مدھہ پردیش میں منعقد کھیلو انڈیا یوتھ گیمز میں نوجوان کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ خوشگوار بات یہ ہے کہ لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں نے بھی مختلف مقابلوں میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اپنی اپنی ریاستوں کے لیے تمغوں کی جھاڑیاں لگا دیں۔ کھیلو انڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو اپنے کھیل کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا مرکزی حکومت کی قابل ستائش کوشش ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان کے بہترین کھلاڑی بین الاقوامی سطح کے مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے ابھریں گے۔ درحقیقت پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل بھی زندگی کا ایک انمول حصہ ہیں۔ جس کی وجہ سے بچے جسمانی اور ذہنی طور پر ترقی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی حکومت مختلف مقامات پر جدید ترین سہولیات سے آراستہ اسپورٹس سنٹر بنا رہی ہے تاکہ کھیلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے والے بچوں اور نوجوانوں کو پریکٹس کی تمام سہولتیں دستیاب ہو سکیں۔
ٹیلنٹ شہروں سے زیادہ دیہاتوں سے نکلتا ہے۔ دیہات کی مٹی سے نکل کر کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر ملک کی عزت میں اضافہ کرتے ہیں کیونکہ شہروں کے مقابلے دیہات میں کھیل کے میدان آسانی سے دستیاب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں کے لڑکے اور لڑکیاں کھیلوں میں سبقت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن اتراکھنڈ جیسی پہاڑی ریاستوں کے کچھ دیہی علاقے ہیں جہاں کھیل کے میدانوں کی کمی ہے۔ جس کی وجہ سے نوجوانوں خصوصاً لڑکیوں کو اس میں کھیلنے اور کیریئر بنانے میں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گاؤں میں کھیل کے میدان نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنا ہنر دکھانے سے قاصررہ جاتے ہیں، کیونکہ اسے نہ تو موقع ملتا ہے اور نہ ہی وہ ماحول ملتا ہے، جس کی مدد سے وہ اپنے اندر چھپے ٹیلنٹ کو نکھار سکے۔ گراؤنڈ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی صلاحیتوں اور کیریئر کا دم گھٹ جاتا ہے۔
کپکوٹ بلاک کا دھورکٹ گاؤں، اتراکھنڈ کے باگیشور ضلع سے 25 کلومیٹر دور، دریائے سریو کے کنارے واقع ہے۔ اس گاؤں کی آبادی تقریباً 5 ہزار ہے۔ لیکن پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے گاؤں میں زمین کی کمی ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں کے بچوں کو کھیلنے میں اور نوجوانوں کو مشق کرنے میں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی کمی کی وجہ سے انہیں کھیلوں کے مقابلوں میں شکست کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ گاؤں کے کھلاڑی وسائل کی کمی کی وجہ سے پریکٹس سے محروم ہیں۔ گراؤنڈز کی کمی سے سب سے زیادہ متاثر لڑکیاں ہوتی ہیں جو نہ صرف اپنے پسندیدہ کھیل سے محروم رہتی ہیں بلکہ اس کی وجہ سے ان کی جسمانی نشوونما بھی رک جاتی ہے۔ فٹ بال ہو یا والی بال، ہاکی ہو یا کرکٹ، انہیں پریکٹس کے لیے نہ تو سہولت ملتی ہے نہ گراؤنڈ۔
اس حوالے سے گاؤں کی نوعمر لڑکیاں ممتا اور پوجا کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے ذریعے وہ خود کو جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند پاتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے میدان کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گاؤں میں لڑکیوں کے لیے کھیل کے میدان بھی ہونے چاہئیں لیکن مقامی معاشرہ اس معاملے کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ یہاں لڑکیوں کے کھیلوں پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے اندرونی ٹیلنٹ کو نکھارنے سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں میں ایسی بہت سی لڑکیاں ہیں جن کے لیے اگر گراؤنڈ کا مناسب انتظام کیا جائے تو وہ قومی اور بین الاقوامی کھیلوں میں بھی اتراکھنڈ کا نام روشن کر سکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں ایک اسکول گراؤنڈ ہے، لیکن اسکول بند ہونے کے بعد وہ وہاں بھی نہیں جا پا رہے ہیں۔
گاؤں کی آشا کارکن دیپا دیوی کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کے لیے کھیل کے میدان نہ ہونے کی وجہ سے ان کی جسمانی نشوونما رک جاتی ہے۔ جس کا براہ راست اثر ان کی صحت پر پڑتا ہے۔ اس نے بتایا کہ گاؤں سے تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلے پر ایک گراؤنڈ موجود ہے، جہاں لڑکے آسانی سے کھیلنے جاتے ہیں، لیکن لڑکیوں کے لیے روزانہ وہاں جانا آسان نہیں ہے۔ کبھی کبھی کھیلنے جانے والی لڑکی بھی دیر سے گھر لوٹتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ راستے میں پرتشدد جانوروں یا کسی ناخوشگوار واقعے سے ڈرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاید ہی کوئی لڑکی اب تک کھیلنے یا مشق کرنے کی ہمت کر سکی ہے۔ اگر گاؤں میں ہی کھیل کا میدان ہو تو لڑکیوں کو بھی کھیلنے کے کافی مواقع ملیں گے، جس سے کھیلوں میں بھی ان کا مستقبل بن سکتا ہے۔
دوسری جانب گاؤں کی ایک خاتون بھونا آریہ کا ماننا ہے کہ گاؤں کے بچوں میں کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کی اچھی صلاحیت ہیں، لیکن ان کے پاس پریکٹس کے لیے گراؤنڈ دستیاب نہیں ہے۔اس سلسلے میں گاؤں کی سرپنچ سیتا دیوی بھی مانتی ہیں کہ گاؤں میں کھیل کے میدان کا نہ ہونا ایک بڑی خرابی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ منفی اثر ان لڑکیوں پر پڑتا ہے جو نہ صرف اپنے جسمانی اثرات کو روکتی ہیں بلکہ ان کی صلاحیتیں بھی دب کر رہ جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی بار کوشش کرنے کے بعد بھی ہماری یہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکی لیکن پھر بھی ہم کوشش کریں گے کہ ہمارے گاؤں میں کھیل کا میدان ضرور ہو، جہاں لڑکیاں بھی کھیل سکیں۔ اس معاملے پر سماجی کارکن نیلم گرانڈی کا کہنا ہے کہ آج ہمارے دیہی علاقوں میں بہت سی ایسی لڑکیاں موجود ہیں جو کھیلوں کی دنیا میں آگے بڑھ رہی ہیں اور اپنی شناخت بنا رہی ہیں۔ ایسے میں ڈھرکوٹ گاؤں میں کھیل کے میدان کا نہ ہونا نوعمر لڑکیوں کو کافی پریشانی کا باعث بن رہا ہے جس کی وجہ سے وہ جسمانی اور ذہنی طور پر پیچھے رہ جاتی ہیں۔
ہر سال کسی نہ کسی شکل میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والے مقابلے آج بھی کھیلوں کو دی جانے والی اہمیت کی ایک مثال ہیں۔ ایسے میں مرکزی حکومت کا کھیلو انڈیا پروگرام اور اس کے تحت منعقد ہونے والے مقابلے دیہی سطح کے کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کا سنہری موقع فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن اتراکھنڈ کے اس دور افتادہ گاؤں دھورکوٹ کے کئی باصلاحیت نوجوان کھلاڑی اس سنہری موقع سے صرف اس لیے محروم ہو رہے ہیں کہ ان کے پاس پریکٹس کے لیے گراؤنڈ نہیں ہے، جو کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہے۔












