اترپردیش میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان ہوگیا ہے ۔یہ انتخابات تاخیر سے ہورہے ہیں ۔اس میں تاخیر کی وجہ سیٹوں کے رزرویشن کے تعلق سے بعض اختلافات تھے ۔اب عدالت کی مداخلت اور اس کی ہدایت کے بعد الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس کے مطابق 4 اور 11 مئی کو انتخابات ہوں گے اور 13 مئی کو نتائج سامنے آئیں گے ۔یہ انتخابات ہمارے سیاسی شعور کا امتحان ہیں۔سیاست کا موضوع ہمارے بیچ بہت اختلافی ہے۔اگر ہم مذہبی طور سے دیکھیں تو کوئی اسے شجر ممنوعہ سمجھتاہے کہ اس کی طرف دیکھنے سے بھی جنت حرام ہوجائے گی۔کوئی صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اور سیاست ہی نہ کرے،کوئی اسے دین کا ضروری حصہ سمجھتا ہے ۔ہماری اکثریت اسے غیر دینی کام سمجھ کر نظر انداز کردیتی ہے ۔جو لوگ حصہ لیتے ہیں وہ بھی اس کو غیر دینی کام سمجھتے ہیں اور وہ سب کچھ کرتے ہیں جس کی توقع غیر سے بھی نہیں کی جاسکتی۔مگر ہمیں یاد رکھناچاہئے کہ جمہوری نظام میں سیاست سے علاحدگی خود کشی کے مترادف ہے۔ بلدیاتی ادارے کسی بھی جمہوری معاشرے کی جان اور پہچان ہوتے ہیں۔یہ وہ فورم ہے جس کے ذریعے معاشرے کے ستم زدہ عوام کو ان کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونے کا موقع ملتا ہے۔ترقی یافتہ ممالک آج ہمیں جمہوریت کے استحکام کے جس معراج پر کھڑے نظر آتے ہیں اس میں بنیادی کردار مقامی بلدیاتی اداروں کے انتخابات کا باقاعدگی سے منعقد ہونے کے ساتھ ساتھ ان اداروں کی فعالیت اور اس پلیٹ فارم سے لوگوں کے مسائل کا مقامی سطح پر فی الفور حل ہونا ہے۔
بلدیاتی انتخابات کی اہمیت ہمیشہ مسلم رہی ہے البتہ اس بار کے بلدیاتی الیکشن 2024کے عام انتخابات میں اہم رول ادا کریں گے ۔عام طور پر بلدیاتی الیکشن کو صرف مقامی الیکشن سمجھا جاتا ہے ۔بلاشبہ اس حیثیت میں یہ مقامی ہی ہوتا ہے کہ اس کا دائرہ کار شہری حدود میں ہی قید ہے ۔لیکن اثرات و نتائج کے لحاظ سے یہ الیکشن عام انتخابات تک پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ہم جانتے ہیں کہ شہر کے چیرمین کی آواز پر قابل ذکر تعدلبیک کہتی ہے ۔اس کے ہاتھ میں شہر کی نبض ہوتی ہے ۔وہ بیرونی رہنما ؤںکے لیے مقامی رہبر کا کام انجام دیتا ہے ۔اسی لیے مرکز میں برسر اقتدار جماعت کی پوری کوشش ہوگی کہ جملہ بلدیاتی نشستوں پر کامیابی حاصل کی جائے ۔اسمبلی میں اسے واضح اکثریت حاصل ہے ہی۔2019کے عام انتخابات میں پارلیمنٹ کی 80میں سے 62 سیٹیں اس کے پاس ہیں ۔اگر بلدیاتی الیکشن میں اسے نمایاں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو 2024کے عام انتخابات میں اس کی فتح یقینی ہوجائے گی ۔
