اسلام آباد :ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عدت نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواست مسترد کردی ہے۔
دوسری طرف تحریک انصاف نے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عمر ایوب نے ڈسڑکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کیس کو سیاسی رنگ دیا گیا اور سزا معطل نہیں ہوئی، ہم اس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔‘
عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عدت میں نکاح سے متعلق کیس میں رواں سال تین فروری کو عام انتخابات سے چار روز قبل سات، سات سال قید کی سزا ہوئی تھی جسے انہوں نے چیلنج کیا تھا۔
جمعرات کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف عدت کے دوران نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنایا۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اس وقت صرف دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا کے باعث اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
سینیئر سول جج قدرت اللہ نے رواں سال فروری میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کا دورانِ عدت نکاح غیر شرعی قرار دیا تھا۔
عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سات، سات سال قید اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔
دورانِ عدت نکاح کیس ہے کیا؟
بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے عمران خان پر الزام لگایا تھا کہ اُن کا اور بشریٰ بی بی کا نکاح دوران عدت ہوا۔ خاور مانیکا نے 25 نومبر کو اسلام آباد کی سیشن کورٹس میں درخواست دائر کی تھی۔
بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف دائر شکایت میں خاور مانیکا نے دو قسم کے الزام لگائے۔ شکایت میں عدت میں نکاح کا الزام لگایا اور سیکشن 496 بی کے تحت ناجائز تعلقات کا الزام بھی لگایا۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف عدالت نے چارج فریم کرتے ہوئے ناجائر تعلقات کا الزام حذف کر دیا۔
عدت میں نکاح کا کیس 12 دسمبر کو قابل سماعت ہوا اور عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کیے، کیس کی اڈیالہ جیل میں 4 سماعتیں ہوئیں۔












