نئی دہلی،سماج نیوز سروس: ملک بھر میں اقلیتی عبادت گاہوں پر بڑھتے ہوئے حملوں، غیر قانونی مسماری، قانونی ہراسانی اور انتظامی زیادتیوں کے خلاف انڈین مسلمس فار سول رائٹس (IMCR) اور ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) نے نئی دہلی میں ایک اہم مشترکہ اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس کی صدارت سابق چیف جسٹس پٹنہ ہائی کورٹ جسٹس اقبال احمد انصاری نے کی۔اجلاس میں سابق لیفٹیننٹ گورنر دہلی نجیب جنگ، IMCR کے چیئرمین اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب، نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی، عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ، سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی اور ضیاء الرحمن برق، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ حمد اللہ سعید، سابق فوجی افسر میجر جنرل جاوید اقبال، سابق آئی اے ایس افسر و سفیر اشوک شرما، سپریم کورٹ کے سینئر وکلا ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے اور فضیل احمد ایوبی، جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر ملک معتصم خان۔ آل انڈیا پیس مشن کے صدر سردار دیا سنگھ، کیندریہ سنگھ سبھا کے صدر سردار خوشحال سنگھ، سماجی کارکنان، صحافی اور مختلف مذاہب کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد ادیب نے کہا کہ ملک میں نفرت کا ماحول تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے اور مساجد و گرجا گھروں پر حملوں کے باوجود انتظامیہ اور اداروں کی خاموشی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے اور اب خاموش رہنا ممکن نہیں۔سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے کہا کہ مساجد اور مدارس کو دیگر مذاہب کے لوگوں کے لیے کھولا جانا چاہیے تاکہ غلط فہمیاں دور ہوں۔ انہوں نے مدارس میں عصری تعلیم کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا کہ اجلاسوں کے ساتھ ساتھ عملی حکمتِ عملی اور زمینی جدوجہد ناگزیر ہے۔












