راہل گاندھی کی قیادت میں اتوار کو کانگریس کی بھارت جوڑو یاترا کا کشمیر کے لال چوک میںترنگا لہرا کر پورے جوش و خروش کے ساتھ اختتام کر دیا گیا ۔در اصل اس یاترا کا مقصد ملک میں نفرت کی جڑوں کو کمزور کرنا اور اتحاد کو فروغ دینا تھا۔راہل گاندھی نے اپنے جادو سے اس طلسم کو توڑنے کی قسم کھائی تھی جو ملک کے بھائی چارہ اور سالمیت کو نقصان پہنچا رہی تھی ۔اس دیوار کو گرانے کی کوشش کی تھی جس کو اپنی سیاست چمکانے اور اقتدار حاصل کرنے کی غرض سے کھڑا کر دیا جاتا ہے اور دو فرقوں میں اس کی بنیاد کو او ر زیادہ مضبوط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ر ہل گاندھی کی قیادت میں ساڑھے تین ہزار کلومیٹر کا سفر کر کے یاترا جب کشمیر پہنچی تو کانگریس لیڈرنے اسے اپنے لئے ایک کامیاب سفر اور کوشش قرار دیا اور امید کی کہ ان کی یہ محنت ایک دن ضرور اپنا رنگ دکھائے گی اور ملک کی تصویر کو بدلے گی۔کشمیر میں انہوںنے صحافیوں کے چند ایک سوالوں کے جواب میں بھی یہی بات کہی کہ وہ ملک کو محبت کے دھاگے میں پرونے نکلے تھے ،لوگوں کے نفرت سے چاک گریباں کو سینے نکلے تھے اور اس میلے داغ کو دھونے نکلے تھے جس کو آج تک کسی نے نہیں دور کرنے کی کوشش کی ہے۔انہوںنے کہا کہ اپنے طویل سفر کے دوران انہیں بہت کچھ تجربات ہوئے ،دیکھا اور سیکھا بھی ۔ الغرض ،انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی محنت کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے ۔اب سوال یہ کھڑا ہو رہا ہے کہ راہل کی اس قربانی کا کیا واقعی کوئی پھل ملے گا اور ملک میں نفر ت کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔اورکیا ملک میں لوگوں کے درمیان عصبیت اور تنگ ذہنی دور ہوپائے گی ۔سوال یہ بھی پیدا ہو رہا ہے کہ کیا نفرت کی دکان کھولے ہوئے جو لوگ بیٹھے ہیں وہ راہل کی ایک پکار سے اپنا کاروبار بند کردیںگے ،جن پران کی سیاسی زندگی کا دارومدار ہے ۔ اقتدار کی بھوک کی آگ سے جھلسے ہوئے سیاسی گدھ اپنی روش سے باز آجائیں اور ملک کو محبت کی قندیلوں سے روشن کرنے پر رضامند ہوجائیں گے ۔ایسا راہل کیسے سوچ رہے ہیں ،کیونکہ ان کا تو سارا ’کاروبار‘ ہی نفرت اور لاشوں کی سیاست کے ڈھیر پر چلتا ہے ،انکی دکان تو تقسیم ،بنٹوارہ اور منافرت کا افیون چٹا کر ہی چلتی ہے ،وہ لوگ آخر کیسے اپنا کاروبار بند کر کے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مارنے پر آمادہ ہوجائیں گے ۔اس لئے راہل کی بھارت جوڑو یاترا کے طویل سفر کو ملک کی محبت میں آنسوبہانے والے گرچہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس سے مرض کا علاج ہو جائیگا ،ان کی بھول اور غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ در اصل وہ سب اتنی آسانی سے اپنی عادت سے باز آنے والے نہیں ہیں جنہوںنے آزادی کے بعد سے کئی دہائیاں اس نفرت کی زمین سینچنے میں گزار دی جس نے انہیں تخت وتاج اور سلطنتوں سے نوازنے کا کام کیا ۔ تاریخ شاہدہے کہ کیسے نفرت کے سہارے ایک فرماں روا کو قتل و غارت گیری کے بازار کو گرم رکھنے کا انعام دیا گیا !۔ اس لئے یہ امید کرنا فضول ہے کہ یاترا سے بد قماش اور فرقہ پرستی کے بجاریوں پر کوئی اثر پڑے گا اور وہ اپنی فطرت سے باز آجائیں گے ۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہرگز نہیں کہ اس سے راہل گاندھی کی محنت پر پانی پھیرانا یا ان کا حوصلہ پست کرنا مقصود ہے ۔راہل نے اصل معنوں میں اندھیرے میں محبت کی مشعل اٹھانے کی جو ہمت کی ہے وہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔انہوں نفرت کو محبت اور تحاد سے جوڑنے کی جو کوشش کی ہے وہ بڑے بڑے سیاسی سورمائوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا۔
اس میں دورائے نہیں کہ راہل کے’ نسخہ کیمیا ‘سے نفرت کے بجاریوں کے منہ پر زور دار طمانچہ لگا ہے اور وہ بوکھلائے ہوئے ہیں اس لئے خدشہ ہے کہ ان کی محنت پر پانی پھیرنے والے اس کا کوئی توڑ ڈھونڈنے میں لگ گئے ہونگے۔الغرض ،ہمت پھر بھی نہیں ہارنا چاہئے ۔کانگریس کی اس محنت کے بعد اب سوال یہی اٹھ رہا ہے کہ اس کے نتائج کیسے بر آمد ہونگے اور ملک کے اتحاد کو کتنی طاقت ملے گی اور راہل کا نسخہ کیمیا کتنا اثر دار ہوگا ۔












