نئی دہلی،متھرا میں شاہی عید عیدگاہ اور شری کرشن جنم بھومی کے درمیان اراضی تنازعہ کے معاملات کو سماعت کے لیے الہ آباد ہائی کورٹ میں منتقل کرنے کے خلاف مسلم فریق کی طرف سے دائر درخواست پر پیر کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اس معاملے میں ہندو فریق کو سپریم کورٹ سے راحت ملی ہے اور مسلم فریق کو جھٹکا لگا ہے۔ سپریم کورٹ نے شاہی عیدگاہ مسجد کمیٹی کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے متعلقہ فریقین سے جواب طلب کرلیا۔دراصل، شاہی عیدگاہ مسجد کمیٹی نے ہائی کورٹ کے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، جس میں عدالت نے اس کیس سے متعلق 15 مقدمات کو نچلی عدالت میں خود منتقل کرنے سے متعلق سماعت شروع کی تھی۔ مسلم فریق نے ہائی کورٹ میں جاری سماعت پر روک لگانے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ نے مسلم فریق کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ میں سماعت جاری رہے گی۔سپریم کورٹ میں جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس دیپانکر دتہ کی بنچ نے مسلم فریق کی درخواست پر سماعت کی۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے شری کرشن جنم بھومی تنازعہ سے متعلق متھرا کی ضلعی عدالت میں چل رہے تمام مقدمات کو ہائی کورٹ میں منتقل کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو مسلم فریق نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔مسجد کمیٹی نے الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا، جس میں ہائی کورٹ نے اس تنازعہ سے متعلق 15 مقدمات کو یکجا کرنے اور ان کی ایک ساتھ سماعت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ تمام کیس ایک ہی نوعیت کے ہیں، جن میں ایک ہی قسم کے شواہد کی بنیاد پر فیصلہ ہونا ہے۔ اس لیے عدالتی وقت بچانے کے لیے ان مقدمات کی سماعت ایک ساتھ کی جائے تو بہتر ہوگا۔یاد رہے کہ 11 جنوری کو الہ آباد ہائی کورٹ نے‘انصاف کے مفاد میں’ایک ہندو مدعی کی درخواست پر 15 مقدمات کو ضم کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ہندو فریق نے ہائی کورٹ میں اپنی درخواست میں کہا تھا کہ سول جج (سینئر ڈویژن) متھرا کے سامنے 25 ستمبر 2020 کو دائر اصل مقدمہ اور 13.37 ایکڑ اراضی سے متعلق دیگر مقدمات کو ضم کردیاجائے۔












