نئی دہلی، 9 نومبر : سپریم کورٹ نے موجودہ، سابق ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل ایز سے متعلق فوجداری مقدمات کی موثر نگرانی اور جلد تصفیہ کے لئے جمعرات کو تمام ہائی کورٹس کو ہدایت دی کہ وہ از خود نوٹس درج کریں۔چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس جے بی پاردی والا اور منوج مشرا کی بنچ نے ان مقدمات کی موثر نگرانی کے لیے اقدامات تیار کرنے کا کام ہائی کورٹس پر چھوڑتے ہوئے کہا کہ ان سے نمٹنے کے لیے ملک بھر کی ٹرائل کورٹس کو یکساں رہنما خطوط دینا مشکل ہوگا۔عدالت عظمیٰ نے اشونی کمار اپادھیائے کی طرف سے دائر پی آئی ایل کو نمٹاتے ہوئے ایم پیز اور ایم ایل ایز کے خلاف مجرمانہ مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے لیے سزائے موت یا عمر قید کی سزا والے مقدمات کو ترجیح دینے سمیت کئی ہدایات جاری کیں۔بنچ نے کہا، "ہائی کورٹس عدالتی اور انتظامی سطح پر ان مسائل سے نمٹ رہی ہیں۔ وہ اس صورتحال سے واقف ہیں جو ان کی ہر ضلعی عدالت میں موجود ہے … ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے طریقوں کو تیار کرنے کے لیے اسے ہائی کورٹس پر چھوڑ دیا جائے ۔بنچ نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایم پیز، ایم ایل ایز کے لیے نامزد عدالتوں کے سلسلے میں ازخود نوٹس کا مقدمہ درج کریں گے ، تاکہ ان کے خلاف زیر التواء فوجداری مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کی نگرانی کی جاسکے ۔سپریم کورٹ نے مزید کہا، "از خود نوٹس معاملے کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں خصوصی بنچ یا ان کے ذریعہ مقرر کردہ بنچ کرے گی۔ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی بنچ معاملے کو باقاعدہ وقفوں پر درج کرسکتی ہے .. ہائی کورٹ مقدمات کو تیزی سے یا مؤثر طریقے سے نمٹانے کے لیے ضروری احکامات اور ہدایات جاری کر سکتی ہے ۔”سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ خصوصی بنچ عدالت کی مدد کے لیے ایڈوکیٹ جنرل یا پبلک پراسیکیوٹر کو بلانے پر غور کر سکتی ہے ۔ ہائی کورٹ کو عدالتوں کو معاملے مختص کرنے کی ذمہ داری اٹھانے کے لئے پرنسپل اور ڈسٹرکٹ سیشن جج کی ضرورت ہوسکتی ہے ۔بنچ نے کہا، "نامزد عدالتوں کو ایم پیز، ایم ایل اے کے خلاف موت یا عمر قید کی سزا والے مجرمانہ مقدمات کو اولین ترجیح دینی چاہئے چاہیے ۔ اس کے بعد، پانچ سال یا اس سے زیادہ کے مقدمات… چیف جسٹس ان مقدمات کو خصوصی بنچ کے سامنے درج کرسکتے ہیں، جن میں مقدمے پر روک کے حکم جاری کئے گئے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مقدمے کے آغاز اور اختتام کے لیے حکم امتناعی کو ہٹانے سمیت مناسب احکامات جاری کئے گئے ہیں۔












