سیتاپور؍خیرآباد،سماج نیوز سروس: خیرآباد کے معزز متولی ہاؤس میں ماہِ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں کے دوران ایک پروقار اور روح پرور افطار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس نے گنگا جمنی تہذیب کی خوبصورت روایت کو تازہ کر دیا۔ اس موقع پر شہر کی نمایاں مذہبی، سماجی اور عوامی شخصیات نے شرکت کر کے باہمی محبت، رواداری اور بھائی چارے کی عملی مثال پیش کی۔افطار پروگرام مرحوم متولی عرفان حسین کے صاحبزادگان متولی فرمان حسین، متولی ریحان حسین اور متولی احترام حسین عرف راجو میاں کے صاحبزادگان متولی شاہنواز حسین، متولی شیراز حسین اور متولی ایاز حسین کے زیرِ اہتمام نہایت نظم و ضبط اور خلوص کے ساتھ منعقد ہوا۔ تقریب کو بزرگ سماجی شخصیت متولی اکرام حسین کی سرپرستی حاصل رہی، جن کی موجودگی نے محفل کو وقار بخشا۔تقریب کے مہمان خصوصی اتر پردیش حکومت کے وزیرمملکت برائے کاراگار سریش راہی تھے۔ دیگر معزز مہمانوں میں خیرآباد شاہی عیدگاہ کے امام ڈاکٹر مفتی محمد الیاس علیگ، درگاہ بڑے مخدوم صاحب کے سجادہ نشین شعیب میاں، سید اویس احمد رضوی، سید جگنو کرمانی، محمد معید احمد، قاری اسلام عارفی، سید نیر بسوانی، محمد یاسین صدیقی (بلڈر)، ڈاکٹر عبدالغنی اور سید قربان علی سمیت متعدد اہم شخصیات شامل رہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے متولی اکرام حسین نے روزے کی روحانی اور اخلاقی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ نفس کی تربیت، دل کی صفائی اور روح کی بالیدگی کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک ہمدردی، صبر اور ایثار کا پیغام لے کر آتا ہے اور اجتماعی افطار کی محفلیں معاشرے میں محبت، اعتماد اور یگانگت کو فروغ دیتی ہیں۔ ان کے مطابق جب مختلف طبقات کے افراد ایک ہی دسترخوان پر جمع ہوتے ہیں تو انسانیت کا رشتہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔متولی رضوان حسین نے تمام مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر مرحوم انجینئر متولی عثمان حسین علیگ کی کمی شدت سے محسوس کی گئی، جن کا 27 رمضان المبارک کو چند برس قبل انتقال ہوا تھا۔ حاضرین نے ان کے لیے دعائے مغفرت بھی کی۔مہمانِ خصوصی سریش راہی نے روزہ داروں کو رمضان المبارک کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی افطار پارٹیاں ہماری گنگا جمنی تہذیب کی حقیقی آئینہ دار ہیں، جو سماج میں ہم آہنگی، رواداری اور بھائی چارے کو مستحکم کرتی ہیں۔












