رام نومی آیا اور گذر گیا.ہمارے ملک کے تیوہاروں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ہر تیوہار کا تعلق مذہب سے ہوتا ہے .رام نومی راجہ رامچندر جی سے منسوب ہے جنہیں ملک کے اکثریتی طبقہ کے لوگ بھگوان رام بھی کہتے ہیں .اور ان کی زندگی کے بارے میں تفصیل رامائن میں موجود ہے جو ہندو مذہب کی بہت ہی اہم کتاب ہے .

ہمارے ملک کی ایک اور خوبی بھی ہے کہ یہاں بھلے ہی یہ نعرے لگائے جاتے ہوں کہ ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں اور ہمارے ملک میں دنیا کے تقریباً تمام مذاہب کے ماننے والے امن وسکون سے رہتے ہیں یہ کوری بکواس ہے .آزاد ہندوستان میں تو خاص طور پر ایسا کبھی دیکھنے کو نہیں ملا کہ کسی تہوار پر ساری کمیونیٹی تہوار سیلیبریٹ کر رہی ہو اور پولیس سکون کی سانس لے رہی ہو .جبکہ اس تہوار کے منانے والے یہی کہتے ہیں کہ یہ تہوار تو سماج میں امن و سکون پھیلانے کے لئے منایا جاتا ہے.

آج پھر یہی ہوا رام نومی کا دن گذرتے گذرتے ملک کے تقریباً درجن بھر ریاستوں سے یہ خبر آنے لگی کہ دو کمیونیٹی کے درمیان ہونے والے تشدد میں آگ زنی ،پتھراؤ،بمبازی اور چھرے بازی کے متعدد واقعات رو نما ہو گئے .اب ظاہر ہے اس میں کئی لوگوں کی جانیں بھی گئیں ہونگیں اور متعدد لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں .کہیں گھروں کو جلایا گیا ہے تو کہیں مذہبی عمارتوں کو جلایا اور توڑا پھوڑا گیا ہے .پھر معمول کے مطابق سیاسی اور مذہبی نیتاؤں کے بیانات بھی آنے لگے اور سب کا لب لباب یہ کہ ہم صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں اور یہ چند سر پھروں کی کارستانی ہے جسے عمومی نہ سمجھا جائے .سب کچھ معمول پر ہے .ہماری پولیس چوکنا ہے اور تفتیش کر کے قصور واروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائیگی وغیرہ وغیرہ .یہ ایک معمول کی بات ہے اور آج کے اخبارات میں ایسی خبروں اور بیانات کے کئی نمونے آپ کو مل جائینگے .لیکن پھر اگلے کسی تہوار میں بھی ایسا ہی ہوگا. کیونکہ ایسے فسادات کے بعد ہونے والی چھان بین کے دوران سیکڑوں لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی تو ہوگی لیکن وہ چند سرپھرے پولیس کو نہیں مل پائینگے جنہوں نے جلوس کے مسجد یادرگاہ کے پاس پنہنچنے پر پتھر بازی شروع کی تھی .یا جنہوں نے مندر یا اس کی مورتی پر سب سے پہلے حملہ کیا تھا.
حیرت تو یہ بھی ہوتی ہے کہ رام بھکتوں کا جلوس جب بھی کسی مسجد کے پاس سے گذرتا ہے تو مسلمانوں کی طرف سے لتھر بازی کیوں شروع ہو جاتی ہے .یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کے بعد نہ تو مسجد صحیع و سالم بچیگا اور نہ دوکان و گاڑیاں ،اور یہ ساری کارروائی یکطرفہ ہوگی .اس کے بعد پولیس کی کارروائی بھی یکطرفہ ہوگی اسر پہلے تو درجنوں نوجوانوں کو اٹھا کر جیل رسید کر دیا جائے گا اسر اس کے بعد عدالت کے چکر لگاتے لگاتے وہ پورا خاندان تباہ ہو جائے گا .
یہ سب کچھ ہمارے آزاد ملک کی روایت ہے اور اس روایت میں کوئی تبدیلی کبھی نہیں آئی چاہے سرکار کسی کی بھی ہو .اور اب تو بھارت کے مسلمان اس کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ وہ کدی ہندو جلوس کا نام سن کر ہی سراسیمہ ہو جاتے ہیں کہ اللہ جانے کیا ہوگا آگے .میں یہ بات اتنے وثوق سے اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ایک روز پہلے مغربی بنگال کی سیکولر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ای جلسہ عام کو خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ رام نومی کا تہوار کل ہے .ہم کسی جلوس کو نہیں روکینگے لیکن یاد رہے کہ اگر کسی مسلمان کے گھر پر حملہ ہوا تو بخشینگے بھی نہیں .اور پھر کلکتہ میں دیدی کی ناک کے نیچے ہاؤڑہ سمیت کئی جگہوں پر رام بھکتوں کی ٹولی مساجد سمیت مسلم بازاروں پر ٹوٹ پڑی .یہ وہی مٹھی بھر لوگ تھے جو ایسی واردات کے بعد ایسے غائب ہو جاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ .
ایک وزیر اعلیٰ کا کسی واردات کے پہلے ایسا بیان کہ جس میں ایک مخصوص کمیونیٹی کا نام لے کر چیلنج کیا گیا ہو کہ اس کمیونیٹی پر حملہ کر کے دکھاؤ تو سخت سزا ملیگی کس آئین کی زبان ہے .اور ایک وزیر اعلیٰ ایسا بول بھی کیسے سکتی ہے .لیکن ہمارے سامنے ممتا بنرجی کا بیان بھی ہے اور جلتے ہوئے مسلمانوں کے گھر وں اور دکانوں کا ویڈیو بھی .
ابھی دو دن پہلے ہی کی بات ہے جب سپریم کورٹ کے ایک بینچ میں مہاراشٹرا میں ہیٹ اسپیچ کے سلسلے کا ایک کیس ڈسکس ہو رہا تھا تو کورٹ کے جج نے ریمارک کیا کہ جب تک اس ملک مکں سیاست اور مذہب کو الگ الگ نہیں کیا جائے گا ہیٹ اسپیچ کا سلسلہ رکنے والا نہیں .
اسر جب تک یہ بیان بازی نہیں رکیگی رام نومی ہو یا محرم ،ایسی وارداتیں بھی نہیں رکینگی .رکینگی کیسے جب رام نومی کے جلوس میں بھی شوبھا یاترا کے طور پر ناتھو رام گوڈسے کی فوٹو کو مالا پہنا کر اس کی آرتی اتاری جائیگی .
شعیب رضا فاطمی












