آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا سرما نے کہا ہے کہ ریاست میں مدرسوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور وہ آنے والے دنوں میں ان سبھی کو بند کر دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نے آسام میں سینکڑوں مدارس کو پہلے ہی بند کر دیا ہے۔ ہمیں کالج اور یونیورسٹیاں قائم کرنے کی ضرورت ہے، مدرسوں کی نہیں۔دراصل”بیلگاوی (جنوبی) کے ایم ایل اے ابھے پاٹل کے ذریعہ یہاں شیواجی گارڈن میں ‘شیوا چرتر کے عنوان سے ایک نمائش کا افتتاح کرتے ہوئے، سرما نے مغل حکمرانوں پر بھی سخت حملہ کیا، یہ کہتے ہوئے کہ انہوں نے پہلے ملک کو تباہ کیا، اور اب کانگریس ان کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔کانگریسی صرف بابری مسجد کے بارے میں بول رہے تھے اور کبھی رام مندر کے بارے میں نہیں، انہوں نے کہا، "لوگوں کو کانگریسیوں کو مناسب سبق سکھانا چاہیے جو مغلوں کی طرح ہیں۔ انہیں ملک سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے، "وہ غصے سے بولا کہ جھوٹے تاریخ نویسوں نے یہ لکھا کہ پورا ملک اورنگ زیب جیسے مغل حکمرانوں کے ہاتھ میں تھا لیکن جو بات انہوں نے ظاہر نہیں کی وہ یہ تھی کہ شیواجی مہاراج اورنگ زیب سے 10 گنا زیادہ طاقتور جنگجو تھے۔ہمنت بسواسرما کے ذریعہ دیا جانے والا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب انگریزی کے ایک اخبار نے یہ خبر شائع کی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقلیتی مورچہ نے مسلمانوں کے درمیان سے چنندہ لوگوں کا انتخاب کر کے مودی متر منڈلی بنانے کا آغاز کر دیا ہے۔ساتھ ہی مسلمانوں کے ایک مخصوص مسلک کو اپنے حق میں کرنے کے لئے ‘صوفی سنواد ’ پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ 2024 کے عام انتخابات کے پیش نظر پارٹی کے اقلیتی سیل کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر ملک میں یہ کیسا کھیل چل رہا ہے .جب یہ بات مودی حکومت نے اپنے عمل کے ذریعہ واضح کردیا کہ مسلمانوں کو سرکار سے سوائے ذلالت اور کچھ نہیں ملنے والا تو پھر 2024 کے عام انتخاب میں ان کو لبھانے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے؟ بظاہر یہ آر ایس ایس کے ٹکسال سے نکلے ہوئے ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں لیکن ہمیں الگ الگ اس لئے نظر آرہا ہے کہ ہمیں یہ الگ الگ دکھایا جا رہا ہے .ڈور چونکہ بہت الجھی ہوئی ہے اس لئے اسے نہایت سنجیدگی سے سلجھانے کی ضرورت ہے .اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بی جے پی کے لئے 2024 کا انتخاب 2019کے عام انتخاب سے زیادہ مشکل ہوگا۔اپوزیشن کا اتحاد ہو یا نہ ہو غیر بی جے پی ریاستوں میں اس بار مودی کا جادو سر چڑھ کر نہیں بولنے والا ۔اور اس طرح پورے ملک میں بی جے پی اور اسکے اتحادیوں کو کم از کم 70 سے 80 سیٹیں کم ہونے جا رہی ہیں یہ آنکڑہ 100 کے پار بھی جا سکتا ہے یعنی بی جے پی کے اس کے کل اتحادی مل کر بھی 200کے اندر ہی سمٹنے والے ہیں۔ایسے میں بی جے پی کو اپنے روایتی ووٹر کے علاوہ جو ووٹ چاہئے اس کے لئے انہیں لامحالہ مسلمانوں کی طرف متوجہ ہونا ہوگا جس کا آغاز ان کا اقلیتی سیل کر چکا ہے .لیکن دوسری طرف انہیں یہ بھی خوف ہے کہ مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے انہوں نے وعدوں کا کوئی جال پھینکا ہندو ووٹرس کا ایک گروہ جو صرف اس لئے مودی کو ووٹ دیتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو سبق سکھا رہے ہیں ان سے بدک جائے گا اس کو سنبھالنے کے لئے مودی کے فائر برانڈ لیڈر اپنے مشن کو اور زیادہ تیز کر رہے ہیں ۔انگریزی روز نامہ ہندو کے مطابق اس کے لیے بی جے پی نے 150 ایسے لوگوں کی ٹیم تشکیل دی ہے جو بظاہر غیر سیاسی ہوں.اخبار کے مطابق بی جے پی اقلیتی مورچہ کے صدر جمال صدیقی نے کہا کہ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت پر کیا گیا ہے تاکہ صوفی برادری تک پہنچا جا سکے جو امن اور ہم آہنگی کے حامی ہیں۔
دوسری طرف امر اجالا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے بی جے پی نے مسلم ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے ایک خاص منصوبہ بنایا ہے۔ پارٹی ملک کے 65 مسلم اکثریتی اضلاع میں اقلیتی کمیونٹی سے 5000 ‘مودی متر’ بنائے گی، جو اپنے اپنے اضلاع میں مسلم ووٹروں کو پارٹی سے جوڑنے کا کام کریں گے۔ ان میں سے زیادہ تر اتر پردیش اور مغربی بنگال کے 13 اضلاع اور بہار، آسام اور کیرالہ کے مسلم اکثریتی اضلاع شامل ہیں۔ یہ اسکیم 25 اپریل سے شروع ہوگی جو ایک سال تک چلے گی۔ پارٹی نے 15 مارچ سے ‘صوفی سنواد مہا ابھیان’ بھی شروع کیا ہے، جس کا مقصد صوفی برادری کے لوگوں کو بی جے پی سے جوڑنا ہے۔ان مسلم اکثریتی اضلاع میں اتر پردیش کے مغربی حصے کے کیرانہ، رام پور، سہارنپور، بریلی، نگینہ، مراد آباد اور میرٹھ کے علاقے شامل ہیں۔ اسی طرح مغربی بنگال کے بشیرہاٹ، کرشن نگر، مرشد آباد، بہرام پور، رائے گنج، ڈائمنڈ ہاربر، جانگیر پور شامل ہیں۔ کیرالہ کے وایناڈ، کاسرگوڈ، کوٹائم، ملاپورم اور اڈوکی اضلاع نمایاں ہیں۔ جموں و کشمیر کے پانچ اضلاع کے ساتھ ساتھ لداخ میں بھی بی جے پی نے مسلم ووٹروں کو راغب کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔انڈین ایکسپریس اور دی ہندو اخبار کی خبروں کو پڑھ کر جو میں نے سمجھا اس کا ذکر آپ سے کیا .اب دیکھنا ہے کہ آنے والا وقت سیاست کے مزید کتنے چہرے ہمارے سامنے لاتا ہے ۔












