نئی دہلی،پریس ریلیز،ہمارا سماج: مسجد صدیقیہ و مدرسہ رضاء القرآن کے زیر اہتمام مصطفی آباد میں پانچ روزہ پیغام کربلا کانفرنس و دستار بندی کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت مولانا سید کاشف اطہر (رتلام ایم پی)،قیادت مدرسہ رضاء القرآن کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد مشرف رضا سبحانی اور نظامت مولانا سید قیصر خالد فردوسی ومولانا سعید انور(چندوسی) نے کی۔اس کانفرنس میں نے جن علما نے مختلف عناوین کے تحت خطاب کیا ان میں مفتی محمد فرقان مصباحی (بلند شہر)،مولانا ضیا ء المصطفیٰ(بریلی ف)،مولانا رسالت حسین بدایونی ،مولانا قاری اسناد رضا (سنبھل)،مولانا مشتاق احمد رضوی اورمفتی طارق القادری کے نام قابل ذکر ہیں۔ اخیر روز مدرسہ ہذا سے فارغ ہونے والے حفاظ محمد شاہد رضا،محمد ذیشان رضا،محمد عبداللہ رضوی اور محمد سہیل رضاکو علمائے کرام ہاتھوں دستارو اسناد سے نوازا گیا۔اجلاس کا آغاز مدرسہ رضا ء القرآن کے استاذ حافظ محمد ظہیررضوی اور قاری محمد خورشید عالم رضوی نے آیات قرآنی سے کیا۔منظوم نذرانہ طاہر امروہوی، قاسم شمسی،قاری سلیم الدین اشرفی،محمد ف قادری،سید ارسلان اعظم،عارف جمالی،قاری طاہر حسین اشرفی،ریحان الدین،مولانا محمد ظفر(ناظم تعلیما ت مدرسہ ہذا)،محمد عظیم رضا خان اور مدرسہ کے طلبا نے پیش کیا۔مقررخصوصی جامعہ منظر اسلام بریلی ف کے استاذعلامہ قاری عبدالرحمن نے اپنے میں خطاب میں کہا کہ اس عالم رنگ و بو میں حق و باطل کے مابین لا تعداد معرکہ ہوئے اور ہر موقع پر پر وردگار عالم نے بے سرو سامانی کے عالم میں بھی فتح و کامرانی سے ہمکنار کیامگر تاریخ اسلام نے معرکہ کرب وبلا و ہ عدیم المثال واقعہ ہے جہاں خاندان اہل بیت نے اپنے رفقا و معاونین کے ساتھ وہ جام شہادت نوش فرما کر اسلام کو زندگی جاویدانی عطا کردی ۔ مفتی طار ق القادری نے کہاکہ عصر حاضر کا عجیب المیہ ہے کہ ہم زبانی طور پر تو اہل بیت اطہار و شہیدان کرب و بلا سے عقیدت ومحبت کا اظہار تو کرتے ہیں مگر عملی میدان میں کردار حسین کا خاکہ نظر نہیں آتا جس کے سبب آج ہم زبوں حالی کے شکار ہیں۔انہوں نے تعلیم کی اہمیت پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ضرورت اس بات ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ اپنے ادارے قائم کریں اور بچیوں کو بھی دینی تعلیم سے روشناس کرائیں ورنہ حالات دن بدن خراب ہوتے جائیں گے اور پھر ہمارے کف افسوس ملنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔مولانا مشرف رضا سبحانی نے مہمانان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مدرسہ کی سالانہ رپورٹ پیش کی اور مستقبل کے عزائم پر روشنی ڈالی۔ اہم شرکا میں قاری محمد رفیع الدین، پیر حسن (صدر) ،اسلم بھائی( خزانچی) ،حاجی ناصر حسین انصاری ،حاجی نبی شیر سبحانی ،حاجی مزمل حسین ،انیس بھائی،ماسٹر نور عین ،محمد شہیم ، قمر الحسن سیفی ،عمر بھائی، راجو بھائی، عبدالقادر، نثار صدیقی، مہر الدین ، عابد ، شیر الدین ، حاجی نسیم خان اور مستقیم منصور ی کے نام شامل ہیں۔












