نئی دہلی، لوک سبھا کی رکنیت منسوخ کئے جانے پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اپنے شدید ردعمل کااظہار کیا ہے۔انہوںنے مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ و ہ جمہوریت کے لئے لڑ رہے ہیں ،اور ڈرنے والے نہیں ہیں۔ اڈانی گروپ گھپلہ معاملے پر بولتے ہوئے انہوںنے کہا کہ بی جے پی سوالات سے توجہ بھٹکانے کے لئے ان پر او بی سی برادری کی توہین کا الزام لگا رہی ہے۔ انہوںنے زور دیتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ اڈانی گروپ پر 20ہزار کروڑ روپے لگائے گئے ہیں ،یہ کس کا پیسہ ہے؟۔وہیں یہ بھی دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ انہیں لوک سبھا کی رکنیت سے اس لئے نا اہل قرار دیا گیا کیونکہ وزیر اعظم مودی اس بات سے خوف زدہ تھے کہ وہ دوبارہ ایوان میں اڈانی مسئلہ پر بات کرینگے ۔ راہل گاندھی نے کہا کہ جب یہ لوگ کہتے ہیں کہ راہل گاندھی معافی مانگ لیتے تو راہل کیا سوچتے ہیں ،اس پر راہل گاندھی نے کہا، میں کسی سے ڈرنے والا نہیں ،میرا نام ساورکر نہیں، میرا نام گاندھی ہے ،گاندھی کسی سے معافی نہیں مانگتے۔ کانگریس لیڈر نے کہا، ’’اڈانی جی کی ایک شیل کمپنی ہے، اس میں کسی نے 20000کروڑ روپے لگائے ہیں، یہ کس کا پیسہ ہے؟ میں نے یہ سوال پوچھا۔ مودی جی اور اڈانی جی کے درمیان تعلقات کے بارے میں پوچھا ایوان میں میری بات سنی جاتی ہے۔’کارروائی سے ہٹا دیا گیا ہے‘۔او بی سی کمیونٹی کی توہین کرنے کے بی جے پی کے الزام پر راہل نے کہا،’میں نے ہمیشہ بھائی چارے کی بات کی ہے، یہ (مودی سر نیم پر تبصرہ کیس) او بی سی کے بارے میں نہیں ہے۔ اڈانی معاملے سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے وزراء کی طرف سے نااہلی، الزام تراشی کا سارا کھیل کھیلا گیا۔ اگر وہ مجھے مستقل طور پر نااہل کر دیں تب بھی میں اپنا کام کرتا رہوں گا۔ میں یہاں ہندوستان کے لوگوں کی جمہوری آواز کی حفاظت کے لیے آیا ہوں۔ یہ کرتا رہوں گا، میں کسی سے نہیں ڈرتا۔
راہل نے کہا’میں سچ دیکھتا ہوں، میں سچ بولتا ہوں، یہ چیز میرے خون میں ہے… یہ میری تپسیا ہے، میں اسے کرتا رہوں گا۔ چاہے مجھے نااہل کیا جائے، مارا پیٹا جائے، جیل میں ڈال دیا جائے، ایسا نہیں ہوتا۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، مجھے اپنی تپسیا کرنی ہے‘۔ راہل نے کہا ’مجھے نااہل قرار دیا گیا کیونکہ وزیراعظم میری اگلی تقریر سے ڈر گئے تھے جو اڈانی پر ہونے والی تھی۔ میں نے ان کی آنکھوں میں یہ خوف دیکھا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ممبر شپ ملے یا نہ ملے۔ مجھے مستقل طور پر نااہل کر دیں، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں پارلیمنٹ میں ہوں یا نہیں۔اپوزیشن اتحاد کے معاملے پر راہل نے کہا کہ میں تمام اپوزیشن پارٹیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری حمایت کی، ہم سب مل کر کام کریں گے۔ حکومت کے گھبراہٹ کے ایکشن کا فائدہ اپوزیشن کو ہوگا۔انہوںنے کہا کہ ان کے بارے میں وزراء نے جھوٹ بولا ،جبکہ میں نے کوئی ایسی بات نہیں کی گئی تھی جسکا دعویٰ کیا گیا تھا۔میں نے لوک سبھا اسپیکر سے گزارش کی تھی کہ مجھے جواب دینے کا موقع ملے۔میں اسپیکر کے چیمبر میں گیامیں نے کاہ یہ قانون ہے ،ضابطہ ہے ان لوگوںنے جھوٹا الزام لگایا ہے ،آپ مجھے بولنے کیوں نہیں دے رہے ؟اسپیکر صاحب مسکرائے اور کہا کہ’ میں ایسا نہیں کر سکتا‘۔ واضح ہو کہ جمعرات کو راہل گاندھی کو ’’مودی سر نیم ‘‘ کیس میں گجرات کی عدالت سے دو سال کی سزا سنائی گئی تھی جس کے بعد ان کی لوک سبھا کی رکنیت منسوخ کر دی گئی ۔












