
نئی دہلی،27مئی : ہماراسماج : آل انڈیا مسلم ایکتا کمیٹی کے چیئر مین حاجی اکرام حسن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندو راشٹر ایک سیاسی چال ہے۔ کچھ لوگ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہندو راشٹر نہیں بن سکتا اور اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ دو سو سال تک ہندو راشٹر نہیں بن سکتا، کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ ہندو راشٹر بننے میں 500 سال لگیں گے لیکن اس کی وجہ نہیں بتاتے بس ایک بیان جاری کرکے کہہ دیتے ہیں کہ یہ حکومت بہت جلد بھارت کو ہندو راشٹر بنائے گی۔ اس طر ح کی باتیں کرنے والوں سے میں اپیل کرتا ہوں کہ وہ بتائیں کہ آخر کار بھارت ہندو راشٹر کیوں نہیں بن سکتا۔ لوگوں کو اس کی اصل وجہ بتانی چاہئے۔ مجھے لگتا ہے کہ حکومت بھی اچھی طرح جانتی ہے کہ ایک ملک جہاں تقریباً 30 کروڑ مسلمان رہتے ہوں اس کے علاوہ بھی دیگر اقلیتی کمیونٹی اس ملک میں رہائش پذیر ہوں جن میں سکھ، بدھ، جین، پارسی وغیرہ ہیں اس کے علاوہ بھی علاقائی ایشو ہیں جیسے تمل ناڈو، ناگا لینڈ، آسام اور گووا جیسے علاقے ہیں جن کو ہندو مخالف مانا جاتا ہے۔ حاجی اکرام حسن نے کہا کہ ہم ہندو راشٹر کی شکل میں نیپال کا حشر دیکھ چکے ہیں جبکہ ہمارا ملک اس سے کئی گنا ہر اعتبار سے بڑا ہے۔ ہمارے دینی سماجی اور سیاسی لیڈران اس بارے میں بیان دے رہے ہیں وہ اس طرح کی دلیل نہیں دے پاتے۔ اس کی وجہ بھی نہیں بتاتے ہیں کہ ہندو راشٹر کیوں نہیں بن سکتا ہے۔ البتہ ان کے بیانات سے مسلمان تو گمراہ ہو ہی رہے ہیں دوسری جانب اکثریت کا وہ طبقہ جس کا شمار فرقہ پرستی میں ہوتا ہے وہ ضرور مشتعل ہو رہا ہے اور ایک جٹ بھی دیکھا جارہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جو مذہبی یا دیگر لوگ ا سکو بڑھاوا دے رہے ہیں وہ اس سے زیادہ اور کچھ بھی نہیں ہیں کہ پرانا شکاری نیا جال لایا ہے جس میں لوگوں کو پھانسنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ ان تمام اکابرین کو یہ سمجھانا اور بتانا چاہیے کہ آخر بھارت ہندو راشٹر کیوں نہیں بن سکتا ہے۔ جو لوگ اس طرح کی دوکانیں چلا رہے ہیں اس سے ان کے معمولی اور وقتی طور پہ بھلا تو ہوسکتا ہے لیکن ملک اور قوم کا نقصان زیادہ ہے۔ ہندو راشٹر کا شوشہ لوک سبھا 2024 کے مدِّنظر چھوڑا گیا ہے۔











