یمن :امریکی مسلح افواج نے یمن پر ایک بار پھر بمباری کرتے ہوئے اسلحہ ڈپوؤں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے حکام کے مطابق یہ حملہ یمنی حوثیوں کے زیر زمین اسلحہ ڈپوؤں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا۔ جہاں انہوں نے مختلف قسم کا جدید اسلحہ امریکی فوج اور شہریوں کو نشانہ بننے کے لیے جمع کر رکھا تھا۔خیال رہے خطے کے سمندروں میں اسرائیلی جنگ سے پیدا شدہ کشیدگی کے پیش نظر اسرائیل کی مدد و حفاظت کے لیے امریکہ نے اپنے جنگی اثاثوں کو متحرک کر رکھا ہے اور ان میں اضافہ بھی کیا جا چکا ہے۔حتیٰ کہ اسرائیل کے اندر تک امریکی فوجی دستے تعینات ہو چکے ہیں جو دفاعی نظام کو ہینڈل کریں گے۔ جبکہ اسرائیل سے باہر ہزاروں کی تعداد میں نئے امریکی فوجی بھی تعینات کرنے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔یمن پر تازہ بمباری کے حوالے سے پینٹاگون سربراہ لائیڈ آسٹن نے کہا ہے بی 2 بمبار طیاروں نے حوثیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھتے ہوئے ان کے پانچ زیر زمین اسلحہ ڈپوؤں کو ہدف بنایا۔ جو مختلف جگہوں پر قائم کیے گئے تھے۔وزیر دفاع کے بقول ‘یہ امریکہ کی ایک منفرد اور مثالی نوعیت کی بمباری تھی، جس کا یمن میں اہتمام کیا گیا۔ ہمارے دشمنوں کا خیال تھا کہ زیر زمین اسلحے تک ہماری رسائی نہیں ہو سکی گی اور ایسی گہری جگہ پر انتہائی سخت انداز میں محفوظ کیے گئے اسلحے کے ذخیروں کو امریکہ نشانہ نہیں بنا سکے گا، ایسا ہوگیا۔ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا کہ کوئی کتنا بھی نیچے جا کر اسلحہ دفن کرتا ہے، ہم پہنچ جاتے ہیں۔ ‘امریکی وزیر دفاع ان حملوں کے بارے میں امریکی پوزیشن بیان جاری کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ کس طرح امریکہ کے پاس ٹھیک ٹھیک نشانوں تک پہنچنے کے لیے صلاحیت موجود ہے اور وہ اس جنگ میں کہاں تک جا سکتا ہے۔












