تربیتی اور تجرباتی عمل ہے، جس میں مریض کی مکمّل روداد، مزاج، خاندانی حالات وہ اثرات، مختلف تکالیف وہ علامات کا ریکارڈ، جسمانی و ظاہری مشاہدہ، نبض، بول و براز کا معائنہ اور دیگر بہت سے امتحانات کو بروئے کار لایا جاتا رہا ہے۔ یہ سب کسی یک لخت کامیابی وہ کوشش کا نتیجہ نہیں، بلکہ اطباء کی برسوں کی محنتوں اور کاوشوں کا نتیجہ اور ان کے تجربات کا ثمرہ ہے۔23 جون 2000 عیسوی کو ڈائریکٹوریٹ آف انڈین سسٹم آف میڈیسن اینڈ ہومیوپیتھی (ISM&H) جو اب محکمہ آیوش (AYUSH) بن چکا ہے، نے نوٹیفکیشن جاری کر کے یونانی اور آیوروید دواسازی کے طریقہ کار کو جی ایم پی (GMP) اسٹینڈرڈ کے مطابق کرنے کا حکم صادر فرمایا تاکہ عالمی بازار میں یونانی اور آیوروید دواؤں کو بطریق احسن متعارف کرایا جا سکے۔جی ایم پی (GMP) طریقہ کار کا مقصد ہر مرحلے پر اوّل تا آخر کوالٹی کنٹرول یعنی غلطی، خامی یا کمی کے امکانات کو ہر سطح پر ختم کرنا ہے۔ دوا سازی کا کام کوالیفائڈ اور ماہرین فن پر مشتمل فعال ٹیم کے ذریعہ ایک متعینہ نظام کے تحت انجام دینا ہے۔ یعنی جی ایم پی (GMP) قوانین کے نفاذ کا مقصد ہے کہ دوا بازار میں آنے سے قبل متعینہ اسٹینڈرڈ (Parameters) کے مطابق تیّار ہونے اور اعلی معیار کی تصدیق (کوالٹی چیکنگ) کے بعد ہی صارفین کے ہاتھوں میں آئے تاکہ عوام یاصارفین کو کسی بھی اندیشہ یا نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔ طبّ یونانی کے حوالے سے ہندوستان کو پوری دنیا میں ممتاز مقام حاصل ہے اور الحمدللّٰہ یہ فن ترقی کی شاہرہ پر رواں دواں ہو کر روشن مستقبل کی جانب گامزن ہے۔
حکیم محمد اعجاز احمد اعجازی
ایم۔ ڈی ۔ ناز ہربل فارمیسی چیف ۔ پریس اینڈ میڈیا، اُڈما












