ڈھاکہ، (یو این آئی) بنگلہ دیش میں خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کی نگرانی کرنے والے حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ ملک میں گزشتہ سال کے دوران عصمت دری اور جنسی تشدد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے متاثرین میں سب سے زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق بنگلہ دیش مہیلا پریشد (بی ایم پی ) کے اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ 2025 میں 786 خواتین اور لڑکیاں عصمت دری اور اجتماعی عصمت دری کا شکار ہوئیں جو سالانہ بنیادوں پر 52.3 فیصد اضافہ ہے، 2024 میں یہ تعداد 516 تھی۔ رپورٹس کے مطابق ان متاثرین میں سے 543 لڑکیاں تھیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 47.9 فیصد زیادہ ہے۔ ڈھاکہ ٹریبیون کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش مہیلا پریشد کی 2025 کی سالانہ رپورٹ میں شائع ہونے والے نتائج، خاص طور پر نابالغوں کے خلاف جنسی تشدد میں پریشان کن اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔مہیلا پریشد کی مرکزی قانونی امداد کی ذیلی کمیٹی کی طرف سے مرتب کردہ 15 قومی روزناموں کی رپورٹوں کے تجزیے سے پتا چلا ہے کہ گزشتہ سال ملک میں 2,808 خواتین اور لڑکیوں کو مختلف قسم کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ان میں، 1571 خواتین اور 1234 لڑکیاں تھیں، جس کو عوامی تحفظ کا بحران قرار دیا گیا ہے۔ ان واقعات میں جنسی تشدد کا بڑا حصہ تھا۔
رپورٹس کے مطابق 2025 میں 179 متاثرین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جن میں 104 لڑکیاں اور 75 خواتین شامل تھیں۔ عصمت دری کی کوشش کے مزید 188 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جب کہ سات متاثرین نے عصمت دری کے بعد خودکشی کرلی تھی، جنسی طور پر ہراساں کرنے سے 169 افراد متاثر ہوئے جن میں 112 لڑکیاں بھی شامل تھیں۔رپورٹ میں بدسلوکی کی دیگر اقسام میں اضافے کو بھی دستاویز کیا گیا ہے۔












