شعیب رضا فاطمی
ملک میں ان دنوں اسلامو فوبیاوائرل پھیلا ہوا ہے ۔دراصل یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کا مریض کو احساس ہی نہیں ہوتا۔اس کا نقصان بھی خود مریض کو کم اور معاشرے و ملک کو زیادہ ہوتا ہے۔ منافرت کا تعفن اتنا تیز ہوتا ہے کہ انسان اپنے جیسے انسانوں کا دشمن بن جاتا ہے اور اس کی آنکھ کپڑوں اور شباہت کی بنا پر انسانوں کو دیکھنے اور پہچاننے لگتی ہے ۔ ہمارے ملک میں اس وبا کا استعمال سیاسی پارٹیاں اس وقت کرتی ہیں جب ان کا ناکارہ پن اجاگر ہو چکا ہوتا ہے ۔اور عام لوگ اپنے مسائل کو لے کر اتنے پریشان ہو جاتے ہیں کہ لامحالہ ان کے ہاتھ سیاسی نمائندوں کے گریبانوں تک پہنچنے لگتے ہیں ۔چونکہ ہمارے ملک میں اکثریتی آبادی ہندوؤں کی ہے۔اور اسی کے ووٹوں سے سرکار بنتی اور بگڑتی ہے لہٰذا سیاستدانوں کے لئے دوسری سب سے بڑی آبادی کو نشانہ بنا کر اکثریتی طبقہ کو یہ باور کرانا آسان ہو جاتا ہے کہ ملک میں موجود ساری بد انتظامیوں کی وجہ یا تو اسلام ہے یا مسلمان ۔یوں تو اسلامو فوبیا کی اصطلاح یہودی اور عیسائی استعماری قوتوں نے عرب سمیت مسلم دنیا کو اپنا غلام بنانے کی سازش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کےلئے وضع کی۔لیکن ہمارے ملک میں موجودہ رائٹ ونگ کی پارٹی بی جے پی نے اس فارمولے کو اپنے سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے کیا اور بالآخر وہ اس فارمولے کے استعمال سے مستفیض بھی ہوئے۔بھارت میں اسلامو فوبیا کے ذریعہ اکثریتی طبقہ کو یہ سمجھایا جاتا ہے کہ مسلمان اس ملک کے ناجائز شہری ہیں اور یہ رفتہ رفتہ اپنی آبادی کو بڑھاتے ہوئے پورے ملک کے نظام پر قابض ہو جانا چاہتے ہیں لہٰذا ان کی سرکوبی بہت ضروری ہے۔موجودہ برسر اقتدار پارٹی کی درجن بھر سے زیادہ تنظیمیں اس مشن میں لگی ہوئی ہیں کہ وہ کسی بھی صورت سے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان اتنی گہری کھائی کھود دیں کہ اکثریتی طبقہ صرف بی جے پی کو ووٹ دے اور وہ برسر اقتدار رہیں ۔ان کا یہ الزام ہے کہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں جو سیکولرازم اور گنگا جمنی تہذیب کی بات کرتی ہیں وہ سب ملک دشمن ہیں اور ان کی حمایت کرنے والے بھی غدار ہی ہیں ۔عام طور پر اس مہم جوئی کی شدت انتخابی موسم میں بڑھ جاتی ہے ۔جیسا کہ ابھی کرناٹک انتخابی مہم کے دوران دیکھنے کو ملا جس میں ایک جمہوری ملک کا وزیر اعظم اکثریتی آبادی کے مذہبی نعرے کو برسر عام لگانے میں کسی بھی جھجھک کا شکار نہیں تھا اور کیرل اسٹوری نام کی مسلم مخالف پروپیگنڈہ فلم کو حقیقی صورت حال کا عکاس بتا رہا تھا۔
حالانکہ کرناٹک میں اس کا کوئی اثر نہیں ہوا مگر اسلام اور مسلم مخالف طبقہ اپنی سرگرمیوں سے باز نہیں آ رہا ہے فلم ‘دی کیرالہ اسٹوری’ کے بعد اب ‘فرحانہ’ نام کی ایک اور فلم تامل ناڈو میں تنازع پیدا کر رہی ہے۔ ریاست کی مسلم تنظیموں نے ایک مسلمان خاتون پر توجہ مرکوز کرنے والی اس فلم پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔انگریزی نیوز پورٹل muslim mirror کی رپورٹ کے مطابق انڈین نیشنل لیگ نے فلم کو "اسلام مخالف” قرار دیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ اس میں مسلم کمیونٹی کو ایک خاص انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ آئی این ایل لیڈر ٹاڈا جے عبدالرحیم نے فلم کے خلاف چنئی پولیس کمشنر کے پاس فلم پر پابندی لگانے کی شکایت درج کرائی ہے۔فلم کے ٹیزر میں ایک مسلمان خاتون کو دکھایا گیا ہے جو برقعہ پہن کر دنیا بھر میں جنسی کام کرتی ہے۔ اپنی شکایت میں، INL لیڈر نے کہا، انتہا پسند ہندوتوا کی سیاست کے تحت یہ فلم بنائی گئی ہے اور اس سے اسلامی ثقافت اور تہذیب کے علاوہ مسلم خواتین کی توہین ہو رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کے احتجاج کی گرمی اس قدر شدید ہے کہ پولیس کمشنر شنکر جیول کو فلم میں ’فرحانہ‘ کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ ایشوریہ راجیش کے گھر کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کرنی پڑی ہے ۔