يمن:حوثیوں نے اسرائیلی اہداف کونشانہ بنانے کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے اسرائیلی علاقوں اشدود اور حیفا کو میزائل حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کے اسرائیل پر تازہ حملوں میں حوثیوں کو عراق کی اسلامی مزاحمتی تحریک کی بھی معاونت حاصل تھی۔ دونوں نے مل کر اشدود اور حیفا میں اہداف پر حملے کیے ہیں۔
ان مشترکہ حملوں کے دوران بحیرہ احمر میں ‘ٹیوٹر شپ ‘ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کو ہدف بنانے کی تصدیق برطانیہ کے میری ٹائم سروس نے بھی کی ہے۔ جبکہ حوثیوں کے ترجمان یحییٰ ساری نے اس حملے کی تفصیلات ایک ٹی وی پر نشر کیے گئے بیان میں جاری کی ہیں۔
یحییٰ ساری نے ‘ ٹیوٹر شپ ‘ پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ‘اسے نشانہ بنایا ہے اور اس کے اب ڈوبنے کا خطرہ ہے۔
بدھ کے روز جاری کردہ حوثیوں کے بیان میں مزید کہا گیا ہے ‘ ٹیوٹر شپ کو نشانہ بنانے کے لیے بحیرہ احمر میں بحری ڈرون طیاروں، بیلسٹک میزائلوں اور فضائی ڈرونز سے بھی نشانہ بنایا گیا۔ ‘
ایمبری نامی سیکیورٹی کمپنی جو برطانیہ کے ساتھ قربت رکھتی ہے نے بتایا ہے جب اس جہاز کو نشانہ بنایا گیا تو یہ جہاز حوثیوں کی بندرگاہ حدیدہ سے 68 سمندری میل کے فاصلے پر تھا۔ ایمبری کے مطابق بندرگاہی شہر سے جنوب مغربی کی طرف تھا ۔
علاوہ ازیں برطانوی رائل نیوی کے ذیلی میری ٹائم ادارے ‘ یو کے ایم ٹی او ‘ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ‘ ٹیوٹر شپ ‘ کو حدیدہ کے جنوب مغرب میں ہوتے ہوئے اس وقت نشانہ بنایا گیا جب یہ حدیدہ سے 66 سمندری میل کی دوری پر تھا۔ اس کے ساتھ ایک چھوٹا جہاز ٹکرایا گیا ۔
اس برطانوی ادارے کے مطابق جہاز کو دوسری بار بھی نشانہ بنایا گیا ۔اب کی بار سمندر کے اندر سے نہیں بلکہ فضا سے ایک نامعلوم جہاز سے نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں فوجی حکام اس جہاز کی مدد کو پہنچ گئے۔












