فلسطین اسرائیل جنگ میں حزب اللہ کی انٹری کے تصور سے ہی اسرائیلی اور امریکی فوجیوں کے چھکے چھوٹ رہے ہیں ۔اور اسرائیل و امریکہ بار بار دھمکی دینے پر مجبور ہے کہ اگر حزب اللہ نے مداخلت کی تو وہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دینگے ۔ حالانکہ یہ دھمکی کس قدر مضحکہ خیز ہے کہ ایک طویل عرصہ سے حزب اللہ نے ان سوپر پاورس کوناکوں چنے چبوا رکھا ہے لیکن اس کا کچھ بگاڑنے کے بجائے بالاخر سمجھوتے پر مجبور ہونا پڑا ان قوتوں کو بھی جو شام میں سعودی عرب کے حلیف تھے ۔حالانکہ ایک مہینے کی جنگ کے دوران کہیں سے یہ مصدقہ خبر نہیں آئی ہے کہ حزب اللہ غزہ میں حماس کے ساتھ مل کر لڑ رہا ہے لیکن یہ خبریں ضرور آرہی ہیں کہ وہ جلد ہی مداخلت کرسکتا ہے ۔جہاں تک مداخلت کی بات ہے تو پورا عرب مداخلت کر سکتا ہے ،ایران کے مداخلت کی بات تو یوں بھی مانی جا سکتی ہے کہ وہ بار بار اس قسم کا بیان بھی دے رہا ہے ۔اس جنگ کے دوران جس طرح دنیا ایک بار پھر دو بلاک میں بٹی ہوئی نظر آ رہی ہے اس کا ایک بلاک جو امریکہ مخالف ہے اس کی جانب سے اسرائیل کو برابر دھمکی بھی دی جا رہی ہے ۔لیکن ان سب کا نتیجہ کچھ بھی نکلتا نظر نہیں آ رہا ہے ۔غزہ پر اسرائیلی بمباری کو ایک ماہ ہو نے کو ہیں اور ایک محدود اندازے کے مطابق ابھی تک وہاں دس ہزار سے زیادہ فلسطینیوں نے اپنی جان گنوا دی ہے ۔اس تعداد میں بچوں کی تعداد بھی بہت ہے جن فرشتوں کو ابھی دنیا دیکھنی تھی یا جنہیں اس دنیا کو از سر نو تعمیر کرنا تھا ۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ابھی تک حماس اپنی جنگ خود لڑ رہا ہے ۔کئی دن سے یہ شور تھا کہ جمعہ کے دن حزب اللہ کے چیف حسن نصراللہ کوئی اہم بیان دینگے جس کے بعد اسرائیلی فوجیوں کی درندگی پر روک لگیگا لیکن جمعہ بھی گذر گیا ۔حسن نصر اللہ کا بیان بھی آیا لیکن اتنا سدھا ہوا بیان جس کے مقابلے کسی بڑے سیاستدان کا بیان بھی پھیکا ثابت ہو ۔در اصل ساری دنیا جان رہی ہے کہ حزب اللہ ایک طویل عرصہ سے ان اسرائیلی فوجیوں سے نبرد آزما ہے اور اس کے پاس باضابطہ ٹرینڈ فوج ہے ،آزمودہ ہتھیار ہے اور ایران سے اس کا سپلائی چین بھی ہے ۔اور یہ ساری سہولتیں حماس کے پاس بہر حال نہیں ہیں ۔ وہاں تو ابھی تک جو دیکھنے میں آیا ہے وہ صرف ان کا جذبہ ہے جو لڑ رہا ہے ورنہ موجودہ عہد میں اور وہ بھی دنیا کی سب سے بڑی قوت کے خلاف جس طرح حماس کے لوگ لڑ رہے ہیں ،ان کا کارنامہ ہے ۔گذشتہ روز حسن نصراللہ نے بعد از جمعہ اسرائیل حماس جنگ پر بات ضرور کی اور اپنے موقف کی بھی وضاحت کی انہوں نے
اسرائیل کے خلاف طوفان الاقصیٰ کو انسانی، اخلاقی اور دینی اعتبار سے حق کی جنگ قرار دیا اور کہا کہ صہیونیوں کے خلاف جاری جنگ کی اخلاقی اور شرعی حیثیت پر ذرہ بھر کوئی شبہ نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سات اکتوبر کے واقعات کے محرکات پر روشنی ڈالنا، حزب اللہ کا مؤقف واضح کرنا بہت ضروری ہے، طوفان الاقصیٰ کی جنگ وسیع تر ہو کر مختلف محاذوں اور میدانوں تک پہنچ گئی ہے۔حزب اللہ سمجھتی ہے کہ اسرائیل کے خلاف طوفان الاقصیٰ انسانی، اخلاقی اور دینی اعتبار سے حق کی جنگ ہے
لیکن یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ حزب اللہ کو سات اکتوبرکے آپریشن سے متعلق کوئی پیش گی اطلاع نہیں تھی۔سات اکتوبر کے آپریشن کو انتہائی راز داری سے انجام دیا گیا۔لیکن میرا یہ ماننا ہے کہ صہیونیوں کے خلاف جاری جنگ کی اخلاقی اور شرعی حیثیت پر ذرہ بھر کوئی شبہ نہیں ہے۔