اترپردیش میں شہروں کی ایک بری تعداد وہ ہے جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن ہے ۔مغربی اتردیش میں درجنوں نشستیں وہ ہیں جہاں اکثرو بیشترمسلمان جیتتے ہیں ۔لیکن اپنی آئینی و منصبی ذمہ داریاں ادا نہ کرنے کی وجہ سے ان کے اپنے شہروں میں نمایاں تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔اول تو الیکشن جیتنے کے لیے جتنے غیر اخلاقی ہتھکنڈے ہوسکتے ہیں اپنائے جاتے ہیں اورالیکشن جیتنے کے بعد غنڈوں اور موالیوں کی سرپرستی کی جاتی ہے۔پولس چوکی سے گناہ گاروں کو چھڑوانے کاکام کیا جاتا ہے۔عوام بھی انہیں کاموں سے خوش رہتی ہے۔لیڈر بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس کا کام زیادہ سے زیادہ نالیوں کی مرمت،سڑکوں کی تعمیر،راشن کی تقسیم کی حد تک ہے۔سماج کی تعلیم ، اسکول وکالج کا قیام ،ہسپتالوں کی دیکھ بھال،نئی سہولیات کی فراہمی ،نوجوانوں کے لےے روزگار ،جرائم پر کنٹرول،وغیرہ کے کام اس کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ہےں ۔ سرکاری اسکیموں کے نفاذکی بات تو دور بیش تراسکیموں سے ہمارے منتخب نمائندے ناواقف ہیں۔اس کے آگے کی بات تو سوچی بھی نہیں جاسکتی کہ سماج کی ضروریات کو سامنے رکھ کر کوئی منصوبہ بندی کی جائے اور اس منصوبے کے مطابق حکومت کے سامنے پروجیکٹ پیش کےے جائیں۔میں جس شہر سے تعلق رکھتا ہوں وہاں تقریباًپچیس سال سے ایک ہی خاندان نگر پنچایت میں کامیابی حاصل کرتا آرہا ہے ۔لیکن اس ربع صدی میں کوئی تعمیری کام نہیں ہوا ۔پوری مدت کار بس اسی فکر میں نکل جاتی ہے کہ پیسہ کس طرح بچایا جائے ؟اورآئندہ کامیابی کو کس طرح یقینی بنایاجائے ۔
الیکشن میں پیسے کا چلن اس قدر عام ہوگیا ہے کہ اب تو یہ بات ہر کسی کی زبان پر رہتی ہے کہ کام کی بنیاد پر کوئی نہیں جیت سکتا۔رائے دہندگان ہزار دوہزار روپے میں اپنا ووٹ بیچ دیتے ہیں ۔جو زیادہ پیسہ خرچ کرتا ہے وہی کامیاب ہوجاتا ہے ۔پیسہ کے لین دین اور ووٹوں کی خریداری پر لگام لگانے کے سارے قوانین دھرے رہ جاتے ہیں ۔اس معاملہ میں امت مسلمہ کی حالت سب سے زیادہ افسوسناک ہے ۔اس کی پسماندگی نے اسے ضمیر فروش بنادیا ہے ۔ہر محلہ میں ووٹوں کے سوداگر بیٹھے ہیں ۔پیسہ لے کر ووٹ دینے والے افراد سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنے منتخب نمائندے سے کسی قسم کا سوال کرسکے ۔اسی لیے مسلم بستیاں بدترحالات کا شکار ہیں۔
ایک مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں سیاسی شعور کا تو فقدان ہے لیکن سیاسی نیتا ہر گلی میں موجود ہیں ۔خاص طور پر بلدیاتی الیکشن میں ہر شخص چیر مین بننا چاہتا ہے ۔حالانکہ اس کے پاس کوئی ویژن اور منصوبہ نہیں ،اگر آپ سوال کریں گے کہ کیوں الیکشن لڑنا چاہتے ہیں تو جواب ملے گہ خدمت کرنے کے لیے ۔اسی دعوے کے ساتھ ایک ایک سیٹ پر کئی کئی مسلمان کھڑے ہوجاتے ہیں حالانکہ ان میں سے بعض جانتے ہیں کہ وہ ہار جائیں گے ۔کتنے ہی لوگوں کی ماضی میںضمانتیں ضبط ہوچکی ہوتی ہیں ۔مگر اپنی انا کی تسکین کے لےے انتخابی میدان میں کود پڑتے ہیں۔میں نے جب ایک نمائندے سے کہا کہ آپ الیکشن نہ لڑیں آپ جیت نہیں سکیں گے ۔تواس نے کہا کہ ہاں میں بھی جانتا ہوں لیکن یہ میرا شوق ہے ؟شوق کی تکمیل کے لیے دس بیس لاکھ خرچ کیے جاتے ہیں ۔اسی شخص سے جب غریبوں کے لیے تعلیمی مراکز کے قیام کی بات کی جاتی ہے تو بغلیں جھانکنے لگتا ہے۔اس وقت وہ پیسہ نہ ہونے کا رونا رونے لگتا ہے ۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیسا جذبہ خدمت خلق ہے جوصرف چیرمین بن کر ہی کچھ کرسکتا ہے۔
