اسرائیل:شمالی اسرائیل اور گولان پر حزب اللہ کی طرف سے شروع کیے گئے ایک بڑے حملے کے جواب میں جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد تل ابیب نے انکشاف کیا ہے کہ وہ لبنانی گروپ کو نقصان پہنچانے اور اس کے رہنماؤں کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اسرائیلی چیف آف سٹاف ہرزی ہیلیوی نے پیر کے روز کہا کہ ہم حزب اللہ کو نقصان پہنچانے اور اس کے رہنماؤں کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ کے پاس صلاحیتیں ہیں اور ہمارا مشن ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ہمارا مشن واضح ہے اور وہ شمال کے باشندوں کو ان کے گھروں کو لوٹانا ہے۔ اسرائیل نے پہلے اعلان کیا تھا کہ اس نے حزب اللہ کے ایک بڑے حملے کا اندازہ لگا کر اسے ناکام بنا دیا تھا۔ یہ حملہ اتوار 25 اگست کی صبح کیا جانا تھا۔ حملہ سے قبل ہی اسرائیلی طیاروں نے سینکڑوں لانچنگ پیڈز کو تباہ کردیا تھا۔ اسرائیل نے لبنان کے ان تمام علاقوں پر بمباری کرنے کا بھی عزم کیا جو اس کے شہریوں کے لیے خطرہ ہیں۔
کچھ اسرائیلی قیاس آرائیوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ کا ارادہ موساد کے ہیڈ کوارٹر اور 8200 انٹیلی جنس اڈے کو تل ابیب کے شمال میں نشانہ بنانا تھا۔ حزب اللہ نے اپنے حملے کو ناکام بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے شمالی اسرائیل اور مقبوضہ شام کے گولان میں 11 اسرائیلی فوجی ٹھکانوں اور بیرکوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے کامیابی سے حملہ کیا۔
یاد رہے 30 جولائی کو بیروت میں اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے رہنما فواد شکر کو قتل کردیا گیا تھا۔ حزب اللہ نے اسرائیل کے اس حملے کا جواب دینے کا اعلان کر رکھا تھا۔ 25 اگست کو علی الصبح حزب اللہ نے 320 کے لگ بھگ راکٹوں اور درجنوں ڈرونز سے اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔












