• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعہ, مارچ 27, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

ہم کتنے غریب ہو چکے ہیں

Hamara Samaj by Hamara Samaj
دسمبر 20, 2023
0 0
A A
ہم کتنے غریب ہو چکے ہیں
Share on FacebookShare on Twitter
شعیب رضا فاطمی
دنیا ایک گاؤں ہے کی اصطلاح چاہے کتنی ہی مستعمل ہو  لیکن اس بات سے اب انکار ممکن نہیں کہ اس اصطلاح نے اس دنیا کو ایک ایسی منڈی بنا دیا ہے  جس میں مادیت کی حکمرانی ہے ۔اور اس دنیا میں رہنے والے ہم سب لوگ اتنے جعلی ہیں کہ خود کے اندر داخل ہو کر بھی اپنے اصلی وجود کا سراغ حاصل نہیں کر سکتے ۔ہم آج ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جس میں ضرورت سے زیادہ مادیت کی بھوک ہی ہمارا کلچر بن کر رہ گیا ہے ۔ ہمارا ماحول امیر اور باطن غریب ہوچکا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ دنیا بدل رہی ہے جو صرف ایک بکواس ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ مادیت کی بھوک نے ہمیں اس قدر خود پسند بنا دیا ہے کہ ہم سب اپنی اپنی آسائشوں کے حصول کی تگ ودو میں ایک دوسرے کے سامنے بطور حریف کھڑے ہو گئے ہیں اور ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جسے مسابقہ یا ہیلدی کمپیٹیشن کا نام دے کر خود کو بہلانے میں مصروف ہیں ۔اور اس مسابقے میں ہماری مادی بھوک بڑھتی جا رہی ہے۔ ہم زمین کے وسائل کو بے دریغ استعمال کر کے اسے بنجر بناتے جا رہے ہیں ۔ ہمارا سکون غارت ہو چکا ہے ۔اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ذہنی خلجان سے لے کر نہ جانے کتنے عوارض نے ہمارے جسم کو اپنی رہائش گاہ قرار دے لیا ہے ۔ترقی یافتہ کہلانے اور ماڈرن تہذیب کا فرد ہونے کا فخر حاصل کرنے کی دھن میں ہم سے ہمارا کیا کچھ غائب ہو گیا ہے اس کا ہمیں احساس بھی نہیں ہے ۔لیکن خود کو ہم اپ ڈیٹ سمجھتے ہیں ہمارا یقین ہے کہ ہم جس گلوبل ویلیج کے فرد ہیں اس میں مواسلات کے ذرائع اتنے کارگر ہیں کہ کوئی کسی سے کچھ چھپا ہی نہیں سکتا ۔سب کچھ روز روشن کی طرح عیاں ،لیکن پھر بھی ہم یہ دیکھ نہیں پارہے ہیں کہ
امریکہ میں 18 فیصد بالغ افراد نیند کی گولیاں کھا رہے ہیں۔ پوری آبادی میں سے تین میں سے ایک شخص کو نیند کی گولیاں کھانی پڑتی ہیں۔ فرانس میں 32 فیصد لوگ اس بیماری کا شکار ہیں۔ سویڈن میں 2000 سے 2022 کے درمیان بالغوں میں اس بیماری میں 71 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ فرانس میں یہ تعداد 32 فیصد ہے۔ کوئی امیر ملک نہیں جو اس بحران سے نہ گزر رہا ہو۔ اعداد و شمار میں اتار چڑھاؤ ہو سکتا ہے، کیونکہ مختلف ادارے تحقیق کرتے ہیں اور انہیں شائع کرتے ہیں، لیکن اس کے پھیلاؤ پر کوئی تنازعہ نہیں ہے۔
