مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ’’منشیات کے خلاف سخت کاروائی کر رہی ہے ، ظاہر ہے کہ اس کا مطلب منشیات فروشوں اور اس مافیا سے جڑے دوسرے لوگوں کے خلاف پراپرٹی کی ضبطی اور مسماری بھی ہوسکتی ہے یا ہو رہی ہے، عوامی سطح پر یقینی طور پر اس کی پذیرائی ہوگی،ایکس پر وزیر داخلہ نے مزید کہا ہے کہ ’نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لئے مودی حکومت اس مافیا کے خلاف بے رحمی سے خاتمہ کررہی ہے ،‘‘ عوام بھی چاہتے ہیں کہ ہر مافیا کے خلاف جو سماج کی صحت مند بنیادوں کو دیمک کی طرح کھو کھلا کرنے پر تلے ہوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ،، نشہ مکت ابھیان مرکزی سرکار کی جانب سے شروع ہوچکا ہے ، ایک احسن قدم قرار دیا جاسکتا ہے لیکن اس ضمن میں کئی سوال بھی اٹھتے ہیں کہ اس مکت کو اتنی دیر کے بعد کیوں اچانک شروع کیا گیا ہے ؟ لیکن ہم اس سوال پر اپنے خدشات اور تحفظات کو ابھارنے کے بجائے یہی بہتر سمجھتے ہیں کہ اس سےدیر آید درست آید ] سمجھ کر اس کی افادیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس کو سراہا جائے ، ، کیونکہ ارباب اقتدار ہمیشہ ہی کہیں نہ کہیں کسی اہم اور نازک پہلو کو عوام کی نظروںسے اوجھل رکھنے کی خاطر بہت سارے ’’ابھیان ‘‘ پنڈورہ بکس میں محفوظ رکھتے ہیں ۔ایل جی سنہا نے بھی جموں و کشمیر میں ۱۱ اپریل کو نشہ مکت مہم شروع کی ہے اور واضح پیغام دیا ہے کہ جب تک ہم منشیات کا مسلہ ہی ختم نہیں کریں گے ، چین سے نہیں بیٹھیں گے، یعنی سکھ کی سانس نہیں لیں گے ،،، بہت اچھی بات ہے اور اس کی توضیح میں یہ بات بھی فرمائی ہے کہ ’’ میں عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اگلے دنوں ہر پنچایت ،پولیس سٹیشن کو منشیات فروشوں سے پاک کیا جائے گا ، اور ہم یقین دلاتے ہیں کہ اس بات کا مدار نعروں یا ریلیوں پرنہیں بلکہ اس کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہوگا کہ دیہات اور شہروں کے محلوں سے منشیات کا خاتمہ ہو اور اس سلسلے میں ہفتہ وار نتائج کو پرکھا جائے گا ،، انہوں نے مزید کہا کہ یہ عوامی تحریک ہے اور محظ سرکاری حکم نہیں ، جس میں بزرگ اساتذہ اور سماج کے دوسرے افراد خود آگے بڑھ رہے ہیں ، اس میں کیا شک ہے کہ جب سرکار اور حکومتیں کسی چیز کو یا کسی مافیا کو ختم کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو ایسا ہونا کوئی ناممکن اور مشکل بات نہیں لیکن اس کے پیچھے عزائم ، مقاصد اور اہداف وہی ہوں جو بظاہر عوام تک پہنچائے جارہے ہیں ، کہ اگرچہ بہت دیر ہوچکی ہے کیونکہ ڈرگ مافیا ایسا نہیں کہ حال ہی میں یا چند برس پہلے وجود میں آچکا ہو بلکہ سرکار نے کئی کیمشن برسوں پہلے بھی بٹھائے تھےاور پورے بھارت میںایک سروے کے مطابق عادی ڈرگس لینے والوں کی تعداد ۲۰۲۱ میں ۵ پرسنٹ سے بڑی تیز رفتاری کے ساتھ منزلیں طئے کرکے ۲۰۲۲ تک ۱۴پرسنٹ تک ہو چکی تھی یہ اعداد و شمار صحیح ہیں تو آپ خودکلکولیٹ کرکے دیکھ سکتے ہیں کہ یہ آبادی کا کتنا بڑا حصہ ہے ۔