مسلم معاشرہ دور حاضرمیں جن معاشرتی مسائل سے نبردآزما ہے ان میں سے ایک نوجوانوں میں نشہ خوری مسئلہ بھی ہے۔ بڑی تیزی سے نوجوان طبقہ اس ناسور میں مبتلا ہورہا ہے۔ بالخصوص بارہ سے اٹھارہ سال کے لڑکے اس مہلک مرض میں زیادہ گرفتار ہیں، جو حددرجہ افسوسناک ہے۔ اگر اس پر وقت رہتے قدغن نہیں لگایا گیا تو حالات بد سے بدتر ہوجائیں گے، اور پورا معاشرہ تباہ وبرباد ہوجائے گا۔ نشہ کے روک تھام کے لئے سب سے پہلے اس کے اسباب کو جاننا نہایت ضروری ہے تاکہ اس کا تدارک کیا جاسکے۔
سماج میں نشہ کے بڑھتے رجحان کا ایک اہم سبب سماج کا دین اور شریعت کی تعلیمات سے دور ہونا ہے۔ حالانکہ کتاب وسنت میں صراحت کے ساتھ شراب نوشی اور نشہ خوری سے منع کیا گیا ہے۔فرمان الہی ہے:’’ اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر یہ سب گندی باتیں ،شیطانی کام ہیں۔ ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو۔ شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرادے اور اللہ تعالی کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے سو کیا تم باز آنے والے ہو؟‘‘۔( المائدہ: ۹۱۔۹۲) دوسرے مقام پر اس بات کا صاف اشارہ موجود ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم سے لوگوں کو پاکیزہ چیزوںکا حکم دیا کرتے تھے اور گندی چیزوں سے منع کیا کرتے تھے، فرمان باری تعالی ہے:’’ جولوگ ایسے رسول نبی امی کا اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور پاکیزہ چیزوں کو حلال بتاتے ہیں اورگندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں‘‘۔( الأعراف: ۱۵۷)ایک دوسری جگہ لوگوں کو سختی سے اس بات سے روکا گیا ہے کہ وہ اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا:’’اور اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو اور سلوک واحسان کرو، بے شک اللہ تعالی احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘۔( البقرۃ: ۱۹۵) مذکورہ تمام آیتوں سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ قرآن کے رو ہر اس چیز کا استعمال کرنا حرام ہے جس میں نشہ ہو۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص نشہ کا استعمال کرتا ہے تو اللہ تعالی صراصر اللہ تعالی کی مخالفت کرتا ہے۔
احادیث کے مطالعے سے بھی نشہ کی حرمت معلوم ہوتی ہے۔ ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میرے پاس جبریل آئے اور کہا: اے محمد! بے شک اللہ نے شراب ، اس کے بنانے والے،بنوانے والے، اس کے منتقل کرنے اور کرانے والے، اس کے بیچنے اور خریدنے والے، اس کے پینے اور پلانے والے پر لعنت کی ہے‘‘۔ (مسند احمد،اسنادہ حسن) اس حدیث میں شراب اور اس کے کاروبار میں معمولی درجہ کی شراکت اور اور تعاون سے بھی منع کیا گیا ہے۔ افسوس ایسے مسلمانوں پر جو شراب کی تجارت کرتے اور اس کے ذریعہ اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو فوری طورپر توبہ کرکے ایسی تجارت اختیار کرنی چاہئے جو ازروئے شرع حلال ہو۔نہ جانے اس شراب اور نشہ نے کتنے گھروں اور خاندانوں کو اجاڑ دیا۔ کتنے محلوں میں سونے والے سڑک کنارے سونے پر مجبورہوئے۔ اربوں کھربوں والے بھیک مانگتے دیکھے گئے۔
