غزہ:حماس کے ایک سینیئر اہلکار نے اتوار کو اے ایف پی کو بتایا کہ غزہ میں 11 ماہ سے زائد کی جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے باوجود فلسطینی تحریک کے پاس اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے کافی وسائل موجود ہیں۔
اسامہ حمدان نے استنبول میں ایک انٹرویو کے دوران اے ایف پی کو بتایا، "مزاحمتی گروپ جنگ جاری رکھنے کی اعلیٰ صلاحیت رکھتا ہے۔” نیز انہوں نے کہا، لوگ شہید ہوئے اور قربانیاں بھی دیں لیکن بدلے میں ہمیں تجربات کا ایک خزانہ ملا اور مزاحمتی گروپ میں نئی نسل کے افراد بھرتی ہوئے۔”
اسرائیلی وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ نے چند دن قبل صحافیوں کو بتایا تھا کہ حماس غزہ میں ایک فوجی قوت کے طور پر "اب مزید موجود نہیں” رہی۔ حمدان کے یہ تبصرے اس کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے اتوار کو کہا، "ہلاکتوں کی تعداد۔۔ اس سے بہت کم ہے جو اس پیمانے، سطح اور حجم کی لڑائی میں متوقع ہوتی ہے۔”نیتن یاہو نے سات اکتوبر کے حملے کے بعد حماس کے خاتمے کا عزم کیا تھا۔ انہیں ایک معاہدہ طے کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے ملکی دباؤ کا سامنا ہے جس میں فلسطینی قیدیوں کے بدلے یرغمالیوں کو رہا کیا جائے۔
اسرائیل نے اس ماہ اعلان کیا کہ غزہ کی ایک سرنگ سے چھ مغویوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں جنہیں حماس نے پھانسی” دے دی تھی۔ اس سے اسرائیل میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جس کے نتیجے میں ایک مختصر عام ہڑتال اور بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے جو ہفتہ کی رات تل ابیب اور یروشلم میں جاری رہے۔امریکہ، مصر اور قطر کی ثالثی میں جنگ بندی کے لیے کئی مہینوں سے جاری مذاکرات بظاہر تعطل کا شکار ہیں۔اتوار کو انٹرویو میں حمدان نے کہا، اسرائیل کا اہم ترین فوجی حمایتی امریکہ نیتن یاہو کو جنگ میں نرمی پر مجبور کرنے کے لیے کافی دباؤ نہیں ڈال رہا جس سے خونریزی ختم ہو جائے۔
حمدان نے کہا، "امریکی انتظامیہ اسرائیل پر کافی یا مناسب دباؤ نہیں ڈالتی۔ بلکہ یہ اسرائیلی فریق کے کسی بھی وعدے سے بچنے کا جواز پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔”
اس ماہ کے شروع میں حکام کے چھے یرغمالیوں کی ہلاکت کے اعلان کے بعد دو پریس کانفرنسوں کے دوران نیتن یاہو نے کہا کہ یہ حماس ہی تھی جس نے سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا اور باقی ماندہ اختلافی نکات پر "دباؤ میں نہ آنے” کا عزم کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کی فوجی مہم میں حماس کے ہلاک شدہ مزاحمت کار "17,000 سے کم نہیں” تھے۔
دریں اثنافلسطینی عہدیداروں نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کے دو حملوں میں غزہ کی پٹی میں چار بچوں اور پانچ خواتین سمیت 16 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ پیر کی صبح کے وقت وسطی غزہ کی پٹی میں النصیرات پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر حملہ کیا گیا جس میں کم از کم 10 افراد کی موت ہوگئی ۔ جن میں چار خواتین اور دو بچے شامل ہیں۔ لاشیں وصول کرنے والے العودہ ہسپتال نے کہا کہ 13 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔ہسپتال کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ مرنے والوں میں ماں اور اس کا بچہ اور پانچ دیگر رشتہ دار بھی شامل ہیں۔ حماس حکومت کے زیر انتظام سول ڈیفنس کے مطابق غزہ شہر میں ایک اور حملے کے نتیجے میں چھے افراد کی موت ہوگئی جن میں ایک خاتون اور دو بچے بھی شامل ہیں۔
حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت نے پیر کو بتایا کہ غزہ جنگ میں سات اکتوبر سے اب تک کم از کم 41,226 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جس کا اب 12واں مہینہ جاری ہے۔
وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق مذکورہ تعداد میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی 20 اموات شامل ہیں جبکہ سات اکتوبر سے شروع ہونے والی اس جنگ میں زخمیوں کی تعداد 95,413 ہو گئی ہے۔