 امریکہ میں نیند کی گولیاں لینے والوں میں گورے 10.4 فیصد اور کالے 6.1 فیصد ہیں۔ ایشیائی لوگوں کی تعداد صرف 2.8 فیصد ہے۔ نیند سے متعلق کاروبار پوری دنیا میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ امریکہ، جرمنی، فرانس، آسٹریلیا، سنگاپور، ملائیشیا، ہندوستان وغیرہ ممالک میں ذہنی اور طرز عمل کا عدم توازن تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دنیا بھر میں 20 فیصد بچے اس کا شکار ہیں۔ گزشتہ دہائی کے مقابلے اس بیماری میں تیرہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ آسٹریلیا میں 45 فیصد بالغ افراد اس بیماری کا شکار ہیں۔ ملائیشیا میں 2.92 فیصد نوجوان اس سے نبرد آزما ہیں۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تیاریاں بھی جاری ہیں۔ ڈاکٹروں، ادویات اور ماہر نفسیات کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ ایسے لوگوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ یہ بیماری خودکشی اور موت کی صورت میں بھی نکلتی ہے۔ یہ دنیا میں کل اموات کا 3.7 فیصد سبب بنتا ہے۔ اس بیماری اور اس کے نتائج میں ہندوستان بھی پیچھے نہیں ہے۔ کچھ تعلیمی ادارے، جہاں بچوں کو اپنے کیرئیر کو سنوارنے کے لیے بھیجا جاتا ہے، وہ انھیں سنبھال نہیں پاتے۔ خودکشیاں بڑھ رہی ہیں۔ہمارے ملک میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی خود کشیاں بھی ہمیں ڈرا رہی ہیں ۔ کوئنز لینڈ برین انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق چونکا دینے والی ہے۔ اس کے مطابق دنیا کی نصف آبادی اس ذہنی بیماری کا شکار ہو گی۔
لیکن ہم جو خود کو بہت باخبر سمجھتے ہیں اس مسلے سے نبرد آزما ہونے کے لئے کیا تیاری کر رہے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سہولتوں، امنگوں اور مادیت پسند رجحانات میں اضافے کے ساتھ انسان اپنے ذہن پر کنٹرول کیوں کھو رہا ہے؟ نو لبرل مادیت نے مسابقتی زندگی کو بازاری زندگی سے جوڑ دیا ہے۔ بیرونی دنیا، جس میں بازار سب سے نمایاں ہے، ہماری زندگی کی ثقافت کا تعین کر رہی ہے۔
مارکیٹ اور مادی وسائل کا فیصلہ ضروریات کے مطابق کیا گیا۔ اب مارکیٹ اور انتہائی مادیت کی بھوک ہماری ضروریات کا ایک مصنوعی  کلچر بنا رہی ہے۔ ہمارا ماحول امیر اور باطن غریب ہوتا جا رہا ہے۔ معاشرے کی یہ یک طرفہ شکل کیوں ابھر رہی ہے؟ اس خوفناک مسئلے کا حقیقی حل سماجی شعور، روحانی حساسیت اور مقامیت سے جڑی ثقافت کی ترقی ہے۔ روحانیت میں لوگوں کی عدم دلچسپی کی وجہ روحانی دنیا میں رسمی فطرت کا فروغ ہے۔ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس کا ہمارے اس ماضی سے کتنا رشتہ باقی بچا ہے جس ماضی میں نیند کے لئے نیند کی گولی نہیں کھانی پڑتی تھی ۔طالب علم خودکشی پر آمادہ نہیں ہوتے تھے ۔دولت کی فراوانی کے باوجود انسانیت بھی باقی تھی ۔بادشاہ وقت بھی اپنی خوشیوں میں عوام الناس کو شریک کرتے تھے اور کبھی کبھی پورا ملک بادشاہ کی خوشی میں شریک ہوتا تھا ۔لیکن آج ہم اپنے اپارٹمنٹ کے تمام مکینوں کے ساتھ مل کر کوئی خوشی سیلیبریٹ نہیں کرتے ۔
اب یہ طئے کرنا مشکل ہے کہ ہم بدل گئے ہیں ،دنیا بدل گئی ہے ،یاپھر ہماری فکر ی پرداخت رک گئی ہے ؟ہم ترقی یافتہ ہوئے ہیں یا مزید سکڑ گئے ہیں ؟
ReplyForward

