اخبارات میں آئے دن والدین کے ساتھ اولاد کی بدسلوکی کی خبریں آتی رہتی ہیں ۔اکا دکا واقعات پہلے بھی ہوتے تھے ۔لیکن ادھر چند برسوں سے اس میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔البتہ یہ پہلو لائق شکر ہے کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کی صورت حال برادران وطن سے بہتر ہے ۔لکھنو سے ایک خبر آئی کہ ایک ریٹائرڈ فوجی کی بیوی کا انتقال ہوگیا ۔اس کے دو بیٹے تھے اور دونوں ہی امریکہ میں رہتے تھے۔لکھنو کے عالیشان بنگلہ میں صرف ماں باپ رہتے تھے ۔ایک دو نوکرتھے جو ان کی خدمت کرتے تھے ۔ایک دن فوجی کی بیوی اس دنیا کو چھوڑ کر چلی گئی ۔فوجی نے اپنے بچوں کو خبر دی ۔بیٹوں کے انتظار میں دو دن تک لاش کو رکھا گیا کہ و ہی انتم سنسکار کی رسم ادا کریںگے ۔دو دن بعد چھوٹا بیٹا آیا تو فوجی نے بڑے بیٹے کے بارے میں معلوم کیا کہ وہ کیوں نہیں آیا ۔چھوٹے بیٹے نے جواب دیا :’’ بھیا نے کہا ہے کہ ماں کے دیہانت پر تو چلا جا ،پتا جی کے دیہانت پر میں چلاجائوں گا۔‘‘اپنے بڑے بیٹے کے یہ جملے فوجی کے سینے پر گولی کی طرح لگے ۔وہ کمرے کے اندر گیا۔اس نے ایک کاغذ پر کچھ لکھا اور خود کو گولی مارلی ۔گولیوں کی آواز سن کر سب لوگ دوڑے تو دیکھا کہ فوجی بھی دنیا چھوڑ چکا ہے ۔ کاغذ پڑھا گیا اس پر لکھا تھا:’’بیٹے میں بھی تیری ماں کے ساتھ ہی جارہا ہوں ،دونوں کا انتم سنسکار چھوٹا کردے گا ۔اب تجھے آنے کا کسٹ (تکلیف)نہیں سہنا پڑے گا۔‘‘
یہ ایک واقعہ نہیں ہے ۔بلکہ بڑے شہروں میں ان لوگوں کی اولادیں جو خود کسی بڑے عہدے پر تھے ۔بہت مال دار تھے ۔اپنے بچوں کو ابتداء سے ہی مہنگی تعلیم دلائی تھی ۔اپنی اولاد کے سارے شوق پورے کیے تھے ۔ہر طرح کے نخرے اٹھائے تھے۔جب اعلیٰ تعلیم حاصل ہوگئی تو اصل ماں باپ کو بھی اور ’’بھارت ماتا ‘‘اور ’’گئو ماتا‘‘ سب کوچھوڑ کر پردیس چلے گئے اوروہیں کے ہوکر رہ گئے ۔وطن میں ماں باپ اپنی پینشن اور نوکروں کے بھروسے رہ گئے ،جو سرکاری نوکری نہیں کرتے تھے وہ حالات کے رحم و کرم پر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ بھارت میں وردھا آشرم (اولڈیج ہوم ) بنائے گئے ۔ ان کی بات تو چھوڑ یے جو پردیس چلے گئے ،خود بھارت میں رہتے ہوئے بھی کتنے ہی بیٹے اپنے والدین کو اِن آشرموں میں چھوڑ کر اپنے بچوں کے ساتھ عیش کررہے ہیں ۔کبھی کبھار آشرم آکر پتا جی سے آشیرواد لے لیتے ہیں ۔میں سوچتا ہوں کہ کیا یہی ہماری تہذیب ہے ؟جس ملک میں شرون کمار نے کاندھے پر والدین کو بیٹھا کر تیرتھ یاترا کرائی ہو؟جہاں شری رام اپنے والد کے اشارے پر راج پاٹ اور شاہی عیش و آرام چھوڑ کر جنگل چلے گئے ہوں ۔اس ملک میں اولڈیج ہوم کلچر کو کس طرح قبول کرلیا گیا ؟
اس وقت پورے ملک میں 551 اولڈیج ہوم ہیں ان میں تقریباً 16500 بزرگ رہتے ہیں۔یہ تعداد ان اولڈیج ہومس کی ہے جو سرکاری امداد سے چلائے جارہے ہیں ۔ان کے علاوہ این جی اوز کی جانب سے چلائے جانے والے اولڈیج ہوم کی تعدا د بھی اچھی خاصی ہے ۔اس کی درست تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔اللہ کا شکر ہے کہ ہندوستان میں ابھی مسلم امت کا اخلاقی زوال اس انتہا کو نہیں پہنچا ہے کہ وہاں اولڈ ایج ہوم کا کلچر عام ہوجائے ۔اس کے با وجود ملک میں دو اولڈ ایج ہوم ایسے ہیں جنھیں مسلم تنظیمیں چلاتی ہیں۔ بنگلور میں آشیانہ اولڈ ایج ہوم اور حیدرآباد میں فاطمہ اولڈ ایج ہوم ۔ فاطمہ اولڈ ایج ہوم ایک سیکولر گھر ہے جہاں غیر مسلم بھی ہیں لیکن زیادہ ترمستفیدین مسلمان ہیں۔ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے اور باپ جنت کا دروازہ ہے پر یقین رکھنے والوں کے چہرے پر دو اولڈیج ہوم بھی بدنما داغ ہیں۔