ایک دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ہر نشہ آور چیز حرام ہے‘‘( صحیح بخاری) ایک اور حدیث میں فرمایا:’’ نشہ کم مقدار میں ہو یا زیادہ بہرحال وہ حرام ہے‘‘( سنن ابو داود، اسنادہ حسن)۔ ان دونوں حدیثوں کے بعد کسی کے لئے کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ وہ منشیات کا استعمال کرے، اور اس کے لئے دلیل فراہم کرے ۔واضح رہے کہ سگریٹ،بیٹری،تمباکو،گٹکھا،سکھر، چرس،افیم،بھانگ یا اس طرح کی دوسری تمام نشہ آور چیزیں مہلک اور حرام ہیں۔عام طورپر معمولی نشہ کے ذریعہ ہی لڑکے بڑی نشہ کے عادی بنتے ہیں۔ سگریٹ اور گتکھا استعمال کرنے والا نوجوان چند دنوں کے بعد چرس اور افیم کا شکار بھی ہوجاتا ہے۔ اس لئے ایسے مہلک اشیا سے بچوں کی حفاظت ضروری ہے۔ یقینا ہم ایسے زمانے میں داخل ہوچکے ہیں جو قیامت سے بہت قریب ہے۔ اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ شراب کی کثرت قیامت کی نشانیوں میں سے ہے‘‘(صحیح مسلم) آج ہر جگہ بڑی آسانی سے نشہ آور دوائیں اور غذائیں موجود ہیں۔ الگ الگ ناموں سے بازار میں بیچا جاتا ہے۔ نام کچھ بھی رکھ دیا جائے لیکن اس کی حقیقت اس سے تبدیل نہیں ہوتی۔ اگر نشہ ہے تو قیامت تک کے لئے حرام ہے۔
نشہ کا انسان کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔اس کا تسلسل کے ساتھ استعمال کرنا انسان کو اندر سے کمزور کردیتا ہے۔ لوگوں کے حقوق اس سے پامال ہوتے ہیں۔ اخلاقی اور سماجی برائیاں عام ہوتی ہیں۔ بالخصوص سماج میں قتل وخون ریزی اور عصمت دری کے واقعات فروغ پاتے ہیں۔ طلاق کا گراف بڑھتا ہے۔ خاندانی نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ اس وقت گھروں میں جو بیشتر بے اطمینانی دیکھی جاتی ہے اس کے اسباب میں سے نشہ خوری ہے۔ جس کا شوہر یا گھر کا کوئی فرد شراب استعمال کرتاہے وہاں روزانہ لڑائی اور جھگڑا دیکھا جاتا ہے۔
سماج میں نشہ خوری کے عام ہونے کے بہت سارے اسباب ہیں۔ جن میں شریعت کے احکام ومسائل سے عدم واقفیت، ملحدانہ ذہنیت، والدین کی غفلت، مغرب کی اندھی تقلید، فلم بینی، بیہودہ دوستوں کی مصاحبت، سوشل میڈیا کا بییجا استعمال وغیرہ اہم ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد اور ہمارا معاشرہ نشہ خوری کی لعنت سے پاک ہو اور سماج میں امن وسکون قائم ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ سماج کے باشعور افراد اس کے روک تھام کے لئے کارگر اور مثبت اقدام کریں۔ سب سے پہلے نوجوان نسل کو اسلامی تعلیمات سے بہرور کرنے کی سعی کی جائے۔ والدین تعلیم وتربیت کے تعلق سے اپنی ذمہ داریوں کو پوری امانت کے ساتھ ادا کریں۔ سیرت رسول اور سیرت صحابہ اور ان کے روشن کارناموں کو بچوں کے سامنے بیان کیا جائے۔ فلم اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر نگاہ رکھی جائے۔ برے دوستوں کو اپنے بچوں سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ کوئی بچہ اگر کسی وجہ سے نشہ کا استعمال کرتا ہے تو بروقت اس کو نوٹس لی جائے، نصیحت کی جائے، اس قسم کی غلطی کو معمولی جان کر ہرگز نظر انداز نہ کیا جائے۔ ایسا نہ ہوکہ ہماری تساہلی کی وجہ سے معاشرہ فاسد ہوجائے، اور عند اللہ ہم سب مسئول قرار پائیں۔












