شعیب رضا فاطمی
’’ابھی کل کی بات ہے جب سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل سراج پراچہ نے میڈیا کے سامنے ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ منو واد ہندوستانی جمہوری اقدار کو کھوکھلا کر رہی ہے ۔انہوں نے اپنے بیان میں صاف کیا کہ گجراتی بزنس مین جو منو وادی فکر سے متاثر ہیں وہ ملک کے جمہوری اقدار کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور ان پر لگام لگائے بغیر ملک کے سماجی تانے بانے کو بچانا مشکل نہیں نا ممکن ہے ۔‘‘بظاہر یہ میڈیا میں دیا گیا بیان ہے لیکن یہ بات اتنی اہم ہے کہ اس کا تجزیہ کرنا بہت ضروری ہے ۔یہ محض اتفاق نہیں کہ آج بھارت میں مذہبی جنون، سماجی تقسیم اور معاشی نابرابری ایک ساتھ عروج پر ہیں۔ یہ ایک منصوبہ بند سیاسی و معاشی ماڈل ہے، جس کے پیچھے ایک مخصوص نظریہ، ایک مخصوص طبقہ اور ایک مخصوص خطہ نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ اس ماڈل کا فکری ایندھن منو واد ہے، اور اس کا معاشی محافظ کارپوریٹ سرمایہ داری،جس کی علامتی قیادت گجرات کے منو وادی ذہنیت رکھنے والے بزنس گھرانے کر رہے ہیں۔در اصل منو واد کوئی مذہب نہیں طاقت کی تھیوری ہے ۔اس کا تعلق نہ تو کسی روحانی فلسفہ سے تعلق ہے اور نہ ہی کسی مذہبی عقیدے سے یہ سماج پر حکمرانی کا قدیم نسخہ ہے۔یہ نظریہ کہتا ہے: انسان برابر نہیں، مساوات فطرت کے خلاف ہے،اقتدار چند مخصوص طبقوں کا پیدائشی حق ہے، آج جب بھارت کا آئین ہر شہری کو برابر مانتا ہے، تب منو واد اس آئینی روح کے خلاف بغاوت کا نظریہ بن چکا ہے۔ یہ محض ذات پات تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ ایک مکمل ریاستی ذہنیت کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ برسر اقتدار جماعت نے جب دہلی کے اقتدار پر قبضہ کی بات سوچی تو سب سے پہلے گجراتی بزنس ماڈل کو عوام کے درمیان مشتہر کیا ۔اور ملک کے لوگوں نے یہ جانے بغیر کہ گجراتی بزنس ماڈل کیا ہے اس بیانیہ کو قبول کر لیا ۔حالانکہ اگر اسی وقت اس کاغذی کر لیا جاتا تو یہ بات واضح ہو جاتی کہ گجراتی بزنس ماڈل میں منافع پہلے، معاشرہ بعد میں کا چلن عام ہے ۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ منو واد کو سب سے مضبوط سہارا کارپوریٹ سرمایہ سے ملا ہے۔ گجرات کے چند طاقتور بزنس گروپس نے یہ بات بخوبی سمجھ لی ہے کہ اگر عوام مذہب میں الجھے رہیں گے تو وہ کارپوریٹ لوٹ، زمینوں کی بندر بانٹ، وسائل کی نجکاری اور مزدور استحصال پر سوال نہیں کریں گے۔چنانچہ مذہبی جذبات کو اب کارپوریٹ شیلڈ بنا دیا گیا ہے جہاں کسان خودکشی کرے تو اسے قومی مسئلہ نہ سمجھا جائے۔نوجوان بے روزگار ہو تو اسے قوم پرستی کے نعروں میں بہلا دیا جائے۔