اولڈیج ہوم میں رہنے والے بزرگ کسی غریب اور جاہل خاندان سے نہیں ہوتے ۔بلکہ وہ متمول اور تعلیم یافتہ گھر سے تعلق رکھتے ہیں۔جاہل اور غریب اولاد کسی حد تک اپنے والدین کی سیوا کرتی ہے ۔تعلیم اور خوش حالی کے باوجود بہت سے لوگ اپنے والدین کو صرف اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ گھر میں بیمار ماں یا باپ نہیں چاہتے۔ بہت سے خاندان ایسے ہیں جو اپنے والدین کی دیکھ بھال نہیں کر سکتے کیونکہ میاں بیوی دونوں کام کرتے ہیں۔ کچھ والدین تنہا رہ جاتے ہیں کیونکہ ان کے بیٹے اپنی فیملی کے ساتھ بیرون ملک آباد ہو گئے ہیں۔اس لیے اولڈ ایج ہوم میں رہنے پر مجبور ہیں ۔بعض نوجوان اپنی بیویوں کے طعنوں سے تنگ آکر ایسا کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا اولڈیج ہومس میں رہنے والے و الدین اور بزرگ خوش رہتے ہیں ؟کیا وہاں ان کی کما حقہٗ دیکھ بھال ہوسکتی ہے ؟اپنے بچوں سے الگ رہ کران کے جذبات و احساسات کو کس طرح اطمینان حاصل ہوتا ہوگا؟ساری عمر قربانی دے کر اپنے بچوں کو کسی لائق بنانے والے والدین آخری عمر میں بھی اپنے بچوں کے سکون کے لیے اس اذیت بھری زندگی کو گورا کرتے ہیں ۔کتنے عظیم ہوتے ہیںماں باپ جنھیں اپنی اولاد کا سکھ اس قدر پیارا ہوتا ہے کہ سارے دکھ اپنے نحیف و نزار جسم پر لاد لیتے ہیں۔
سوال یہ بھی ہے کہ ہمارے نصاب تعلیم میں ایسی کیا کمی رہ گئی ہے کہ بچے حصول تعلیم کے بعد اپنے والدین کو فراموش کردیتے ہیں۔تعلیمی ادارے ہمیں صرف کتاب پڑھنا ہی نہیں سکھاتے بلکہ ہماری اقدار کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔شاید تعلیمی ادارے اپنا فرض ادا نہیں کررہے ہیں ۔میں پوچھتا ہوں کہ کیا سارے فرائض ماں باپ پر ہی عائد ہوتے ہیں ۔کیااولاد پر والدین کا کوئی حق نہیں ہے۔عدالتوں سے والدین کے حق میں صرف اتنا ہی فیصلہ آتا ہے کہ اولاد گزارہ کیلئے رقم فراہم کرے۔ حالانکہ Maintenance and Welfare of Parents and Senior Citizens Act, 2007کے مطابق والدین کو اپنے گھر میں رہنے اوربچوں سے اپنی ضروریات زندگی پوری کرانے کا اختیار ہے ۔انھیں یہ بھی قانونی حق ہے کہ اگر اولاد ان کی خدمت نہ کرے تو انھیںگھر سے نکال دیں ۔بے دخل کردیں ۔لیکن بڑھاپے میںقانونی کارہ جوئی کرنے کی بھی ہمت باقی نہیں رہتی ۔جسمانی کمزوری کے ساتھ عدالتوں کے چکر لگانے کا حوصلہ کون کرتا ہے ۔اس لیے اکثر بزرگ اپنی اولاد کا ظلم سہنے پر مجبور ہیں ۔
والدین کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ وہ جس بچے کی پیدائش پر مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں ،اس کی بہتر زندگی کے لیے رات دن کا سکھ چین قربان کرتے ہیں ،یہاں تک کہ حلال و حرام ،جائز و ناجائز کی حدیں بھی پار کردیتے ہیں۔بیشتر سرکاری نوکری پیشہ لوگ حکومت کے دیے گئے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں ،کتنے ہی افراد اپنے بچوں کے لیے رشتہ داروں کے حقوق سلب کرتے ہیں۔آخر وہی اولاد کمزوری کی حالت میں انھیں چھوڑ کر چلی جاتی ہے ۔کہیں یہ فطرت کا انتقام تو نہیں ہے ۔اس لیے ہمیں ہر لمحہ اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اپنی اولاد کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کسی کی حق تلفی نہ ہو۔
