نئی دہلی، بوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر ، نئی دہلی کے صدر مولانا محمدرحمانی سنابلی مدنی حفظہ اللہ نے سابقہ جمعہ کوناگپور میں وہاں کے تاجر جناب رفیق پٹیل صاحب رحمہ اللہ کی جانب سے وقف کردہ وسیع اراضی اور اس پر واقع جامع مسجد اہل حدیث کا ایک وفد بشمول سنٹر کے جوائنٹ سکریٹری جناب اسماعیل رحمانی، آرکٹکٹ جناب عبدالحلیم صاحب اورادارہ کے شعبہ دعوت کے ذمہ دار جناب یار محمد سلفی حفظہم اللہ کے ساتھ دورہ کیا اور مقامی لوگوں سے ملاقات کے ساتھ خطبہ جمعہ میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد سے خطاب بھی کیا اور وقف شدہ زمین پر لڑکیوں کے معیاری تعلیمی اسکول جس میں جدید علوم کے ساتھ شرعی علوم کا بھی اہتمام کیا جائے، اس کے قیام اورجلد اس کی تعمیر کی شروعات کا اعلان بھی کیا ۔مولانا نے خطبہ جمعہ میں مسلم مردوں اور خواتین سے خطاب کرتے ہوئے اسلام میں مکمل طریقہ سے داخل ہونے کے تصور پر تفصیلی گفتگو فرمائی، مولانا نے سورۂ بقرہ کی آیت کریمہ کی روشنی میں فرمایا کہ اللہ رب العالمین نے ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ ہم اسلام میں مکمل طریقہ سے داخل ہوجائیں اورشیطان کی پیروی اوراس کی سازشوں سے بچیں کیوںکہ شیطان ہمارا کھلا دشمن ہے اوراگر بشری تقاضہ سے کچھ غلطیاں ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ غالب اور حکمت والا ہے اورمعاف کرنے والا ہے ۔ مولانا نے فرمایا کہ اسلام میں مکمل طریقہ سے داخل ہونے کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم توحید اور اس کے تقاضوں کوسمجھیں ، اتباع رسول کے مفہوم کو سمجھ کر اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالیں، صحابۂ کرام کی عظمت اور ان کے مقام نیز ان کے حقوق کا خیال رکھیں ، توحید کے تقاضوں کی ذرا بھی مخالفت کرنے والا ، اتباع رسول کے خلاف تقلید شخصی کواختیار کرنے والا ، صحابۂ کرام کی تنقیص یا توہین کرنے والا اسلام میں مکمل طریقہ سے داخل نہیں ہوسکتا اورنہ کامل مسلمان ہوسکتا ہے ۔مولانانے سنن ترمذی کی ایک حدیث کے حوالہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کا بھی ذکر کیا جس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کومخاطب کرکے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بچے اللہ کی حفاظت کراللہ تمہاری حفاظت کرے گا یعنی اللہ کے دین کی حفاظت کرو اللہ تمہاری حفاظت فرمائے گا اورجب مدد مانگوتو صرف اللہ تعالیٰ سے مانگو، پناہ صرف اللہ سے طلب کرو اور اس با ت کو سمجھ لو کہ اگر ساری دنیا مل کر بھی تم کو نفع یا نقصان پہونچانا چاہے تو اللہ کی مرضی کے خلاف نہیں پہونچا سکتی اورہمیں یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ جب تک ہم خود اپنے آپ کو نہیں بدلیں گے اللہ بھی ہمیں تبدیل نہیں فرمائے گا اوراگر ہم نے دین کومکمل طریقہ سے اپنا کر اپنے آپ کو نہیں بدلا تو ہم پردنیا کی ساری قومیں ویسے ہی پل اور ٹوٹ پڑیں گی جیسے بھوکے کسی کھانے برتن پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اور اس کمزوری اورناکامی کا بنیادی سبب دنیا سے بے جا محبت اور موت کا ڈر ہوتا ہے ۔مولانا رحمانی نے جمعہ کی نماز کے بعد لڑکیوں کے تعلیمی ادارہ کے قیام کا اعلان بھی کیا اور جناب رفیق پٹیل صاحب کے لیے دعائیں بھی کیں کہ اللہ ان کے لیے اس وقف کی زمین کوصدقۂ جاریہ بنائے اور ان کی وفات کے بعد سے اس وقف کی گئی جائیداد کی بے لوث خدمات انجام دینے والے ان کی اولاد اور بالخصوص جناب سلیم پٹیل صاحب کے لیے بھی دعا کی کہ اللہ ان کو بھی مزید توفیق سے نوازے۔ مولانا تعمیر ی کام کی شروعات میں ادارہ کی مالی مجبوریوں پر لوگوں سے معذرت بھی کی اور تعمیری کام کی ابتدا کے ساتھ مالی تعاون کے لیے جڑنے کی اپیل بھی کی اور آرکیٹکٹ اور پورے وفد کے ساتھ وقف شدہ اراضی کا سروے بھی کیا اورجلد کام کی ابتدا کے لیے قانونی کارروائی سے متعلق ہدایات بھی جاری کیں۔












