روزے کے لیے سَحری کرنا مستحب ہے۔سَحری کی اہمیت یہ ہے کہ یہ اس امّت کی امتیازی خصوصیات میں سے ہے۔اس لیے محض اس وجہ سے کہ یہ واجب نہیں ہے، اور بغیر سَحری کے بھی روزہ ہوجاتا ہے،جا ن بوجھ کر سحری نہ کرنا مناسب نہیں ہے، کیوں کہ یہ ایک عظیم سنت سے محرومی ہے۔واضح ہو کہ سحری میں شکم سَیر ہو کر کھانا ضَروری نہیں ہے، کَھجور اور پانی بھی سحری کی نیت سے استعمال کر لینا بھی کافی ہے ۔ سَحری(سین پر زبر کے ساتھ )سے مراد وہ کھانا ہے جو روزہ رکھنے کی نیت سے رات کے آخری حصے میں تناول کیا جاتا ہے۔اِسے سَحری اسی لیے کہا گیا ہے کہ رات کے آخری حصے کو سَحرکہتے ہیں اور یہ کھانا عموماً اسی وقت میں کھایا جاتا ہے۔عام طور سے لوگ سِحری(سین کے زیر کے ساتھ) کہتے ہیں جو غلط ہے۔ سِحر (سین کے زیر کے ساتھ) کے معنی جادو کے ہیں، جب کہ سَحر(سین پر زبر کے ساتھ) کے معنی صبح کے ہیں، اسی سے ’’سَحری‘‘ ہےاور یہی صحیح تلفظ ہے ۔عربی میں اس کے لیے لفظ سَحُور استعمال ہوتا ہے ۔
روزہ رکھنے کے ارادے سے سَحری کرنا سراپا برکت و رحمت والا عمل ہے، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مَنشاء کی تکمیل ہے، سحری سے روزہ رکھنے میں تقویت ملتی ہے کہ آدمی سارا دن روزہ رکھنے کے لیے کچھ نہ کچھ آب و غذا حاصل کر لیتا ہے۔سَحری کی اہمیت یہ بھی ہے کہ یہ روزے کا آغاز اوراس کا شروعاتی عمل ہے۔اس لیے روزہ جو تیرہ چودہ گھنٹے پر مشتمل ہوتا ہے اُس کی شروعات بتمام و کمال ہونا چاہیے۔
البتہ سَحری روزے کے صحیح ہونے کے لیے شرط نہیں ہے،اس لیے اگر کسی نے سَحری نہیں کھایا، یا کھانے کا موقع نہیں ملا تو بغیر سَحری کے بھی روزہ درست ہے۔سحری کا وَقت آدھی رات سے شروع ہوجا تا ہے۔البتہ روزہ دار کے لیے طلوعِ فجر سے کچھ پہلے سحری کرنا افضل ہے، کیوں کہ آخر وقت سحری کرنے سے زیادہ بہتر طور پر روزہ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔جو بہت پہلے سحری کر لیتا ہے یا سحری ہی نہیں کرتا اسے جلدی بھوک پیاس ستانے لگتی ہے۔سَحری کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ مسلم شریف کی روایت کے مطابق سَحری ہمارے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان فرق کا باعث بھی ہے۔
علمائے کرام کا سحری کے مستحب ہونے پر اجماع ہے اور یہ کہ سحری کرنا واجب نہیں ہے۔ البتہ احادیثِ شریفہ میں سحری کرنے کے لیے بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔
سَحری کی فضیلت میں متعدد احادیث وارد ہیں: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ سَحری کھایا کرو، کیوں کہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔(بخاری شریف)۔ایک دوسری حدیث میں ہے کہ بیشک اللہ تعالی سحری کرنے والوں پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے ان کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔(مسنداحمد)
سحری کرنا کئی اعتبار سے برکتوں کے حصول کا سبب ہے، ایک تو اس میں اتباع سنت ہے، پھر اہل کتاب کی مخالفت ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ۔
عبادت کے لیےتقویت، بھوک کی وجہ سے پیدا ہونے والے ضعف، اضمحلال اور چڑچڑے پَن سے روک تھام ، اسی طرح سحری میں اٹھنے سے تہجد، باجماعت فجر کی نماز اور اذکار و مناجات کی توفیق و سعادت حاصل ہوتی ہے ۔
