غزہ :اسرائیلی فوج نے منگل کو غزہ اور مصر کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہ رفح کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔روئٹرز کے مطابق فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ اسرائیلی ٹینکوں اور طیاروں نے رات بھر رفح کے کئی علاقوں اور مکانات پر گولہ باری کی جس سے 20 فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
غزہ بارڈر کراسنگ اتھارٹی کے ترجمان ہشام عدوان نے کہا کہ ’اسرائیل نے رفح بارڈر کراسنگ کی بندش کے بعد پٹی کے رہائشیوں کو موت کی سزا سنائی ہے۔‘اسرائیل رفح میں ایک بڑی دراندازی شروع کرنے کی دھمکی دیتا رہا ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہاں حماس کے ہزاروں جنگجوؤں اور ممکنہ طور پر درجنوں یرغمالیوں کو پناہ دی گئی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ رفح پر کارروائی کے بغیر فتح ناممکن ہے۔غزہ کی سرحدی اتھارٹی کے ایک ترجمان نے روئٹرز کو بتایا کہ تباہ شدہ غزہ میں امداد کے لیے ایک اہم راستہ رفح کراسنگ اسرائیلی ٹینکوں کی موجودگی کی وجہ سے بند ہے۔ اسرائیل کے آرمی ریڈیو نے پہلے اعلان کیا تھا کہ اس کی افواج وہاں موجود ہیں۔
دریں اثنافلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے اسرائیل کی طرف سے رفح پر حملے کی علامات میں تیزی آنے کے ساتھ ہی اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج یاد رکھے ، اس کے لیے رفح پکنک پوائنٹ ثابت نہیں ہو گا۔ خیال رہے امکانی حملے کی تیاری کی تازہ علامات سے پہلے بھی رفح پر حملے کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ، سمیت تقریباً تمام اہم عہدے داروں کے انتباہ اور دھمکیاں مسلسل جاری تھے۔
پیر کے روز اس سلسلے میں اسرائیلی فوج نے رفح سے فلسطینی عوام کو جبری طور پر انخلا کرنے کے لیے کہنا شروع کر دیا یے۔ اسی کے رد عمل میں حماس نے بھی اسرائیل کو خبر دار کیا ہے کہ رفح پر زمینی حملے کے بعد اسرائیلی فوج کے لیے یہ پکنک پوائنٹ نہیں ہو گا بلکہ اسرائیلی فوج کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔حماس کی طرف سے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی فوجی حملے کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ خیال رہے رفح غزہ کا انتہائی جنوب میں واقع شہر ہے جو مصری سرحد پر واقع ہے۔ اس شہر میں مصر اور غزہ کے درمیان آمدو رفت اور نقل و حمل کے لیے اہم ترین راہداری بھی ہے۔
رفح میں غزہ سے بے گھر ہو کر آنے والے لاکھوں فلسطینی بھی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ جنہیں اسرائیلی فوج نے ایک مرتبہ پھر نقل مکانی کے لیے مجبور کرنا شروع کر دیا ہے۔ تاہم حماس کے سینئیر رہنما فلسطینیوں کی رفح سے جبری بے دخلی کے بارے میں کہا ہے کہ اس کے اثرات ہوں گے اور اسرائیل کو بھی بھگتنا پڑے گا اس ذمہ دار نے کہا جنگ کا پھیلاؤ بہت خطرناک ثابت ہو گا۔












