ایران:ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج ہفتہ کے روز بتایا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک روزہ دورے کے بعد بیروت سے آتے ہوئے شام کے دارالحکومت دمشق پہنچے اور اس دوران انہوں نے لبنان کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا اعادہ کیا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ عراقچی دورے کے دوران شامی حکام کے ساتھ علاقائی پیشرفت اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کریں گے۔
عباس عراقچی جمعے کو بیروت پہنچے جہاں انھوں نے وزیر اعظم نجیب میقاتی، پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری اور دیگر لبنانی حکام سے ملاقات کی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ میری بیروت میں موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم حزب اللہ کے ساتھ کھڑے ہیں اور اسرائیل پر ہمارا میزائل حملہ اپنے دفاع کے لیے جائز تھا۔ ہم نے اسرائیل پر حملہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ اس کے ہمارے خلاف حملے کا کا ردعمل تھا۔
عباس عراقچی نے بیروت کے دورے کے دوران ایرانی ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ میرا آج کا دورہ بنیادی طور پر لبنانی حکام سے موجودہ پیش رفت کے بارے میں مشاورت کرنا ہے۔ ایران لبنان کی حمایت کے لیے سفارتی مہم شروع کرے گا۔ انہوں نے اسلامی کانفرنس کی تنظیم کے اجلاس کی درخواست کی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی سے حالیہ پیش رفت کے بارے میں بات کی اور حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کے قتل پر تعزیت بھی کی۔
جب ان سے لبنان پر مسلسل اسرائیلی بمباری کی روشنی میں بیروت کے دورے کے بارے میں پوچھا گیا تو عباس عراقچی نے جواب دیا کہ ہم خوفزدہ نہیں ہیں اور ہم نے عراق کے ساتھ جنگ میں اسی طرح کی بمباری اور حالات کا تجربہ کیا ہے۔