اور اقلیتوں کو خوف میں رکھ کر اکثریت کو طاقت کا جھوٹا احساس دلایا جائے۔یہی وہ مقام ہے جہاں منو واد، سرمایہ داری اور ریاستی طاقت ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔گجرات ماڈل کا سیاہ پہلو یہی ہے جسے برسوں سے “گجرات ماڈل” کہہ کر بیچا جا رہا ہے، اور اس کے نیچے چھپی حقیقت یہ ہے کہ ترقی چند ہاتھوں میں مرتکز ہے،چھوٹے تاجر منظم کارپوریٹ کے نیچے کچلے جا رہے ہیں، مزدور قوانین کمزور کیے جا چکے ہیں اور ریاست آہستہ آہستہ ایک کارپوریٹ مینجڈ زون بنتی جا رہی ہے۔ یہ ماڈل سماجی انصاف نہیں، بلکہ سماجی خاموشی پیدا کرتا ہے۔ وہ خاموشی جو خوف سے جنم لیتی ہے، اور یہی خوف ہے جو منو واد کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔جس کا پہلا شکار اقلیتیں بنتی ہیں اور اکثریت استعمال کئے جاتے ہیں۔یہ کہنا اب کسی تعصب کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سیاسی حقیقت ہے کہ مسلمان مستقل شک و شبہ کی نظر میں ہیںدلت اور آدی واسی آج بھی دوسرے درجے کے شہری ہیںاور اختلاف کرنے والا ہر شخص “اربن نکسل” یا “غدار” قرار دیا جاتا ہے۔ایک بات اور ذہن نشین رہے کہ ایسی تھیوری کسی جذباتی ہجوم کے بس کی بات نہیں۔ یہ ایک منظم سیاسی حکمت عملی ہے، جس میں بزنس اشرافیہ، میڈیا کا ایک حصہ اور ریاستی اداروں کی خاموش رضامندی شامل ہے۔اور اس کا اصل کھیل آئین بمقابلہ منو اسمرتی کو سامنے لانا ہے ۔اور یہ کہنا بیجا نہیں ہوگا کہ آج بھارت میں اصل تصادم ہندو بمقابلہ مسلمان نہیں، بلکہ: آئینِ ہند بمقابلہ منو اسمرتی ہے۔کیونکہ ایک طرف آئین کہتا ہے کہ سب برابر ہیں، ریاست غیر جانبدار ہے،اقتدار عوام کا ہے۔ تو دوسری طرف منو واد ہے جو کہتا ہے کہ درجہ بندی ہی نظام ہے، طاقت سوال سے بالا ہےاور سماج کو حکم کے ذریعے چلایا جائے۔گجراتی بزنس اشرافیہ اس دوسرے تصور کی سرپرستی اس لیے کر رہی ہے کیونکہ آئینی سوال ان کے منافع کے لیے خطرہ ہے۔اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ خاموش اکثریت کب جاگے گی؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب سرمایہ اور تعصب مل جاتے ہیں تو نتیجہ ہمیشہ تباہ کن ہوتا ہے۔آج اگر عوام نے سوال نہ اٹھایاصحافت نے سچ بولنا چھوڑ دیا اور سیاست نے اصولوں کے بجائے فائدہ دیکھا تو کل یہ ملک نہ ہندو کا رہے گا، نہ مسلمان کا بلکہ چند کارپوریٹ گھرانوں کا ہو جائیگا ۔اور اس کے نتیجہ میں یہ صرف اقلیتوں کی جنگ نہیںیہ لڑائی صرف مسلمانوں، دلتوں یا پسماندہ طبقات کی نہیں رہیگی ۔یہ لڑائی جمہوریت کی بقا کی ہے، سماجی ہم آہنگی کی ہے اور بھارت کے مستقبل کی ہے۔منو واد کے سائے میں کی گئی ترقی، دراصل قومی زوال کی پیشگی اطلاع ہوتی ہے۔اور جو سماج نفرت کو سرمایہ بنا لے، وہ تاریخ میں کبھی سرخرو نہیں ہوا۔












