غزہ :حماس نے چاروں لاشیں خان یونس میں ریڈ کراس کے سپرد کیں۔ اس موقع پر حماس کی جانب سے بینرز بھی آویزاں کیے گئے، جن پر لکھا تھا کہ "نیتن یاہو اور اس کی نازی فوج نے صیہونی طیاروں سے بمباری کر کے یرغمالیوں کو قتل کیا۔”حماس کا کہنا ہے کہ "ہم نے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر کے لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔” اس معاہدے کے تحت حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے۔اسرائیل اور حماس کے درمیان کئی ماہ سے جاری تنازع کے بعد جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جس کے نتیجے میں یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع کیا گیا۔ تاہم، اسرائیلی فضائی حملوں میں مسلسل شدت دیکھی جا رہی ہے، جس کے باعث کئی یرغمالی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
دریں اثنا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یایو نے آج جمعرات کے روز کو اسرائیل کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور دل دہلا دینے والا دن قرار دیا ہے ۔ وہ ساڑھے پندرہ ماہ تک اسرائیل کی اپنے اتحادیوں کی غیر معمولی مدد سے جاری رکھی گئی جنگ کے باو جود رہا نہ کرا ئے جا سکے ان اسرائیلیوں کا ذکر کر رہے تھے جو اس دوران ہلاکت کو پہنچ گئے ۔ مگر زندہ تو در کنار مردہ حالت میں بھی اسرائیل کی فوج انہیں حماس سے نہ چھڑا سکی ۔
یاد رہے اسرائیل نے ساڑھے پندرہ ماہ تک اپنے تباہ کن جنگ کے جاری رکھنے کے ہمیشہ تین بڑے اہداف بتائے تھے۔ پہلا یہ کہ غزہ میں قید اسرائیلیوں کو چھڑوا لے جانا، دوسرا یہ کہ حماس کا خاتمہ کرنا اور تیسرا یہ کہ غزہ سے حماس کی مزاحمتی قوت سمیت اسرائیل کے لیے کسی بھی قسم کے خطرے کا امکان باقی نہ رہنے دینا ہے۔لیکن اسرائیل کی اس سب سے طویل جنگ کے لڑے جانے کے بعد بھی کوئی مقصد حاصل نہ ہو سکا۔ یہاں تک کہ اسرائیل کو حماس کے ساتھ ہی سمجھوتہ کرکے 19 جنوری سے جنگ بندی کرنا پڑی۔ اس جنگ بندی کا پہلا مرحلہ یکم مارچ تک جاری رہے گا اور وعدے کے مطابق 33 اسرائیلیوں کو رہا کرے گا۔ ان 33 میں کئی ہلاک شدہ اسرائیلی قیدی بھی ہیں ۔