اور اگر اس عفریت نے ا پنی یہ رفتار قائم رکھی تو آپ یہ بھی جان جائیں گے کہ یہ اتنا بڑا شاندار ماضی والا ملک مکمل طور پر بھنگیوں اور چرسیوں کی آرام گاہ میں کتنی مدت تک تبدیل ہو جائے گا۔ قائمہ کمیٹی برائے سماجی انصاف و عطائے اختیار، نے پچھلے سال لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں میں ڈرگس سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کی ہے ، یہ مرکزی قائمہ کمیٹی لوک سبھا اورراجیہ سبھا کے ۲۷ افراد پر مشتمل ہے اور اس کمیٹی نے محتاط طریقے سے جموں و کشمیر میں ڈرگس پر سروے کے بعد اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دے کر آخر پیش کیا ہے ،اس رپورٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ جموں و کشمیر شاید کرپشن میں جہاں سر فہرست اپنا مقام بنا چکا ہے شاید اسی طرح منشیات کے استعمال میں بھی اسی مقام پر آچکا ہے ،، اس سے پہلے کہ ان کے ہوشربا اور لرزہ خیز اعداد و شمار کا ذکر کیا جائے ہم اپنی طرف سے اس رائے کا اظہار بھی کر سکتے ہیں کہ شاید یہ اعداد و شمار نا مکمل اوران سے کہیں زیادہ ہوں کیونکہ اکثر و بیشتر ، والدین کوشش کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کی اس تباہی اور بربادی کو سماج اور اپنے خاندان سے کسی طرح چھپائے رکھنے میں کامیاب بھی رہے ہوں، اگر یہ مفروضہ درست ہے تو اعداد و شمار کہیں بہت زیادہ ہوں گے ، یہ رپورٹ نہ صرف لرزہ خیز ہے بلکہ ہیبتناک اور اسی قدر اذیت ناک بھی ہے ، مجموعی طور پر اس رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جموں و کشمیر میں ۱۳ لاکھ پچاس ہزارسات سو ڈرگ ایڈکٹ ہیں ، جو ۱۸ سال کی عمر سے لے کر ۷۵ سال کی عمر کے درمیان ہیں لیکن ان میں سب سے بڑی تعداد ۱۸ سے ۲۷ سال تک کے نوجوانوں کی ہے جس میں ایک بہت بڑی تعداد صنف نازک سے بھی تعلق رکھتی ہے ،،، اس رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ ۲۰۱۸ میں متوقع آبادی پر مبنی اعداد و شمار ہیں اور ۲۰۱۸ سے لے کر اب تک زمینی سطح پر اس انا کونڈا نے کتنی بڑی تعداد کو نگل لیا ہوگا اس کا ہم صرف اندازہ ہی کر سکتے ہیں ،، معاملے کی سنگینی کا اس بات سے اندازہ کیا جاسکتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اس عمر کے بچے مڈل سکولوں۔ ہائی یا ہائر سیکنڈری سکولوں میں زیر تعلیم ہوتے ہیں ، ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ منشیات کا یہ ٹیرف اور مافیا ان ہی سکولوں میں سر گرم اور شدت کے ساتھ چل رہا ہے جس کی وجوہات کو سمجھنا بڑا ہی آسان اور سہل ہے ، یہ عمر بچے کی معصومیت اور بے نیازی کی ہوتی ہے اور اس عمر میں بچوں سے بہت سے کام غیر شعوری طور پر بھی بڑی آسانی سے کرائے جاسکتے ہیں ، انہیں کوئی بھی کام کرانے کے لئے آسانی سے اکسایا بھی جاسکتا ہے اور معمولی للچانے یا انہیں غلط راستوں پر ڈالنے کے لئے کسی خاص تکنیک کی بھی ضرورت نہیں پڑتی ، بس دوستی ۔دوستی میں ہی کم عمر بچوں سے یہ کام کرائے جاسکتے ہیں جو ان کے لئے تباہ کُن ہوتے ہیں ، منشیات میں مبتلا بچوں اور بچیوں کی یہ تعداد ہوشربا بھی ہے اور ہمارے پیروں سے زمین کھسکا دینے کے لئے بھی کافی ہے ، ڈرگس کی یہ فراونی اور پھر اس کو ستعمال کرنے والوں کی یہ تعداد اپنے اندر شاید اس قدر سادہ نہ ہو جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں ، اس سنگین مسلے کے بہت سارے پہلو اور پہلو در پہلو ہیں۔