سات اکتوبر کے واقعات کے محرکات پر روشنی ڈالنا، حزب اللہ کا مؤقف واضح کرنا ضروری ہے، طوفان الاقصٰی آپریشن فلسطینیوں کی جنگ ہے اور اس کا علاقائی ممالک سے کوئی تعلق نہیں
حزب اللہ سربراہ کا کہنا تھا کہ حماس کا حملہ فلسطین کے چھپے ہوئے دشمنوں کو سامنے لے آیا ہے طوفان الاقصیٰ آپریشن صرف فلسطین اور فلسطینیوں کے لیےتھا ۔اس آپریشن سے یہ بھی پتہ چل گیا کہ کون دوست اور کون دشمن ہے۔ طوفان الاقصیٰ کا شاندار آپریشن بروقت، بہترین اورٹیکنیکل تھا اس آپریشن نے بہت سی چیزوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
اور اس بیان نے یہ بھی واضح کر دیا کہ حزب اللہ چیف بھی بیان بہادر ہی نکلے ،ان کے بیان کا ایک ایک لفظ ڈپلو میٹک رنگ میں رنگا ہوا تھا۔اس بیان کو سن کر حماس کے لوگوں کو بہت مایوسی ہوئی ہوگی ۔
رفتہ رفتہ ہی سہی یہ بات تو سب کو سمجھ میں آنے لگی ہے کہ اس جنگ میں براہ راست شامل ہو کر کوئی بھی براہ راست اسرائیل یا امریکہ کے ساتھ جنگ نہیں لڑنا چاہتا ۔کیونکہ امریکہ نے اپنے جنگی بیڑے کو تعینات کر کے اپنے ارادے کو ظاہر کر دیا ہے ۔”حزب اللہ چیف کا یہ کہنا کہ حماس کے اس آپریشن سے یہ پتہ چل گیا کہ کون دوست اور کون دشمن ہے”
بے مطلب کی بات ہے ۔ساری دنیا جان رہی ہے کہ فلسطین سے ہمدردی کرنے والے تو بہت ہیں لیکن اسرائیل یعنی امریکہ سے لوہا لینے کی حالت میں کوئی نہیں ہے ۔اب جب بات ڈپلومیسی کی ہی ہو رہی ہے تو خود حزب اللہ چیف کو یہ بتانا چاہئے کہ اگر اب ان کے سامنے دشمنوں کی فہرست مرتب ہو گئی ہے تو کیا اس میں ایران کا بھی نام ہے ؟اور نہیں تو کیوں ؟حماس آج جن حالات سے گذر رہا ہے ،غزہ کے شہریوں کی جو حالت ہے اس کے سامنے سوائے اس کے اب کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ یا تو سرینڈر کر دیں یا پھر لڑتے ہوئے جان دے دیں ۔اور غزہ کے شہریوں نے وہی دوسرا راستہ چنا ہے ۔حسن نصراللہ کے جس بیان کا انتظار سب کو تھا اور جس بیان کے بعد یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ کون دوست ہے اور کون دشمن اسی اثنا میں ہندوستان کے جید عالم مولانا ارشد مدنی کا بھی اس سانحہ پر بیان آیا ہے اور انہوں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ بھارت پہلے دن سے حماس مخالف ہے اور اس کے وزیر اعظم نے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے صاف صاف لفظوں میں کہا ہے کہ اسرائیل پر حماس کے حملے کو کسی بھی صورت دہشت گردی نہیں کہا جاسکتا وہ تو صرف اپنی کھوئی ہوئی زمین حاصل کرنا چاہتے ہیں ،اپنے غصب کئے گئے حقوق طلب کر رہے ہیں ،ان انسانی حقوق کے طالب ہیں جو انہیں بین الاقوامی قوانین کی رو سے بھی ملنی چاہیئں ۔مولانا ارشد مدنی نے تو اپنے بیان میں اپنے وزیر اعظم کے بیان کو بھی غلط اور خلاف واقعہ قرار دیا ہے ۔یقینا جرات ایمانی کا یہی تقاضہ ہے کہ حق کو حق اور باطل کو باطل کہتے وقت اس امر کا کوئی خیال نہ رہے کہ اس سے حکومت کی پیشانی پر کتنے بل پڑتے ہیں ۔
تاریخ کی ان سارے واقعات پر نظر ہے اور یقینا آنے والا تاریخ نویس جب مسلم ممالک کی اس بے حسی اور بزدلی کے لئے الگ سے ایک باب ترتیب دیگا ،عرب بادشاہوں کی عیاشیوں کا ذکر کریگا وہیں اسلامی جمہوریہ ایران کی ڈپلو میسی اور ابن الوقتی کا بھی ذکر ضرور کریگا ۔
ReplyForward |