Add reaction
شعیب رضا فاطمی
دنیا ایک گاؤں ہے کی اصطلاح چاہے کتنی ہی مستعمل ہو  لیکن اس بات سے اب انکار ممکن نہیں کہ اس اصطلاح نے اس دنیا کو ایک ایسی منڈی بنا دیا ہے  جس میں مادیت کی حکمرانی ہے ۔اور اس دنیا میں رہنے والے ہم سب لوگ اتنے جعلی ہیں کہ خود کے اندر داخل ہو کر بھی اپنے اصلی وجود کا سراغ حاصل نہیں کر سکتے ۔ہم آج ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جس میں ضرورت سے زیادہ مادیت کی بھوک ہی ہمارا کلچر بن کر رہ گیا ہے ۔ ہمارا ماحول امیر اور باطن غریب ہوچکا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ دنیا بدل رہی ہے جو صرف ایک بکواس ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ مادیت کی بھوک نے ہمیں اس قدر خود پسند بنا دیا ہے کہ ہم سب اپنی اپنی آسائشوں کے حصول کی تگ ودو میں ایک دوسرے کے سامنے بطور حریف کھڑے ہو گئے ہیں اور ایک ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جسے مسابقہ یا ہیلدی کمپیٹیشن کا نام دے کر خود کو بہلانے میں مصروف ہیں ۔اور اس مسابقے میں ہماری مادی بھوک بڑھتی جا رہی ہے۔ ہم زمین کے وسائل کو بے دریغ استعمال کر کے اسے بنجر بناتے جا رہے ہیں ۔ ہمارا سکون غارت ہو چکا ہے ۔اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ذہنی خلجان سے لے کر نہ جانے کتنے عوارض نے ہمارے جسم کو اپنی رہائش گاہ قرار دے لیا ہے ۔ترقی یافتہ کہلانے اور ماڈرن تہذیب کا فرد ہونے کا فخر حاصل کرنے کی دھن میں ہم سے ہمارا کیا کچھ غائب ہو گیا ہے اس کا ہمیں احساس بھی نہیں ہے ۔لیکن خود کو ہم اپ ڈیٹ سمجھتے ہیں ہمارا یقین ہے کہ ہم جس گلوبل ویلیج کے فرد ہیں اس میں مواسلات کے ذرائع اتنے کارگر ہیں کہ کوئی کسی سے کچھ چھپا ہی نہیں سکتا ۔سب کچھ روز روشن کی طرح عیاں ،لیکن پھر بھی ہم یہ دیکھ نہیں پارہے ہیں کہ
امریکہ میں 18 فیصد بالغ افراد نیند کی گولیاں کھا رہے ہیں۔ پوری آبادی میں سے تین میں سے ایک شخص کو نیند کی گولیاں کھانی پڑتی ہیں۔ فرانس میں 32 فیصد لوگ اس بیماری کا شکار ہیں۔ سویڈن میں 2000 سے 2022 کے درمیان بالغوں میں اس بیماری میں 71 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ فرانس میں یہ تعداد 32 فیصد ہے۔ کوئی امیر ملک نہیں جو اس بحران سے نہ گزر رہا ہو۔ اعداد و شمار میں اتار چڑھاؤ ہو سکتا ہے، کیونکہ مختلف ادارے تحقیق کرتے ہیں اور انہیں شائع کرتے ہیں، لیکن اس کے پھیلاؤ پر کوئی تنازعہ نہیں ہے۔
 امریکہ میں نیند کی گولیاں لینے والوں میں گورے 10.4 فیصد اور کالے 6.1 فیصد ہیں۔ ایشیائی لوگوں کی تعداد صرف 2.8 فیصد ہے۔ نیند سے متعلق کاروبار پوری دنیا میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ امریکہ، جرمنی، فرانس، آسٹریلیا، سنگاپور، ملائیشیا، ہندوستان وغیرہ ممالک میں ذہنی اور طرز عمل کا عدم توازن تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دنیا بھر میں 20 فیصد بچے اس کا شکار ہیں۔ گزشتہ دہائی کے مقابلے اس بیماری میں تیرہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ آسٹریلیا میں 45 فیصد بالغ افراد اس بیماری کا شکار ہیں۔ ملائیشیا میں 2.92 فیصد نوجوان اس سے نبرد آزما ہیں۔
