آخر پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے افتتاح کا معاملہ عدالت عالیہ کی چوکھٹ تک اس دلیل کے ساتھ پہنچ گیا کہ صدر مملکت کو اس افتتاحی پروگرام سے دور رکھنا ان کی تذلیل کے مترادف ہے۔ ایک وکیل سی آر جیا سکن نے جمعرات کو سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ مرکزی حکومت کو صدر دروپدی مرمو کو 28 مئی کو پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر مدعو کرنے کی ہدایت دی جائے۔
لگے ہاتھوں اس موضوع کو اپوزیشن نے پی ایم کے خلاف ایک مہم بنا دیا ہے اور کانگریس سمیت ملک کی متعدد اپوزیشن جماعتوں نے اس افتتاحی جلسے کا بائکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سربراہ نہیں ہیں ۔وہ ایک ایوان میں اکثریتی جماعت کے سربراہ ہیں جبکہ صدر دونوں ایوانوں کا نہ صرف سربراہ ہوتا ہے بلکہ اس کی اجازت کے بغیر وہاں کی کاروائی نا ممکن ہے۔آئین ہند کے مطابق صدر کے بعد نائب صدر اس کے بعد اسپیکر کا عہدہ ہوتا ہے ۔وزیر اعظم کا نمبر چوتھا ہے ۔لیکن جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے سارے بلند آئینی عہدے ایک وزیر اعظم کے عہدے میں ضم ہو چکے ہیں ۔اور وزیر اعظم مسلسل پروٹوکول توڑ رہے ہیں جو کسی جمہوری ملک کو زیب نہیں دیتا ۔ایسے میں ہمارا فرض ہے کہ ہم یا تو اس منمانی کو روک دیں یا پھر اپنا احتجاج اس صورت درج کرائیں کہ اس پروگرام میں شریک نہ ہوں ۔جہاں تک آئین کی خلاف ورزی کا سوال ہے تو عرضی گذار وکیل نے سپریم کورٹ سے کی گئی درخواست میں واضح کیا ہے کہ 1947 کے اقتدار کی منتقلی کی علامت کے لیے نئی پارلیمنٹ سے ایوان کا راجدھانی پٹیشن میں آئین کے آرٹیکل 79 کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایک پارلیمنٹ ہوگی جو صدر اور دو ایوانوں ریاستوں کی کونسل اور ہاؤس آف پیوپل پر مشتمل ہوگی۔یعنی اس کا سربراہ صدر ہوگا ۔لہٰذا لوک سبھا سکریٹریٹ اور مرکزی حکومت نے آرٹیکل 79 کی خلاف ورزی کی ہے۔عرضی میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ آرٹیکل یہ واضح کرتا ہے کہ صدر پارلیمنٹ کا اٹوٹ حصہ ہیںتو پھر صدر کو سنگ بنیاد رکھنے اور اب افتتاحی تقریب سے کیوں دور رکھا گیا۔یہ کہتے ہوئے کہ صدر کو کچھ اختیارات حاصل ہیں اور وہ مختلف قسم کے رسمی کام انجام دیتے ہیں، درخواست میں کہا گیا کہ انہیں مدعو نہ کرنے سے، ’’نئی پارلیمنٹ کی عمارت کا افتتاح قانون کے مطابق نہیں ہے۔‘‘
یہ درخواست وزیر اعظم نریندر مودی کے صدر مرمو کے بجائے تقریب کی صدارت کرنے کے فیصلے پر سیاسی تنازعہ کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔یعنی اس موضوع پر بھی اپوزیشن مرکزی سرکار کو گھیرنے کا ارادہ کر چکاہے ۔اور حزب اختلاف یہ سمجھ رہا ہے کہ اس موضوع پر سرکار کے رویہ کی اس طرح وضاحت کی جائے کہ بی جے پی دلت طبقہ میں ایکسپوز ہو جائے اور بی جے پی 2024میں دلتوں کے سامنے یہ نہ کہہ سکے کہ اس نے آزادی کے پچھتر برس بعد پہلی بار ایک دلت خاتون کو ملک کا صدر بنا کر تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے۔اپوزیشن پارٹیوں کو یہ مدعا خود بی جے پی نے فراہم کر دیا ہے اور وہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے حق میں ہے ۔
بدھ کو 19 پارٹیوں کے مشترکہ بیان میں، جو کہ ایک ساتھ 11 ریاستی حکومتوں کو کنٹرول کرتی ہیں، نے نئی پارلیمنٹ کے افتتاح کے وزیراعظم مودی کے فیصلے کو’’جمہوریت پر حملہ‘‘قرار دیا اور کہا کہ وہ اس تقریب کا بائیکاٹ کریں گے۔ دیر شام تک، پارلیمنٹ کی عمارت کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے خلاف فیصلہ کرنے والی سیاسی جماعتوں کی کل تعداد 21 ہو گئی۔لیکن پھر جمعرات کی دیر شام تک ان سیاسی جماعتوں میں دے چند نے اس بائیکاٹ سے خود کو الگ بھی کر لیا جس میں بی ایس پی سپریمو مایا وتی کا نام سر فہرست ہے۔ حالانکہ حزب اختلاف کے لئے یہ غیر متوقع نہیں ہے کیونکہ مایا وتی ، کے سی آر اور اڑیسہ کے وزیر اعلی مرکزی حکومت کے خلاف کسی مہم میں شامل ہونے کو تیار نہیں ہونگے ۔یہ لوگ ہمیشہ ہی اقتدار کے ساتھ ہی رہنے میں اپنی اور اپنے ریاست کی بھلائی دیکھتے ہیں ۔جبکہ مایا وتی ایک ایسی لیڈر ہیں جن کے پیروں کے نیچے سے اپنی ہی زمین نکل چکی ہے اور دلتوں نے ہی ان کا ساتھ چھوڑ کر بی جے پی کی قربت حاصل کر لی ہے ۔اور اپوزیشن کی یہ ساری مہم بھی اسی لئے ہے تاکہ صدر معظم کے ساتھ کی جانے والی اس زیادتی کے نام پر دلتوں کو بیدار کیا جا سکے۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس مہم کی کمان خود مایا وتی ہی سنبھالتیں تاکہ وہ اپنے ووٹرس کو بی جے پی سے واپس لا کر اپنا سیاسی قد بڑھا پاتیں لیکن انہوں نے اس مہم سے خود کو الگ کر کے یہ پیغام دے دیا ہے کہ 2024کے عام انتخاب میں بھی وہ بی جے پی کی حمایتی ہی رہیںگی ۔












