2024ءمیں پارلیمنٹ چناؤ ہونے جارہا ہے۔ اس چناؤ کے لئے دو قومی پارٹیوں (بھاجپا اور کانگریس) کے بیچ ہی ٹکر ہونے کا ماحول بنایا جارہا ہے۔ ایک طرف مودی اور شاہ کی جوڑی ہے تو دوسری طرف بھائی اور بہن کی جوڑی ہے۔ پہلی جوڑی تو اس وقت فل پاور میں ہے جو مذہب کی بنیاد پر پھر سے ووٹوں کو یکجا کر بازی مارنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ ( حالانکہ اس نے مسلمانوں کے دبے کچلے طبقات کو اپنی طرف کھینچنے کا بھی ایک پانسا پھینکا ہے جس پر ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے)۔ اس کے برعکس دوسری طرف بھائی بہن کی جوڑی مہنگائی، بیروزگاری، بھرشٹاچار اور نفرت کی بازار جیسے ایشوز کو لے کر روڈ پر نکلی ہوئی ہے۔ پہلی جوڑی کے پیچھے تقریباً سو سال کی ایک ایسی تاریخ اور وچار دھارا ہے جو سماج کے رُخ کو لیک سے ہٹ کر سوچنے پر مجبور کرتا رہا ہے۔ دوسری جوڑی کے پیچھے تاریخ سے زیادہ ایک خاندان کا لیبل لگا ہوا ہے جسے پہلی جوڑی ہمیشہ نشانے پر رکھتا ہے۔ بہرحال یہ تو چلتا ہی رہے گا کیونکہ کرسی کا سوال ہے لیکن بھارت اور بھارت واسیوں کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس ”ٹو پارٹی سسٹم“ سے اسے فائدہ زیادہ ہے یا نقصان ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ملک بھارت میں جہاں ذاتوں، دھرموں اور علاقائیت در علاقائیت کی بھرمار ہے وہاں ”ٹو پارٹی سسٹم“ اتنا فائدہ مند ثابت نہیں ہوگا جتنا امریکہ، انگلینڈ یا دیگر انگریزی ملکوں میں ہے۔ یہاں کے لئے ’مضبوط نہیں بلکہ مجبور‘ سرکار چاہئے کیونکہ یہاں کی ٹا پ کرسیوں پر برہمنزم کی روح سوار رہتی ہے۔ اسی صدی میں دیکھئے کہ شروع میں واجپئی کی سرکار تھی جو الائنس پر ٹکی ہوئی تھی اور سب کو ساتھ لے کر چلنے پر مجبور تھی۔ اس سرکار میں علاقائی پارٹیوں کی بات بھی سنی گئی اور ریاستوں میں کام بھی ہوا تھا۔ 2004 کے لوک سبھا چناؤ میں واجپئی سرکار ہار گئی اور یوپی اے کی الائنس سرکار بنی جسے سردار منموہن سنگھ نے قیادت دی۔ اس یوپی اے فرسٹ میں چونکہ الائنز پارٹنرز چونکہ مضبوط تھے اس لئے اچھے سے کام ہوا اور علاقائی پارٹیوں کی بھی خوب چلی جو بہار جیسی بیکورڈ ریاست کو کافی سوٹ کیا۔ 2009ءمیں پھر اسی الائنس کی جیت ہوئی اور سردار منموہن سنگھ پھر سے وزیر اعظم ہند ہے، فرق اتنا ہی ہوا کہ اس بار کانگریس مضبوط بن کر اُبھری اور اس کے کئی مضبوط پارٹنرز ہار گئے۔ یوپی اے کے کئی پارٹنرز کی کمزوری کا کانگریس (قومی پارٹی) نے یہ فائدہ اٹھانا شروع کیا کہ من مانی ڈھنگ سے فیصلے لینے شروع کئے اور ایسے ایسے فیصلے لئے کہ سماج دنگ ہونے لگا۔ مہنگائی اور بیروزگاری کا گراف تو اتنی تیزی سے بڑھنے لگا کہ مانو یہ سرکاری
