"اس وقت کوئی بھی سیاسی پارٹی مسلمانوں کی بات کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس حکومت اور سیاسی پارٹیوں سے جواب طلب کر نے کے لئے نہ تو لیڈر شپ ہے اور نہ حقوق کی لڑائی لڑنے کے لئے کوئی پلیٹ فارم موجود ہے ۔مسلمان اس وقت بیک فٹ پر ہے ”
گذشتہ روز آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی ایک میٹنگ میں مندرجہ بالا جملوں کے ذریعہ سینئر کانگریس لیڈر سابق ممبر آف پارلیامنٹ اور سفارت کار و صحافی جناب م افضل صاحب جب اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے تب ممکن ہے اس میٹنگ میں موجود لوگوں کو ان جملوں کے اندرون میں ٹھاٹیں مارتا ہوا وہ جذبات کا طوفان نظر نہ آیا ہو جس کے موجود ہونے کی گواہی م۔افضل کا لہجہ دے رہا تھا ۔ یہ لگا ہو کہ یہ عام سا جملہ ہے جو سیاست دان اکثر بولتے رہتے ہیں ۔ممکن ہے اخبارات میں جب اس میٹنگ کی رپورٹ شائع ہوئی تب بھی کسی نے اس پر خاص توجہ نہ دی ہو لیکن پتہ نہیں کیوں مجھے لگا کہ مجھے آج م۔ افضل صاحب کے ان جملوں کی پڑتال کرنی چاہئے اور انہیں قارئین کے ساتھ شئیر بھی کرنا چاہئیے ۔م افضل صاحب نہ صرف ایک سیاسی لیڈر ہیں بلکہ ایک صحافی بھی ہیں ،اور ہم سب جانتے ہیں کہ اچھی صحافت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ لفظوں کی فضول خرچی نہیں کرتا ۔ویسے بھی م۔افضل صاحب کبھی بھی سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش مہیں کرتے اور نہ کبھی انہیں رعونت کے آسمان پر بیٹھ کر ہوائی قلعے بناتے ہی دیکھا گیا ۔
م افضل صاحب کے جس جملے نے مجھے مجبور کیا کہ میں اس کے حوالے سے کچھ بات کروں اس کو تین ٹکروں میں تقسیم کرتے ہیں ۔
الف۔ مسلمان اس وقت بیک فٹ پر ہے ۔
ج۔ نہ مسلمانوں کی لیڈر شپ ہے اور نہ کوئی پلیٹ فارم ہے جس پر کھڑے ہو کر اپنی بات رکھی جائے ۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بھارت کا مسلمان اس وقت تاریخ کے سب سے برے دور سے گذر رہا ہے اور اس برے دور سے نکالنے کے لئے اس کے پاس نہ تو کوئی لیڈر شپ ہے اور نہ کوئی ایسی تنظیم جو اسے اجنبیت کے اس دلدل سے نکال سکے جس میں وہ گلے گلے تک ڈوب چکا ہے ۔ اور وہ دن دور نہیں جب سیاسی طور پر اس کے وجود سے یہ ملک خالی ہو جائے ٹھیک اسی طرح جیسے اسرائیل میں سوائے غزہ کے مسلمان موجود ہوتے ہوئے بھی نہیں ہے ۔ورک پرمٹ کے بغیر وہاں مسلمان مزدوری بھی نہیں کر سکتا ۔ م۔افضل جیسے لوگ بھی شاید اب دیوار پر لکھی اس تحریر کو پڑھ چکے ہیں کہ بھارت کے مسلمان جن کی قیادت کم وبیش پچاس برس سے ان کی نسل کے لوگ ہی کر رہے تھے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود انہیں ان کی منزل تک نہیں پہنچا سکے اور 1947کا وہ لٹا پٹا گلہ جس کے زخموں کا شمار بھی مشکل تھا وہ سب جیسے جیسے گورستان میں فروکش ہوئے ان کی نسلیں بے آسرا ہوتی گئیں اور آج جب ان محب الوطن سورماؤں کی جنہوں نے دو قومی نظریہ کو اٹھا کر جناح اور ان کے حواریوں کے منہ پر ماردیا تھا تیسری نسل جوان ہوچکی ہے تو اس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ یہ کیسے ثابت کرے کہ وہ اس ملک کاشہری ہے ؟
