دیوبند، رکن رابطۂ عالم اسلامی مکہ مکرمہ و سابق صدر شعبۂ قراءت دارالعلوم دیوبند قاری ابوالحسن اعظمی کے تلامذہ اور محبین نے عظیم محفل قراءت اور قاری صاحب کے اعزاز میں گزشتہ شب عیدگاہ کے میدان میں اعزازی پروگرام کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر ملک بھر کے قراءحضرات اور مؤقر علماءکرام نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس موقع پر دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفےان قاسمی نے اپنے تحریری پےغام میں کہا کہ قاری ابوالحسن اعظمی کا فن قراءت میں درک اور اس حوالے سے خدمات شکر رب کے ساتھ ساتھ قدر افزائی کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں دعاءگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ موصوف کی فنی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے ان کے لئے اور جملہ مستفیدین کے لئے وسیلۂ نجات بنے۔ دارالعلوم دےوبند کے نائب مہتمم مولانا عبدالخالق مدارسی نے اپنے تحریری پےغام میں کہا کہ قاری صاحب کی شخصےت خدمت علم و فن کے حوالے سے تعارف و توصیف سے بالاتر ہوچکی ہے۔ اتنی طویل اور عظیم خدمات جس کی دورِ حاضر میں تو کےا ماضی قریب و بعید میں بھی کوئی مثال نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی علمی خدمات نے برصغیرہی نہیں عالم اسلام سے بھی اعتراف کرالےا جس کا بین ثبوت رابطۂ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کی جانب سے پورے اعزاز کے ساتھ اساسی رکنیت ہے۔ مولانا مدراسی نے کہا کہ صرف اےک فن میں ایک سو چھتیس (۶۳۱) کے قریب اتنی عظیم تعداد کتب و دیگر موضوعات بے شک آپ کا کوئی ہمسر نہیں۔ یہ اسی حقیقت ثابتہ ہے کہ موافق تو موافق ہے مخالف کے لئے بھی اعتراف کے بغےر چارہ نہیں۔ انہوں نے کہا قاری صاحب کی ذات متقدمین اور اربابِ علم و فن کا واضح نمونہ ہی نہیں بلکہ کئی صدیاں اسی ہمہ جہت شخصےت کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ قاری محمد صدیق صاحب سانسرودی صدر شعبہ قراءت وتجوید دارالعلوم فلاح دارین ترکےسر گجرات نے کہا کہ قاری صاحب کے دماغ کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے عقل و دانش کے چراغ سے منورکیا ہے۔ آپ کے قلب کو حقیقت آشنا اور صالح افکار و خےالات کا حامل بنایاہے۔ انہوں نے کہ قاری صاحب کی زندگی میں بہت سے ایسے مشکل مراحل آئے جس کی وجہ سے ان کی ملازمت کا چراغ بھی گل ہوتا دکھائی دےنے لگا، لےکن آپ نے پروردگار کی رزاقےت پر ےقین رکھتے ہوئے کسی بھی حاکم کی دہلیز پر اپنی خودداری کو سجدہ نہیں کرنے دیا۔ انہوں نے کہا کہ قاری ابوالحسن کا رشتہ قلم و قرطاس سے بہت پرانا اور مسلسل ہے جس کا دنےا کے اربابِ علم و فضل اعتراف کرچکے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ سماج کے باصلاحےت افراد کا اعزاز ہونا چاہئے اور اےسے پروگراموں میں شرکت کرکے ہمیںکچھ سیکھنے اور کام کرنے کا حوصلہ بھی ملتا ہے۔ قاری ابوالحسن اعظمی قرونِ اولیٰ کی صفات سے مالامال مل ہیں۔ دارالعلوم دےوبند کے رکن شوریٰ ماسٹر انظرحسین مےاں نے کہا کہ مولانا موصوف تجوید و قراءت کا روشن چراغ ہیں۔ حضرت قاری صاحب منکر المزاج، بلند اخلاق، ہمدرد، غمگسار، مہذب و مہمان نواز، معاملات کے کھرے، نہاےت نفیس طبیعت اور اعلیٰ اخلاق کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قاری صاحب نے محنت، تحقیق و جستجو کی جتنی منزلیںطے کی ہیں اور اس فنِ قراءت مےں تنِ تنہا جو کارہائے نمایاں انجام دئےے ہیںوہ ایک مثال ہیں۔ انہوں نے قاری صاحب کے تلامذہ کو بھی مبارک باد پےش کی کہ انہوں نے اپنے استاذ کے اعزاز مےیںیہ کامےاب پروگرام منعقد کےا ہے۔ مسلم پرسنل لاءبورڈ کے رکن اور معروف عالم دین مولانا ندیم الواجدی نے کہا کہ قاری ابوالحسن تجوید و قراءت کی دنیا ایک ایسا نام ہے جس کے ارد گرد عظمتوں کا ہالہ بنا ہوا ہے۔ آپ علم و ادب کا کوہِ ہمالہ، عظمت و رفعت کا نشان، فضائل و کمالات کا مخزن، دیدہ وری اور دانشوری کا عنوان، علم و قلم کا دھنی، تقویٰ و طہارت کا پےکر ابوالحسن اعظمی کا نام آتے ہی یہ صفات عملی شکل میں ذہن کے ارد گرد گردش کرنے لگتی ہیں۔ انہون نے کہا کہ قاری صاحب سے میںرا بڑا قدیم رشتہ ہے اور وہ بڑے بااخلاق اور باوضع انسان ہیں۔ آج قاری ابوالحسن اعظمی کے اعزاز میں جو محفل سجائی گئی ہے وہ ایک نوانی باعظمت اور یادگار محفل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجوید و قراءت جےسے خشک موضوع پر ایک سو چھتیس کتابیں لکھنا ان کی کرامت اور توفیقِ خداوندی کا کرشمہ ہی کہا جاسکتا ہے جس سے ہمیں کام کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔جلسہ کی نظامت کر رہے مولانا ڈاکٹر قاری عبدالرحمن ساجد الاعظمی بانی و مہتمم دارالفکر، مؤ نے کہا کہ قاری صاحب کو اللہ رب العزت نے بے شمار خوبیئوں اور کمالات سے نوازا ہے۔ مختلف خوبیوں کا سامنا تو ملنے پر ہوتا ہے اور کمالات ان کی تصنیفات اور تالیفات سے ظاہر ہوتے ہیں۔ قاری صاحب کو اللہ نے اپنے مےدان کا مردِ کامل بناےا ہے اور ےقینی طور پر صرف دارالعلوم دیوبندہی مےں نہیں بلکہ دور دراز تک تجوید و قراءت کے مےدان میں قاری صاحب جےسے کمال اور اختصاص کے مالک کوئی دوسری شخصےت نہیں ہے۔ رب العزت نے انہیں اس کام کے لئے منتخب کےا اور ان کی ایک چھتیس کتابوں کی تصانیف اس بات کی گواہ اور ثبوت ہیں کہ جہاں تک فن کا تعلق ہے قاری صاحب کے ہمسر اور ہم پلہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔بعد ازاں قاری ابوالحسن اعظمی نے جذباتی انداز میں گفتگو کی اور کہا کہ ممنون ہوں اپنے تلامذہ، محبین اور رفقاءکا جنہوں نے اس پروگرام کو بنایا، سجایا اور سنوارا۔ انہوں نے کہا کہ کتاب اللہ رب العزت کا کلام ہے، اس کا ذات سے نکلا ہوا ہے، اس کی صفت ہے، اس کی سماعت عبادت ہے۔ سرزمین دیوبند میں ماہرین قراءکرام، ملک کے چیدہ اور منتخب قراءعظام نے دل کش اور پرکشش لہجوں سے تلاوت قرآن کریم کی میں ان سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔قبل ازیں مدرسہ دارالقراءت نگلہ راعی کے مہتمم مفتی محمد بلال قاسمی نے سپاس نامہ پےش کےا جب کہ جامعہ قاسمیہ دارالتعلیم والصنعہ کے مہتمم مولانا محمد ابراہیم قاسمی نے قاری ابوالحسن اعظمی کا تعارف پےش کےا۔ آخر میں قاری محمد ےعقوب گجراتی نے سبھی مہمانوں کا شکریہ اداکیا۔ پروگرام کو کامیاب بنانے والوں میں قاری سےد محمد ارشاد، مولانا مقیم الدین، عمر الٰہی ، مولانا محمد ابراہیم قاسمی اور عمےر الٰہی کا اہم کردار رہا۔ اس موقع پر قاری آفتاب احمد خاں، قاری عبدالعزیز، قاری شفیق الرحمن، قاری عبدالجلیل، قاری محمد واصف، قاری محمد ریاض، مولانا عبداللہ ابن القمر قاری طیب جمال، قاری محمد اکرام، قاری مستجاب الرحمن، قاری ہدایت اللہ، قاری زبیر احمد، قاری بدرالدجیٰ، قاری عنایت الرحمن، قاری محمد اکمل، قاری اسعد الزماں، ڈاکٹر تابش مہدی، مولانا نورالحسن راشد، مولانا عبدالسلام، قاری احسان محسن، مولانا اویس صدیقی، خالد گل، انعام الٰہی، عبداللہ راہی، ماسٹر جاوےد، آشو، عبدالرحمن سیف، حافظ اسجد، سمیر چودھری، رضوان سلمانی، عارف عثمانی، فہیم عثمانی، مشرف عثمانی سمیت بڑی تعداد میں لوگ موجود رہے۔