کنٹرول سے باہر ہو،2014 کا الیکشن آتے آتے ایسا محسوس ہونے لگا کہ اس بار کانگریس 50 سیٹ سے بھی نیچے چلی جائے گی، جبکہ 2009 میں اسے 206 سیٹ سے بھی زیادہ ملے تھے۔ اسی مہنگائی، بیروزگاری ودیگر بنیادی مسائل کو لے بھاجپا کھڑی ہوگئی اور اس نے یوپی اے کو اچھی طرح سے پٹخ دیا۔ اس طرح 2014 میںپھر سے ایک بار این ڈی اے کی سرکار بنی جسے نریندر مودی جی نے قیادت دی۔ اس طرح 2014 کے الیکشن میں ایسا لگا جیسے کانگریسنے کرسی اٹھاکر بھاجپا کے حوالے کردیا۔ واجپئی جی کے مقابلے مودی جی کی این ڈی اے میں بھاجپا کو اتنی سیٹ تھی کہ وہ بغیر الائنس پارٹنرز کے بھی اپنی حکومت چلالے،لیکن اس نے پارٹنرز کو ساتھ ضرور رکھا، لیکن پنگو بناکر رکھا۔ اپنے پہلے پانچ سالوں میں تو مرکزی سرکار نے گرچہ وہی فیصلے لیے، جو سنگھ کے ایجنڈے میں پہلے سے ہی تھے، لیکن سنبھل سنبھل کر چلے تاکہ ایجنڈا بھی پورا ہوتا رہے۔ اور لوگوں کے بیچ غلط پیغام بھی نہ جائے۔ حالانکہ 2019 کے لوک سبھا الیکشن کے پہلے اسی طرحکا ماحول بن چکا تھا کہ ملک کو لگنے لگا کہ مودی جی گئے لیکن اس بار بھاجپا کو 300 سے بھی زیادہ سیٹیں ملیں اور وہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط وزیراعظم ہند ہیں۔ اس کے بعد مرکزی سرکار کے جو فیصلے آنے شروع ہوئے وہ بالکل بے لگام طریقہ سے اسی طرح آنے لگے جیسے یوپی اے کے آنے لگے تھے۔ مطلب یہ کہ کسی بھی قومی پارٹی (کانگریس یا بھاجپا) کل فل پاور والیسرکار ہی ہے۔ اس کے ذریعہ لیے گئے فیصلے ہمیشہ سخت لگ رہے ہیں اور من مانی ڈھنگ کے رہے ہیں۔ اس طرح کے فیصلوںکا سب سے بڑا اثر سماج کے کمزور طبقوں پر ہی دیکھا گیاہے۔ چاہے کوئی مانے یا نہ مانے لیکن یہ بات محسوس کیجاسکتی ہے کہ ان دونوں قومی پارٹیوںکا ’تھینک ٹینک‘ ایک ہی ہے جو مہاتما پھولے، ڈاکٹر امبیڈکر، ناٹیکر، ساہو مہاراج، کرپوری ٹھاکر، کانششی رام، نتیش کمار،جیسی ہستیوں کی وچار دھاراکے خلاف ہے،لیکن چونکہ فی الوقت یہی دونوںقومی پارٹیاںہیں اور مرکزی سرکار جب بھی بنے گی تو ان دونوں کے بغیر نہیں بن سکتی ہے۔ اس لیے سماج کے کمزور طبقات کے مفاد میںبہتر یہی ہو کہ علاقائی پارٹیوں کو مضبوط کرکے ان دونوںکو الائنس میں رہنے پر مجبور رکھا جائے جو لگام کا کام کرتارہے گا۔ بھارتیوںکے ہاتھ میں ابھی موقع بھی ہے۔
غور کرکے دیکھیں تو بڑی ریاستوں میں مدھیہ پردیش، راجستھان، گجرات، آسام جیسی دو چار ریاستیں ہی ہیں جہاںکانگریس اور بھاجپاکے بیچ سیدھا ٹکر ہوتا ہے،ورنہ زیادہ تر ریاستوںمیں تو علاقائی پارٹیوں سے ہی بھاجپا یا کانگریس کی تھنک ٹینک کو ڈر بنارہتا ہے۔ لہٰذا عام بھارتیوں،خاص کر کمزور طبقات کو کمزور طبقات کو چاہئے کہ علاقائی پارٹیوں کو ضرور مضبوط رکھیں تاکہ مڑکر میں بننے والی بھی سرکار میں ان کی شمولیت لگام لگا رہے، ورنہ ان دونوں قومی پارٹیوں کی دلی منشاءیہی ہے کہ اقتدار کی کرسی انہیں دونوںمیں سے کسی ایک کے قبضے میں رہے۔ شودروںکے ہاتھوںمیں نہ چلاجائے۔ انہیں پتہ ہے کہ اگر بھارت کی سیاسی باگ ڈور شودروں کے ہاتھوںمیں چلی گئی تو پھر اسے برہمنزم کی طرف واپس لانا بہت مشکل ہوجائے گا،کیوںکہ ’سب کا ساتھ اور سب کا وکاس‘ کی تھیوری (سمجھ) دراصل مہاتماپھولے، ڈاکٹر امبیڈکر، کانشی رام وغیرہ کی ہی ہے،لیکن اسی تھیوری کے کور میں مول واسیوں کو چھوڑ باقی پروشواس نہیں کرنے کا پرنسپل ہے۔ چونکہ زیادہ تر علاقائی پارٹیاں شودروں کی ہیں جہاں مختلف ذاتوں کو مناسب حصہ داری دینے کاہمیشہ ٹینشن بنا رہتا ہے۔ اسی تناؤ کا فائدہ اٹھاکر یہ قومی پارٹیاں ان ذاتوں کے بیچ دراڑ پیدا کرنے میں لگی رہتی ہےں تاکہ ’کٹوا پارٹی سسٹم‘ کو مضبوطی ملے۔ غلطیاں شودروں سے بھی ہوتی رہی ہیں کہ کرسی پر بیٹھنے کے بعد ان کا مزاج بھی سماجی انصاف کے بجائے سامنتی وچار دھارے کی طرف مڑنے لگتا ہے اور پھر ”سستا اور پتا“ کے کھیل میںذاتی طور پر اتنا ڈوبنے لگتے ہیں کہ خاندانبازی اور ذات پرستی سے آگے بڑھتے ہی نہیں۔ یہی کھیل علاقائی پارٹیوں کے لیے ’دیمک‘ کا کام کرتاہے۔
علاقائی پارٹیوں کے اس رویہ کو بھی درست کرنے کی ضرورت ہے لیکن قومی پارٹیوں کے چکر میں انہیں کمزور نہیں کرنا ہے بلکہ لیڈر شپ بدل دیا جائے۔ لہٰذا ہر مذہب کے کمزور طبقات کو چاہئے کہ ووٹ کی سیاست میں ایک جُٹ رہیں اور علاقائی پارٹیوں کو ہی مضبوطی دیتے رہیں۔ قومی سیاسی پارٹیوں یا مذہبی بنیاد پر بنی پارٹیوں کے جھانسے میں بالکل نہیں آئیں۔ قومی سیاسی پارٹیاں اپنی مفاد میں مضبوط سرکار بنانے پر زور دیتی ہیں اور دیتی رہیں گی جبکہ کمزور طبقات کی بھلائی اسی میں ہے کہ مجبور سرکار بنتی رہے تاکہ ملک و سماج کی ترقی کا رُخ Centrifugal ہو Centripetal نہیں یعنی ترقی کا رُخ گاؤں سے شہر کی طرف اور کمزور طبقات سے جنرل طبقات کی طرف ہو۔ اس موقع پر اس بات کو بھی درج کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کو بھی ٹکراؤ کی سیاست سے پرہیز کرتے ہوئے سماجی انصاف کی ڈور کو مضبوطی سے پکڑے رہنا پڑے گا اور کرسی کی لالچ کو چھوڑ کر شودروں کی مختلف ٹکڑوں کے بیچ اتحاد کی کڑی بننے کا رول ادا کرنا ہوگا۔ ابھی اپنی حصہ داری مانگنے سے پرہیز کرتے ہوئے سماجی انصاف کی باتوں پر زور دینا ہوگا۔ شیڈول کاسٹ، شیڈول ٹرائب، انتہائی پسماندہ اور پچھڑے طبقات کی لیڈرشپ کو سامنے رکھتے ہوئے پیچھے سے خاموشی کے ساتھ اس طرح مضبوطی سے کھڑے رہیں تاکہ مخالف طاقتوں کو مسلمانوں کی اس نئی حکمت کا اندازہ بھی نہ لگے، ان کی زور آزمائش کا احساس بھی نہ ہو لیکن جن کے پیچھے کھڑے ہوں وہ یہ ضرور سمجھیں کہ یہ کس سماج کی طاقت ہے جو سامنے تو نہیں آئی لیکن سائے کی طرح ان کے ساتھ رہی ہے اور اُن کی قیادت کو مضبوطی دیتی رہی ہے۔












