گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں 156نشستیں حاصل کی ہیں،اپنی اس کامیابی کو وہ باعث فخر اور تاریخ ساز بتا رہی ہے ۔ سرکردہ مرکزی لیڈروں کو اس کامیابی پر اطمینان ہے وہ اسے مودی کے وکاس سے منسلک کر کے دیکھ رہے ہیں ۔اس فتح پر بی جے پی میں جشن ہے ۔قومی صدرجے پی نڈا کا کہنا ہے کہ گجرات میں مودی نے جس انتھک کوششوں کے ساتھ محنت کی ہے اور ملک کے لوگوں کی خدمت کی ہے اس کا نتیجہ ہم اس جیت میں دیکھ چکے ہیں۔ اس پر بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کیاواقعی گجرات میں ترقیاتی کام ہوئے ہیں یا پھر وہاں مذہبی کھائی پیدا کر کے اورڈیولپمنٹ کا ڈھنڈورا پیٹ کر ووٹروں کوگمراہ کیا گیا اور بے وقوف بنایا گیا ؟۔ کیاریاست میں ترقیاتی کاموں کے بل پر بی جے پی کو ووٹ ملے ہیں ؟یہ سوال اکثر لوگوں کی زبان پر ہے اورجس کا بی جے پی سے جواب مانگا جارہا ہے۔ ؟آخر کیا وجہ ہے کہ جہاں ہماچل اور دہلی میں بی جے پی کو کامیابی نہیں ملی ،اور تنہا گجرات میں اس کو فتح کیسے ہوئی ۔کیوں ہماچل میں بی جے پی نے وہ پانچ اسمبلی سیٹ گنوا دی ہیں جو مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر کے لوک سبھا کے حلقہ ہمیر پورکے تحت آتی ہیں ؟،کیوںگجرات میں حال ہی میں ایک بڑا حادثہ ہوا لیکن اس کا کہیں کو ئی اثر دکھائی نہیں دیا ؟،اور اس وقت جب گجرات میں اکثر لوگ مہنگائی اور بے روزگاری کا رونا رو رہے تھے ،ان سب فیکٹر کے باوجود بی جے پی کو فتح مل گئی!۔ناقدین اس کے پیچھے ایک منصوبہ بند ووٹ تقسیم کی حکمت عملی بتار ہے ہیں ۔جس کی وجہ سے بی جے پی کو جیت اور عام آدمی پارٹی کو محض پانچ سیٹیں ملیں ہیں ،جبکہ کانگریس کا حساب کتاب بگڑ گیا اور اسے سترہ سیٹٰں ہی ہاتھ لگیں ۔کہا جارہاہے کہ گجرات میں آپ کومیدان میں آنے کا موقع دے کر بی جے پی نے کانگریس کو بڑا نقصان پہنچایا ہے یہ اس کی حکمت عملی کا حصہ تھا ۔ اسے محض سترہ سیٹیں ہی مل پائی ہیں اور اس کا ووٹ عام آدمی پارٹی کی جھولی میں چلا گیا !۔ بی جے پی کو اندازہ تھا کہ آپ کے اترنے سے ناتو عام آدمی پارٹی کامیا ب ہو پائے گی اور ناہی کانگریس کو اس سے کوئی فائدہ ہو گا ،البتہ اس کو اپنامتحد ووٹ مل جائیگا۔شاید یہی ہوا ،کئی علاقوں میں کانگریس کو ملنے والے ووٹ عام آدمی کی طرف چلے گئے اور اس سے بی جے پی کو بڑا فائدا ہوا ۔اب کانگریس کو سترہ سیٹیں ملی ہیں جس سے وہ اپوزیشن پارٹی کے درجے تک نہیں پہنچ پائی یہ اس کا حشر ہوا ہے!۔کہا جاتا ہے کہ عام آدمی پارٹی نے ایک دبائو اورحکمت عملی کے تحت گجرات میں مہمات اورکوششوں سے ہاتھ کھینچ لیا تھا ،تاکہ اس سے کہیں بی جے پی کو نقصان نا اٹھانا پڑ جائے۔اس سے قطع نظر سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ گجرات کے عوام کئی خانوں میں بنٹے ہوئے تھے ۔کچھ بی جے پی سے جڑے رہنا چاہتے تھے ،شاید ان کو خوف تھا کہ اگر انہوںنے بی جے پی کا دامن چھوڑ دیا تو انہیں دوسری پارٹیاں چوٹ پہنچائیں گی ،وہیں ایک خیمہ ایسا رہا جو بی جے پی کی موقع پرست سیاست سے بے پرواہ محض اس کی مذہبی سیاست سے خوش تھا ،وہیں ایک طبقہ ایسا تھا جو اس کے ترقیاتی کاموں کے پرو پیگنڈے پر یقین کر کے اپنا ووٹ دے بیٹھا تھا۔ یہی وجہ رہی کہ گجرات میں بی جے پی کو ریکارڈ ساز سیٹیں حاصل ہو گئیں ۔ناقدین کا خیال ہے کہ یہی حال رہا اور اگر اپوزیشن پارٹیاں متحد نہیں ہوئیں ،تو بی جے پی کو لوک سبھا میں 400سیٹوں کے ہدف سے کوئی نہیں روک سکتا !۔
اس میں شک نہیں کہ ہماچل اور دہلی میں بی جے پی کی ہار تعجب خیز ہے ۔جہاںدہلی میں پندرہ سال سے کارپوریشن پر بی جے پی قابض تھی اور ا سکے باوجود ہار گئی ،وہیں ہماچل میں اس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔پھر سوال یہ ہے کہ جب دہلی اور ہماچل میں مودی کا ترقیات اور وکاس کا فیکٹر اپنا جادو نہیں دکھا سکا تو گجرات میں وہ کیسے کمال دکھا گیا ؟اس کا جواب بی جے پی کو دینا چاہئے اور لوگوں کو مطمئن کرنا چاہئے۔کیونکہ گجرات میں ایک طبقہ بلقیس بانو کیس کے گیارہ مجرموں کی معافی اور رہائی پر حکمراں گجرات و مرکزی حکومت سے نالاں تھا تو وہیں بہت سے لوگ موربی پل سانحہ کے زخم سے چور تھے اور گجرات حکومت پر برہمی ظاہر کررہے تھے۔ناقدین کا خیال ہے کہ گجرات میں کانگریس کو ختم کرنے کے لئے اور اسے اپوزیشن سے دور رکھنے کے لئے عام آدمی پارٹی کا سہا را لیا گیا تاکہ بی جے پی کو جیت کا سہرہ نصیب ہو سکے ۔












