تہران، (یو این آئی) ایران کے سابق وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی لاپرواہ جارحیت” کا ذکر کرتے ہوئے اس سے امن قائم کرنے کی اپیل کی ہے۔مسٹر ظریف نے کہا کہ طویل مدت کا تنازعہ صرف تباہی اور غیر یقینی کو بڑھاتا ہے اور پائیدار حل کے لیے براہِ راست اور حقیقی مذاکرات ہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے تمام فریقوں سے پرامن طریقے سے تنازعات حل کرنے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ تنازعہ کے کسی بھی حل میں ایران کے قومی مفادات کا خیال رکھنا سب سے ضروری ہے۔سابق وزیر خارجہ نے اسرائیل- امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ ختم کرنے کے لیے اپنی تجویز کی تفصیل بیان کی۔ انہوں نے اس امن منصوبے کو عوام کے سامنے لانے کے حوالے سے اپنے اندرونی تذبذب کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ "ایک ایرانی ہونے کے ناطے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحیت اور ان کے توہین آمیز بیانات پر غصے میں ہوں۔ مجھے اپنی فوج اور اپنے ملک کے عوام پر فخر ہے، اسی لیے جریدہ فارن افیئرز میں اس امن منصوبے کی اشاعت کے بارے میں میں تذبذب کا شکار تھا۔ اس کے باوجود مجھے یقین ہے کہ جنگ کا خاتمہ ایران کے قومی مفادات کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔
"ایران کے نائب صدر اور وزیر خارجہ جیسے اہم عہدوں پر فائز رہنے والے مسٹر ظریف کا ماننا ہے کہ تمام مشکلات کے باوجود ایران، امریکہ-اسرائیل کے مسلسل فضائی حملوں کے سامنے مضبوطی سے ڈٹا ہوا ہے۔امریکی جریدہ فارن افیئرز میں اپنی تجویز پیش کرنے کے چند گھنٹوں بعد مسٹر ظریف نے کہا کہ ایران نے یہ جنگ شروع نہیں کی تھی، لیکن ایک ماہ سے زیادہ کی لڑائی کے بعد یہ واضح ہے کہ فتح ایران کی ہو رہی ہے۔ مسلسل بمباری کے باوجود ہم نے اپنے ملک کا دفاع کیا ہے اور حملہ آوروں کو سخت جواب دیا ہے۔”مسٹر ظریف نے اپنے مضمون میں خبردار کیا کہ اگرچہ ایران کو فوجی کامیابی حاصل ہو رہی ہے، لیکن آئندہ لڑائی سے عام عوام اور ملک کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تشدد ایک بڑے علاقائی یا عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس ظاہر کیا کہ جنگ کے پہلے ہی دن تقریباً 170 اسکولی بچوں کی ہلاکت پر دنیا خاموش ہے۔اپنے امن منصوبے میں مسٹر ظریف نے جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنی مضبوط فوجی پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ اگر امریکہ پابندیاں ہٹا لے تو ایران اپنے جوہری پروگرام پر حدود مقرر کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ مسٹر ظریف نے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک دوسرے پر حملہ نہ کرنے کے عہد کی بھی تجویز دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک دشمنی چھوڑ کر اقتصادی تعاون بڑھائیں تو ایران اپنی معیشت بہتر بنا سکتا ہے اور عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دے سکتا ہے۔