جن کی گرہیں کھولنا ہمارے لئے آسان نہیں ،یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ مافیا جو ڈرگس کو بڑی آسانی اور مکمل اعتماد کے ساتھ چلا رہا ہے ،کن بیساکھیوں کے سہارے کھڑا ہے ،؟پیڈلرس جو ڈرگ سپلائی کرتے ہیں اور ڈسٹری بیو ٹرس جو تقسیم کاری کرتے ہیں اور اس کے بعد تیسرے نمبر پر وہ غریب ، سادہ لوح اور معصوم بچے جو ان کے نشانوں پر ہوتے ہیں ، دو مراحل کو ہم نظر انداز کر تے ہیں جو بہت ہی اہم اور بنیادی مجرموں کی فہرست میں آتے ہیں۔اور یہ لوگ کس طرح اپنی راہیں آسان بھی سمجھتے ہیں اور بلا خوف و خطر کے سماج اور معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کرتے ہیں ،؟ یہ شاید سمجھ سے باہر کے معمے نہیںلیکن اس مافیا کا ۔جو تناور درخت کا روپ اختیار کر چکا ہے، کی جڑیں کاٹنے میں ہم بری طرح سے ناکام ہیں ،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکار یا وہ ادارے جو اس مافیا کی بیخ کنی کے ذمہ دار ہیں اس کا علاج کہاں ڈھونڈھتے اور تلاش کرتے ہیں ؟؟جب کسی بھی ریاست میں دہشت گردی ،یا ملیٹینسی کو ختم کیا جاسکتا ہے تو یہ بڑا اور پاور فل ادارہ اپنے مقابلے میں ایک چھوٹے سے مافیا کو زمین بوس کیوں نہیں کر سکتا؟بہر حال یہ وہ گورکھ دھندے اور پھڈے ہیں جو ہم جیسے لوگ نہیں سمجھ پاتے ، ،ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیسے اور کس طرح پچھلے پچیس تیس برسوں کے دوران درسگاہوں ، کالجوں سکولوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم و تربیت، اونچی انسانی اقدار اور علم وادب کی خوشبوؤں کے بجائے یہ عفریتیں پل رہی ہیں یا پنپنے میں کامیاب رہی ہیں ،کچھ تو ہے جو اس مافیا کے لئے آسانیاں اور سہولیتیں فراہم ہورہی ہیں ، کون لوگ ہیں جن کی پہنچ ان تعلیمی اداروں اور دانش گاہوں تک آسان بنی ہوئی ہے؟کیا اساتذہ بھی اس میں ذمہ دارہیں یا کیا وہ اس معاملے میں اپنی جان کے خوف سے کچھ چھپانے پر مجبور ہیں ؟ بہت سارے سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں جن کا جواب تلاش کرنا لازمی اور ناگزیر ہے ،ہماری ایک مکمل نوجوان نسل ماضی قریب میں پوری طرح کٹ چکی ہے ،اور ہماری اب یہ دوسری نوجوان نسل ایک عفریت کی زد میں ہے بلکہ ذالچو اور کاکڑ خانوں کے قتل عاموں کے مقابلے میں زیادہ سنگین، اذیتناک اور المناک ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کا خاتمہ مقصود ہو اس سے تلوار کے بجائے اسی راستے پر ڈال کر اپنی موت آپ مرنے کے لئے چھوڑا جاتا ہے ، ،، یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ والدین دور و نزدیک ، آئے روز اخبارات کی رپورٹننگ کے مطابق اپنے نوجوان بیٹوں کی لاشیں ، کھیتوں سے ، کھلیانوں یا نزدیکی باغوں سے اپنے کندھوں پر اٹھاکر خاموشی کے ساتھ ا نہیں کفن پہنا کر دفن کر آتے ہیں ، ان کا دکھ ناقابل برداشت ، ناقابل فراموش اور ناقابل بیان ہے ، اس غم کا اندازہ ، اور ان کیفیات کا اندازہ کرنا ہی ناممکن سی بات ہے۔