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تیاریاں بھی جاری ہیں۔ ڈاکٹروں، ادویات اور ماہر نفسیات کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ ایسے لوگوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ یہ بیماری خودکشی اور موت کی صورت میں بھی نکلتی ہے۔ یہ دنیا میں کل اموات کا 3.7 فیصد سبب بنتا ہے۔ اس بیماری اور اس کے نتائج میں ہندوستان بھی پیچھے نہیں ہے۔ کچھ تعلیمی ادارے، جہاں بچوں کو اپنے کیرئیر کو سنوارنے کے لیے بھیجا جاتا ہے، وہ انھیں سنبھال نہیں پاتے۔ خودکشیاں بڑھ رہی ہیں۔ہمارے ملک میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی خود کشیاں بھی ہمیں ڈرا رہی ہیں ۔ کوئنز لینڈ برین انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق چونکا دینے والی ہے۔ اس کے مطابق دنیا کی نصف آبادی اس ذہنی بیماری کا شکار ہو گی۔
لیکن ہم جو خود کو بہت باخبر سمجھتے ہیں اس مسلے سے نبرد آزما ہونے کے لئے کیا تیاری کر رہے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سہولتوں، امنگوں اور مادیت پسند رجحانات میں اضافے کے ساتھ انسان اپنے ذہن پر کنٹرول کیوں کھو رہا ہے؟ نو لبرل مادیت نے مسابقتی زندگی کو بازاری زندگی سے جوڑ دیا ہے۔ بیرونی دنیا، جس میں بازار سب سے نمایاں ہے، ہماری زندگی کی ثقافت کا تعین کر رہی ہے۔
مارکیٹ اور مادی وسائل کا فیصلہ ضروریات کے مطابق کیا گیا۔ اب مارکیٹ اور انتہائی مادیت کی بھوک ہماری ضروریات کا ایک مصنوعی  کلچر بنا رہی ہے۔ ہمارا ماحول امیر اور باطن غریب ہوتا جا رہا ہے۔ معاشرے کی یہ یک طرفہ شکل کیوں ابھر رہی ہے؟ اس خوفناک مسئلے کا حقیقی حل سماجی شعور، روحانی حساسیت اور مقامیت سے جڑی ثقافت کی ترقی ہے۔ روحانیت میں لوگوں کی عدم دلچسپی کی وجہ روحانی دنیا میں رسمی فطرت کا فروغ ہے۔ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں اس کا ہمارے اس ماضی سے کتنا رشتہ باقی بچا ہے جس ماضی میں نیند کے لئے نیند کی گولی نہیں کھانی پڑتی تھی ۔طالب علم خودکشی پر آمادہ نہیں ہوتے تھے ۔دولت کی فراوانی کے باوجود انسانیت بھی باقی تھی ۔بادشاہ وقت بھی اپنی خوشیوں میں عوام الناس کو شریک کرتے تھے اور کبھی کبھی پورا ملک بادشاہ کی خوشی میں شریک ہوتا تھا ۔لیکن آج ہم اپنے اپارٹمنٹ کے تمام مکینوں کے ساتھ مل کر کوئی خوشی سیلیبریٹ نہیں کرتے ۔
اب یہ طئے کرنا مشکل ہے کہ ہم بدل گئے ہیں ،دنیا بدل گئی ہے ،یاپھر ہماری فکر ی پرداخت رک گئی ہے ؟ہم ترقی یافتہ ہوئے ہیں یا مزید سکڑ گئے ہیں ؟
ReplyForward

Add reaction
ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    مارچ 26, 2026
    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    مارچ 26, 2026
    وندے ماترم کسی پر لازم نہیں: سپریم کورٹ کی وضاحت

    وندے ماترم کسی پر لازم نہیں: سپریم کورٹ کی وضاحت

    مارچ 26, 2026
    کانگریس کا خواتین ریزرویشن کے معاملے پر  وزیراعظم نریندر مودی پر یو ٹرن لینے کا الزام

    کانگریس کا خواتین ریزرویشن کے معاملے پر وزیراعظم نریندر مودی پر یو ٹرن لینے کا الزام

    مارچ 26, 2026
    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    گھر میں نہیں پڑھی جا سکتی اجتماعی نماز:ہائی کورٹ

    مارچ 26, 2026
    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    ہندوستان میں ایندھن کا کوئی بحران نہیں: مودی حکومت

    مارچ 26, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist