ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ولادت اعلان نبوت کے چوتھے سال مکۃ المکرمہ میں ہوئی۔آٹھویں پشت میں آپ کا نسب حضورِ پرنورﷺ سے جا ملتا ہے۔ آپ خلیفہ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی صاحب زادی ہیں۔ آپ کی والدہ کا نام ام رومان زینب ہے۔اورلقب صدیقہ، ام المؤمنین اور حمیراہے۔کنیت ام عبداللہ ہے، یہ کنیت خود حضورسیدعالم ﷺ نے تجویز فرمائی تھی۔جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ عرب میں کنیت رکھنا شرافت کا معیار اور علامت سمجھی جاتی تھی ،ایک دن انہوں نے حضور اکرمﷺ سے عرض کیا کہ عرب کی عورتیں کنیت سے مشہور ہیں،آپ ﷺ میری بھی کوئی کنیت تجویز فرمادیں ،اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی کنیت عبداللہ کے نام کی نسبت سے ام عبد اللہ رکھ لو۔ واضح رہے کہ حضرت عبداللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا انتہائی ذہین تھیں اور انہیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ علمی طور پر صحابیات میں سب سے بڑی فقیہہ تھیں۔ قرآنِ کریم کی عالمہ ،فصیح البیان اور عربی اشعار پر کامل دسترس رکھتی تھیں۔آپ سے جو احادیثِ مبارکہ مروی ہیں، ان کی تعداد دو ہزار دو سو دس ہے۔
آپ کا نکاح 10 شوال نبوت میں مکہ معظمہ میں ہوا ۔ اور رخصتی شوال 11 ہجری میں مدینہ میں ہوئی۔
عقد نکاح کے کچھ ہی عرصے بعد حضورنبی کریمﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا حکم ہوا اور یہ دونوں حضرات مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوگیے،راستے میں مختلف واقعات پیش آئے، بالآخر آپ دونوں حضرات مدینہ منورہ بخیروعافیت پہنچ گیے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کے مقابلے میں انتہائی اطمینان بخش فضا قائم فرمائی جس کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے پورے گھرانے کو مدینۂ منورہ بلوالیا،یہاں آپ رضی اللہ عنہا کی رخصتی عمل میں آئی، اس کے بعد بحیثیت زوجہ نوسال نبی ﷺ کی رفاقت میں اس طرح گزارے کہ ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی محبت کے ساتھ پیش آتے تھے، نبی ﷺ نے آپ کی بہترین تربیت بھی فرمائی اور یہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذوق و شوق تھا کہ انہوں نے علمی میدان میں بھی اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور علوم اسلامی کے ایک بہت بڑے ذخیرے کو نہ صرف اپنے پاس محفوظ فرمایا، بلکہ ہرہر موقع پر امت مسلمہ کی رہنمائی بھی فرمائی۔
صحابہ کرام کوجب کوئی مشکل اور پیچیدہ مسئلہ درپیش ہوتاتھا،تو وہ ۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کی جانب رجوع کرتے۔اور ان کے پاس اس کا علم ضرور پایا جاتا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضائل میں بہت سی احادیث صحیحہ ہیں ۔حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو سب عورتوں پر ایسی ہی فضیلت ہے جیسے ثرید کو سب کھانوں پر ۔ ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کمالات عالیہ پر یہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے جسے صحیحین میں روایت کیا گیا ہے۔نبی اکرم ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا یہ جبرائیل ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب میں فرمایا ان پر اللہ کا سلام اور رحمت ہو۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو مندرجہ ذیل ایسی خصوصیات حاصل تھیں، جن میں امت کا کوئی فرد ان کا سہیم و شریک نہیں،چناںچہ وہ فرماتی ہیں:فرشتہ حضوراکرمﷺ کی خدمت میں ان کی تصویر لے کر حاضر ہوا۔وہ آپ ﷺ کو ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ محبوب تھیں ۔آپ کی وجہ سے امت کو تیمم کی رخصت ملی۔جبرائیل علیہ السلام کو آپ نے دیکھا ۔آپ کی پاک دامنی اور برأت میں دس قرآنی آیات نازل ہوئیں ۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی فضیلتیں حاصل تھیں۔حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ لوگ رسول اللہ ﷺکی خدمت میں ہدیہ پیش کرنے کے لیے اس دن کا انتظار کرتے جس روز آپﷺ کی میرے یہاں باری ہوتی اور اس سے ان کا منشا رسول اللہﷺ کی خوش نودی حاصل کرنا تھا۔
تاجدارکائنات ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ﷺجہاں عام حالات میں اپنے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو رکھا کرتے تھے ،وہاں کئی مواقع پر سفر میں بھی آپ کو اپنے ساتھ لے گیے۔ جن میں غزوات کے سفر بھی شامل ہیں۔
حضورنبی کریمﷺ کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے وقت آپ کی طبیعت کئی روزعلیل رہی، بیماری نے شدت اختیار کی۔آپ ﷺ نے اپنی تمام ازواج مطہرات سے اجازت چاہی کہ آپ کی تیمارداری عائشہ صدیقہ کے ہاں کی جائے۔ تمام ازواج مطہرات نے بخوشی اس کی اجازت دے دی۔ آپ ﷺ سیدہ عائشہ صدیقہ کے ہاں تشریف لے گیے، اور وصال تک ان ہی کے ہاں رہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھ کر رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں پر دم کرتی تھیں۔نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ کے آخری لمحات میں یہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے لیے بڑا اعزاز تھا۔
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جس طرح اپنے فرزندان شریعت کی شیر علم سے پرورش فرمایا کرتی تھیں۔ اسی طرح اپنی جودو سخاوت سے فقراء اور مساکین کی بھی تربیت فرماتی تھیں۔ حضرت عروہ بن زبیررضی اللہ عنہمابیان کرتےہیں کہ میں نے حضرت عائشہ کو دیکھا انہوں نے ایک روزسترہزار درہم اللہ کی راہ میں خرچ کیے۔ خود ان کے کپڑوں میں پیوند لگا ہواکرتا تھا۔ ایک دفعہ عبداللہ بن زبیر نے ان کی خدمت میں ایک لاکھ درہم بھیجے انہوں نے سب کے سب اسی روز اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیئے۔ اسی روز حضرت صدیقہ کا روزہ بھی تھا۔ شام کو لونڈی نے سوکھی روٹی رکھ دی اور یہ بھی کہا کہ سالن کے لیے کچھ بچا لیا جاتا تو میں سالن بھی تیار کر لیتی۔ صدیقہ نے فرمایا کہ مجھے تو یاد نہ آیا تم کویاد دلاناچاہیے تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے 63 سال کی عمر میں 17 رمضان المبارک58 ہجری کو مدینہ منورہ میں بیماری کے باعث اپنے گھر میں وفات ہوئی۔ آپ نے وصیت کی تھی کہ مجھے جنت البقیع میں دفن کیا جائے۔
آپ کا نماز جنازہ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ نے نماز وتر کے بعد پڑھایا تھا۔
ضیاءالمصطفی نظامی
جنرل سکریٹری آل انڈیا بزم نظامی