سحری کے کھانے میں برکت ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی کھانے میں بے لگام ہوجائے اور اتنا کھا لے کہ دن بھر پریشان رہے۔بے اعتدالی کسی بھی کام میں درست نہیں ہے، خاص طور سے رمضان کے مبارک مہینے میں کھانوں میں جی اٹکا رہنا اور ہاتھ صاف کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا، چاہے افطار ہو یا سحری ٹھیک نہیں ہے ۔
اتنا کھالینا کہ دن بھر طبیعت مضمحل رہے اور دن میں کھٹّی ڈکاریں آتی رہیں غیر پسندیدہ اور روزے کی حکمت و مصلحت کے منافی اور روزے سے جو مقصود ہے اس کے خلاف ہے۔ روزہ کا مقصد نفسانی شہوات کو روزہ کی کیفیت سے توڑنا ہے اور جب خوب پیٹ بھر کھا یا تو یہ نفس کی پرورش ہوئی۔ روزے میں نفس پروری کے عمل سے بچنا اور بھوک، پیاس کی مشقت کا احساس پیدا کرنے کے فارمولے پر کاربند رہنا چاہیے ۔تاکہ بھوکوں اور پیاسوں کے ساتھ ہمددری و خیر خواہی کے جذبات کا بیدار ہوں۔ اس لئے راہ اعتدال اختیار کرنا چاہیے۔
سَحری جیسے بابرکت عمل سے پوری طرح فیضیاب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے سونے اور اٹھنے کا مضبوط نظام بنایا جائے ۔یوں تو مسلم گھر گھرانوں میں جلدی سونے اور جلدی بیدار ہونے کا معمول ہونا چاہیے، لیکن رمضان المبارک میں تو اس پر مکمل توجہ دے کر ایک مضبوط نظام الاوقات پر کار بند ہونے کو لازم پکڑ لینا چاہیے ۔اس مہینے میں مشقت برداشت کرنے کے لیے کمر کس لینا چاہیے ۔یہ مہینہ صبر اور غم خواری کا مہینہ ہے۔یہ مہینہ بھوک پیاس کا ذائقہ چکھنے، اس سے عملی طور پر آشنا ہونے اور پھر ان لوگوں کی حالت زار کو سمجھنے اور پرکھنے کا مہینہ ہے جو سال بھر فاقہ کشی اور خالی پیٹ رہنے پر مجبور ہیں ۔
یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے اپنے عمل سے اسے کھانے پینے کا مہینہ بنا دیا ہے۔افطار کے وقت بھی دکانیں سجتی اور دستر خوان آراستہ ہوتے ہیں، اور سَحری کے وقت بھی ہوٹل آباد اور مسلمان شکم کے تقاضوں کی تکمیل میں مصروف ہوتے ہیں ۔
افطار و سَحری کے وقت کے ان نرم و نازک کھانوں اور ڈشوں کے نظاروں کی وجہ سے ہی برادران وطن ماہِ رمضان کو کھانے پینے کا مہینہ باور کرتے ہیں اور اپنے مسلم دوستوں سے اسی حوالے سے پوچھتے ہیں کہ وہ مہینہ کب آئے گا۔
مسلم خواتین بھی اس ماہِ مبارک میں گھروں میں کم اور بازاروں میں زیادہ وقت دینے کی عادی ہوتی جارہی ہیں ۔اگر ماہ رمضان دو مہینے کا ہوجائے تو بھی بعض شوقین مرد و خواتین کی خریداری کی لسٹ مکمل نہیں ہو سکے گی ۔
ماہِ رمضان المبارک میں اس طرح کی مشقتوں میں اپنے کو کھپائے رکھنے کی وجہ سے تراویح اور سَحری کا جو حشر ہوتا ہے وہ سامنے ہے۔اس لیے خدا را اس مہینے کو خواہشات کی تکمیل کا مہینہ بنانے کے عمل سے بچا جائے ۔یہ مہینہ روزوں کی گرمی سے خواہشات کو توڑنے کا مہینہ ہے اور روزو شب کے زیادہ سے زیادہ لَمحات کو عبادت و ریاضت میں صرف کرنے کا ہے۔
ہمارا کمپٹیشن زیب و زینت اور فیشن کی چیزوں کو زیادہ سے زیادہ اپنے دست رس میں لانے کے بجائے اس بات میں ہوکہ کون پابندی سے سحری کے لیے اٹھ کر اس قبولیت کے وقت میں اپنی سعادتوں میں اضافے کرتا ہے اور اپنے آپ کو اللہ کی رحمتِ خاص کا مستحق بناتا ہے ۔