اب یہاں ٹھہر کر غور کرنے والی بات یہ ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ ایک سازش ہے بھولے بھالے مسلمان بغیر سمجھے بوجھے مشتعل ہو کر مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں ۔اور پھر فساد پھیل جاتا ہے جس میں دونوں طرف کے لوگوں کا جانی نقصان بھی ہوتا ہے اور معاشی نقصان بھی ۔اس آگ کوبمزید بر انگیختہ کرنے میں مذہبی قائدین بھی اپنا حصہ ڈالتے ہیں اور ان اشتعال انگیز بیانات کا استعمال دوسرے فریق کے شاطر لوگ اکثریتی طبقہ کو مشتعل کرنے کےلئے کرتے ہیں ۔ابھی حال ہی میں بہار اور بنگال کے علاوہ کئی ایسی ریاستوں میں جہاں بی جے پی کی سرکار نہیں ہے مشتعل اکثریتی طبقہ اور اقلیتی طبقہ کے مابین جھڑپ بھی ہوئی جس میں کئی قیمتی جانوں کا بھی نقصان ہوا اور سیکڑوں افراد شک کی بنیاد پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دئے گئے ۔
حالانکہ ان ریاستی سرکاروں نے نہایت سرعت سے ایکشن لیا اور سازش کرنے والوں کو دھر دبوچا لیکن اس سازش کے ماسٹر مائینڈ لوگ یا تنظیمیں مسلسل سازش کرنے میں مصروف ہیں ۔ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ 2024کا عام انتخاب سر پر ہے اور بہار میں بی جے پی کی سرکار بھی نہیں ہے ۔ایسے میں اس کی پوری کوشش ہوگی کہ وہاں ماحول خراب ہو اور ہندو مسلم منافرت کا سلسلہ گاؤں گاؤں میں پہنچے ۔گاؤں کے بھولے بھالے لوگوں کو نفرت کا زہر پلانے کے لئے اکثر ایسے باباؤں کا استعمال بھی عام ہے جن کے ہاتھ کی صفائی کو سیدھے سادے لوگ بھگوان کا پرشاد سمجھتے ہیں اور ان کی ہر بات کو خدائی فرمان سمجھ کر اس پر عمل کرتے ہیں۔ 2014کے انتخاب میں بابا رام دیو سمیت آشا رام بابا ،چنمیا نند ،رام رحیم ،جیسے نہ جانے کتنے بابا سامنے آئے تھے اور کانگریس مخالف مہم کو تیز تر کیا تھا لیکن پھر ان دس سالوں میں ان سب کی پول پٹی کھل گئی ایسے کئی بابا سنگین دفعات میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔اب ایک اور نیا بابا باگیشور مارکیٹ میں لانچ کیا گیا ہے جو بہار کے دورے پرتھا اور جسے بی جے پی نے ہی وہاں بھیجا تاکہ وہ بہار کی موجودہ سرکار کے خلاف اکثریتی طبقہ کو متحد کر سکے ۔اس کا واضح ثبوت اس وقت ملا جب جب بی جے پی کے ایک ممبر پارلیمانٹ نے اس کا ائیر پورٹ پر استقبال کیا بلکہ خود کار ڈرائو کرتے ہوئے اسے منزل مقصود تک لے گئے ۔ظاہر ہے اس سب کے پیچھے بی جے پی اور اس کی معاون تنظیمیں ہی ہیں ۔
اب جب یہ ساری باتیں اور سازشیں طشت از بام ہو چکی ہیں تو ضرورت ہے کہ مسلم طبقہ میں اثرو رسوِخ رکھنے والے علماء سیاسی بیان بازیوں سے پوری طرح اجتناب برتیں اور اشتعال دلا کر شکار کرنے کی سازش کو ناکام کر دیں ۔مسلمان علماء کے بیان پر اس سازشی گروہ کی نظریں لگی ہوتی ہیں اور جیسے ہی ان کا کوئی بیان آتا ہے ان کا پالتو میڈیا اسکو کاٹ پیٹ کر وائرل کر دیتا ہے ۔یہ بات صرف بہار کے لئے نہیں بلکہ پورےملک پر صادق آتی ہے ۔سرکار کی کسی غلط پالیسی سے اختلاف کرنا ایک بات ہے اور اس پر مساجد کے ممبر اور عوامی اجلاس سے مشتعل ہوکر رد عمل دینا بالکل دوسری بات ۔مسلم تنظیموں کو بھی چاہئے کہ ایسے نازک حالات میں نہایت سنجیدگی سے اپنے موقف کو سرکار تک پہنچانے کے لئے سیاسی نمائندوں سے گفت وشنید کریں ،لیکن عوامی پلیٹ فارم پر سیاسی بیانات سے مکمل انحراف کریں۔سیاست کی اس گرم بازاری میں جب پورے ملک میں اسلامو فوبیا کے زہریلے وائرس کو پھیلا کر اقتدار کی ہوس پوری کی جا رہی ہے اور انسانیت کی تعظیم کا درس دینے والے مذہب اسلام کو انسانیت کا دشمن ثابت کرنے کے لئے گروہ در گروہ لوگ کھڑے کئے جا رہے ہوں خود مسلمانوں کو برد باری اور معاملہ فہمی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنا ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانے کی ضرورت ہے ۔