مسلم معاشرے میں اگرچہ اولڈیج ہوم کے کلچر کو قبول عام حاصل نہیں ہوا ہے ۔البتہ والدین کی نافرمانی ،بے ادبی اور اہانت کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ان کے جو حقوق اسلام نے بتائے ہیں اول تو اولاد ان حقوق سے واقف نہیں اور دوسرے جو واقف بھی ہیں وہ ادا نہیں کرتے ۔بھارتی مسلمان ایک مثالی اسلامی معاشرہ بنانے میں ناکام ہیں ۔جس دین میں والدین کو ’اُف ‘ تک کہنے کی گنجائش نہیںہے اس کے ماننے والے(اگرچہ ان کی تعداد کم ہے ) اپنے والدین خاص طور پر باپ کو مغلظات سے نوازتے ہیں ۔مکان اور جائداد کی تقسیم کو لے کر والدین سے بولنا تک چھوڑ دیتے ہیں ۔اچھے خاصے دیندار دکھائی دینے والے لوگ بھی باپ کو دھتکارتے نظر آتے ہیں۔
ایک بیوہ ماں جسے اپنے دو جوان بیٹوں کی ناگہانی موت کاغم بھی ملا ہے۔ عمرہ کرنے جاتی ہے ،مگر اس کا بڑا بیٹا جو سرکاری اسکول میں ہیڈ ماسٹر ہے ملنے تک نہیں جاتا جب کہ صرف پانچ کلومیٹر کی دوری پر رہتا ہے ۔آپ دیکھیں گے توسجدے کرتے کرتے اس کے پیشانی پر کالا نشان پڑگیا ہے ۔اس کی ماں نے اس کے ساتھ کبھی کوئی ظلم بھی نہیں کیا ہے ۔محض اپنی بیوی کے طعنوں سے ڈر کر وہ ایسا کرتا ہے ۔ آخر اس کی نماز اسے کیا فائدہ دے گی ۔جب وہ خود اپنی ماں کے ساتھ برا سلوک کرتا اور دل دکھاتا ہے تو اس کے ذریعہ تعلیم پانے والے بچے کیا کریں گے ؟ایسے شخص کو استاذ کہلانے کا حق نہیں ہے ۔جس دین کے پیغمبر نے ایک باپ کی شکایت پر بیٹے سے کہا ہو :’’ تو اور تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے ‘‘ اس دین کا نام لینے والے معاشرے میں بوڑھے ماں باپ دو وقت کی روٹی کو ترسیں یہ کہاں کی دینداری ہے ۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے قوانین پر عمل دارآمد کے لیے اس بات کا انتظار نہ کرے کہ کوئی بوڑھا باپ اس کی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے ۔ بلکہ اسے چاہئے کہ اپنے ذرائع سے سماج اور معاشرے میں بزرگوں کے حالات سے واقفیت حاصل کرے ۔جب وہ بوڑھوں کا شمار کراسکتی ہے تو حالات سے بھی واقف ہوسکتی ہے۔اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ کر جانے والے بیٹوں کے معاشی اور سماجی حالات کی تحقیقات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ والدین اپنے خاندان میں رہیں ،انھیں صرف دو وقت کی روٹی ہی نہیں بلکہ زندہ رہنے کے لیے اپنے بچوں کی محبت بھی درکار ہوتی ہے ۔اولاد سے الگ رہ کر والدین کی زندگی موت سے بدترہوجاتی ہے ۔وہ جلد ہی موت کو گلے لگالیتے ہیں ۔یہ صورت حال خود کشی کے مترادف ہے ۔اولاد اس کے لیے مجرم ہے ۔مسلم معاشرے میں ائمہ و علماء اور مذہبی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ والدین کے حقوق کے تعلق سے گاہے گاہے بیداری کی مہم چلائیں ۔دینی جماعتوں کو اپنی مجلسوں میں اس بات کا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ محلہ میں کس کے ماں باپ پریشان ہیں ۔اپنے کارکنوں اور جماعت کے ساتھیوں کے گھروں کا حال بھی جاننا چاہئے ،اس لیے کہ کسی بھی دینی جماعت سے وابستہ افراد سماج کے لیے آئیڈیل ہوتے ہیں۔