کئی مسلم امیدواران کی وجہ سے مسلم ووٹرس کنفیوز ہوجاتے ہیں اور بعض مقامات پر جہاں سے یقینی طور پر مسلم نمائندے کو جیتنا چاہئے تھا وہ ہارجاتا ہے ۔لہٰذا آپ اسی وقت الیکشن اور سیاست میں قدم رکھیں جب آپ کے پاس قوم اور ملک کے لےے کوئی وژن اور منصوبہ ہو ،ورنہ دوسروں کی ٹانگ کھینچنے،یا اپنی ناک اونچی کرنے کی خاطر پیسہ برباد نہ کریں ۔
اس بار کے انتخابات میں بی جے پی مسلم امیدواروں کو ان شہروں میں اتارے گی جہاں سے مسلمان کامیاب ہوتے آئے ہیں۔مجھے یہ بھی امید ہے کہ اس بار بی جے پی کے مسلم امیدوار قابل ذکر تعداد میں کامیابی حاصل کریں گے ۔پارٹی کا یہ اقدام اس لیے نہیں ہوگا کہ وہ مسلمانوں کی فلاح و بہبودچاہتی ہے ۔بلکہ اس کے ذریعہ وہ مسلمانوں میں اپنا نفوذ اور عوام میں اپنی مسلم دشمنی کی تصویر کو صاف کرنا چاہتی ہے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ مفاد پرستوں کی ایک بڑی تعداد اس کی چوکھٹ پر ٹکٹ کے لیے موجود ہے ۔اس معنیٰ میں تو کوئی حرج نہیں کہ دیگر پارٹیوں کی طرح بی جے پی بھی ایک سیاسی پارٹی ہے ۔اس سے ٹکٹ لینا یا اس کی حمایت کرنا کوئی غیر آئینی عمل نہیں ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ جو جماعت ملک میں مذہبی منافرت پھیلاتی ہو،جس کے ذمہ داران مسلمانوں کی نشانیاں مٹانے کی بات کرتے ہوں ،جہاں مسلم شہروں کے نام بدلے جارہے ہوں ،جہاں تاریخ کے وہ حصے حذف کیے جارہے ہوں جن کا تعلق مسلمانوں سے ہے ،جہاں اقلیتوں کی فلاحی اسکیمیں بند کی جارہی ہوں ،وہاں آپ اپنے لیے کسی خیر کی توقع کیوں کر کرسکتے ہیں۔؟
میری رائے ہے کہ موجودہ حالات میں وہی مسلم امیدواران میدان میں آئیں جن کے پاس شہر کے لیے کوئی تعمیری لائحہ عمل ہو۔رائے دہندگان بھی اپنا ووٹ چند سکوں میں فروخت نہ کریں ۔برادری اور مسلک سے بالاتر ہوکر ایسے امیدوار کے حق میںووٹ کریںجو ملک کی سالمیت کا علم بردار ہو،جس کے یہاں کسی قسم کا تعصب نہ ،جو بھارت کے شہریوں میں تفریق نہ کرتا ہو۔ایک مشورہ میرا ان منتخب نمائندوں کے لیے ہے جو اپنی کم علمی یا مصروفیت کے باعث اپنی آئینی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں۔ یہ نمائندے کسی تعلیم یافتہ شخص کی خدمات حاصل کر لیں جو ان کوسرکاری اسکیموں سے واقف کراتا رہے اور سرکاری دفاتر سے رابطہ کرتا رہے تو بڑی آسانی سے بہت سے کام انجام دےے جا سکتے ہیں۔بلدیاتی نمائندے عوام سے براہ راست رابطے میں رہتے ہیں ۔شہر کی ترقی و خوش حالی بڑی حد تک ان کے عمل پر منحصر ہے ۔وہ خود بھی اسی شہر کے ساکن ہیں ،اگر شہر میں تعلیمی و معاشی ترقی ہوگی تو خود انھیں اور ان کی نسلوں کوبھی فائدہ ہوگا۔مسلمان ہونے کی حیثیت میں آپ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ آپ کے ہر عمل کو کاندھوں پر بیٹھے دو فرشتے لکھ رہے ہیں اور وہ کوئی غلطی نہیں کرتے ۔












