واشنگٹن، (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ سے متعلق کچھ ایسا کریں گے کہ نیٹو بھی خوش ہواورہم بھی۔ ایک بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ نیٹو کے پاس امریکہ نہیں تو نیٹو زیادہ مضبوط نہیں، نیٹو کے لیے جتنا کام میں نے کیا، کسی شخص یا صدر نے نہیں کیا، اگر میں ساتھ نہ دیتا تو آج نیٹو موجود ہی نہ ہوتا اور تاریخ میں راکھ کا ڈھیر بن جاتا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ سابق وینزویلاصدرمادورو سے جیل میں ملاقات کرنے میں دلچسپی نہیں۔ ٹیرف سے متعلق ٹرمپ نے کہا کہ سپریم کورٹ ٹیرف سے متعلق کیا فیصلہ دے گی، معلوم نہیں،کیس ہارگئے تو سیکڑوں ارب ڈالر کے ٹیرف واپس کرنا پڑسکتے ہیں، ٹیرف قانونی طور پر نافذ کیے گئے اور اب وصولیاں واپس کرنا مشکل ہوگا۔دریں اثنا ء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو قومی سلامتی کے لیے ایک اہم خطہ قرار دیتے ہوئے اس پر امریکی کنٹرول کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس دلچسپی کے پس منظر میں ٹیکنالوجی سیکٹر کے معاشی مفادات نمایاں طور پر سامنے آرہے ہیں۔ گرین لینڈ کا وسیع رقبہ، نایاب معدنی ذخائر اور کم آبادی اسے جدید صنعتی ضروریات کے لیے ایک اہم مقام بناتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکی ٹیک ارب پتی ٹرمپ کی 2024 کی صدارتی انتخابی مہم کے بڑے مالی معاونین میں شامل رہے، جس کے بعد گرین لینڈ سے متعلق امریکی پالیسی میں سرگرمی دیکھنے میں آئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار اگست 2019 میں اپنی پہلی صدارت کے دوران گرین لینڈ کے حوالے سے بات کی تھی اور اسے ایک بڑا رئیل اسٹیٹ معاہدہ قرار دیا تھا، تاہم اس وقت انہوں نے اسے اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کیا تھا۔ حالیہ برسوں میں ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو بار بار ایک اہم موقع قرار دیا جارہا ہے، انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے متعدد مواقع پر کہا کہ امریکا نے ماضی میں گرین لینڈ کے حوالے سے ایک موقع گنوا دیا۔ عہدہ صدارت سنبھالنے سے قبل انہوں نے گرین لینڈ پر امریکی ملکیت اور اس پر مکمل کنٹرول کو قطعی ضرورت قرار دیا تھا۔ امریکی میڈیا کے مطابق گرین لینڈ میں دلچسپی محض حکومتی سطح پر نہیں بلکہ نجی سرمایہ کاری کے حلقوں میں بھی گزشتہ کئی دہائیوں سے موجود ہے۔ ٹیک ارب پتیوں، وینچر فنڈز اور اسٹارٹ اپ کمپنیوں نے خاموشی سے اس خطے میں سرمایہ کاری کے منصوبے ترتیب دیے ہیں۔ فوربز کی رپورٹ کے مطابق بل گیٹس، مائیکل بلومبرگ اور جیف بیزوس 2019 سے کوبولڈ میٹلز میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جو نایاب معدنیات کی تلاش سے وابستہ کمپنی ہے۔ یہ سرمایہ کاری بل گیٹس کے زیر قیادت فنڈ بریک تھرو انرجی کے ذریعے کی گئی۔ سال 2022میں اوپن اے آئی کے بانی سیم آلٹ مین بھی اس کمپنی کے سرمایہ کار بنے، جبکہ دیگر رپورٹس میں مارک زکربرگ اور اینڈریسن ہارووٹز کی جانب سے مالی معاونت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کان کنی کے علاوہ گرین لینڈ کو کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کے تجربات کے لیے بھی ممکنہ مقام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پیٹر تھیل کی حمایت یافتہ اسٹارٹ اپ پراکسیس نے گرین لینڈ میں کم ضابطہ کاری پر مبنی نئے شہر کے قیام کے لیے 52 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے زائد فنڈز جمع کیے ہیں۔ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک ماضی میں کینٹر فٹزجیرالڈ کے سربراہ رہ چکے ہیں، جس سے منسلک فنڈ نے گرین لینڈ سے جڑے معدنی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق جیسے جیسے گرین لینڈ واشنگٹن کی اسٹریٹجک ترجیحات میں نمایاں ہو رہا ہے، اس خطے سے متعلق امریکی اقدامات اور نجی سرمایہ کاری کے مفادات کے درمیان تعلق پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ گرین لینڈ کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے ڈیووس روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ کلیدی خطاب کرنے والے ہیں۔