حالانکہ م۔افضل صاحب کا یہ اعتراف نامہ کہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب زیادہ تر ملی اداروں سے لوگوں کا بھروسہ اٹھ چکا ہے ۔نئی نسل کے مسلم بچے یہ سوال پوچھنے لگے ہیں کہ ایک صدی کی مشقت اور جدوجہد کے بعد آر ایس ایس نے تو اقتدار پر قبضہ کر لیا لیکن ہماری سب سے پرانی تنظیم آج بھی اسی آر ایس ایس کے دئے زخموں کی مرحم پٹی میں کیوں مصروف ہے ؟
اس قدیم ملی تنظیم کے ذمہ داروں کو بھی یہ جواب تو دینا ہی پوگا کہ آزادی کے بعد جس تنظیم نے کانگریس کی قیادت کو بھارت کے مسلمانوں کی قیادت کا ذمہ دار قرار دے کر خود کو انتخابی سیاست سے دور کر لیا تھا آج اس پارٹی کے انتخابی منشور میں مسلمان کیوں نظر نہیں آتے؟
ایک قدیم ملی تنظیم کے اسٹیج سے جس کا قیام اسی لئے عمل میں آیا تھا کہ کانگریس کی سیاسی قیادت پر وہ اکابرین بھروسہ نہیں کر پارہے تھے اور انہیں کہیں نہ کہیں یہ احساس ہو گیا تھا کہ مستقبل میں ملت اسلامیہ کو ایک ایسے پلیٹ فارم کی ضرورت ہوگی جس پر تمام طرح کے مخلصین ملت جمع ہوکر اپنے اپنے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں مستقبل کے لئے لائحہ عمل بنا سکیں۔آج جب م ۔افضل صاحب نے حق کا اعلان کر ہی دیا ہے تو کیا یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ جلد ہی دیگر مسلم سیاسی لیڈران بھی جو الگ الگ سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ہیں کم سے کم ایک پلیٹ فارم پر تو آ ہی جائینگے ۔ایک ایسے پلیٹ فارم پر جس کا نہ تو کوئی سیاسی ایجنڈہ ہے اور نہ اس کے کسی عہدیدار کا ذاتی مفاد ۔لیکن اس وقت تمام سیاسی پارٹیوں کے موجودہ اور سابق قائدین کا ایک کامن مینیمم پروگرام کے تحت ایک ساتھ کھڑے ہونا نہایت ضروری ہے ورنہ پھر نہ ہی یہ آئین باقی رہیگا جس کی رو سے ہم کوئی جدوجہد کر سکین گے اور نہ ان علاقائی پارٹیوں کا وجود ہی باقی بچیگا ۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے اسٹیج سے م۔افضل صاحب کے جرات مندانہ خطاب کو میں ایک تاریخ ساز خطاب سمجھتے ہوئے یہ امید کرتا ہوں کہ جس طرح اس ادارے کے ساتھ ایک کر کے لوگ جڑتے جارہے ہیں اس سے یہ گمان ہو رہا ہے کہ اس ادارے کا مستقبل روشن ہے ۔چند ہفتہ پہلے ہی مشاورت کی ایک میٹنگ کو حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب بھی مخاطب کر چکے ہیں اور انہوں نے بھی اپنے خطاب کے ذریعہ یہی کہنے کی کوشش کی تھی کہ بھارت میں مسلمانوں کی سیاسی قیادت نام کی کوئی چیز رہ نہیں گئی لہذا کسی بھی صورت سے اس کمی کا ازالہ کرنے کی سبیل تلاش کرنی ہوگی اور اس کے لئے سب سے بڑی ضرورت اتحاد ملت کی ہے ۔
مولانا ارشد مدنی کے اس خطاب کا بھی پورے ملک کے مسلمانوں نے خیر مقدم کیا تھا اور اب م۔افضل صاحب نے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر مشاورت کے پلیٹ فارم سے اپنی بات کہدی ہے ۔ ملی اسٹیج سے ایک سیاستدان کے تجربے کی یہ زبان سیاست کے ایوان کی کتنی سیڑھیاں چڑھتی ہے ،مسلم سیاستدانوں کو کس حد تک حقیقت حال سے آشنا کرا پاتی ہے اور عام مسلمانوں کے مایوس دلوں میں کس حد تک حوصلے کی آگ جلا پاتی ہے یہ دیکھنا ہوگا ۔












