ہمارے ملک میں سیاسی ہنگامہ آرائی اور ووٹوں کی سیاست کے درمیان بہت سی بنیادی باتیں ایسی بھی ہیں جن پر حکومت نے توجہ دینی بند کر دی ہیں،اور خط غربت سے نیچے زندگی گذارنے والی آبادی نے پانچ کیلو گرام اناج حاصل کر کے اپنی بھوک پر فتح پاکر حکومت وقت کو کامیاب اور حساس حکومت کی سند دے دی ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ ملک میں موجود سب سے بڑی آبادی کا بچپن جوانی کی دہلیز پر پہنچنے سے پہلے اتنا لاغر ہو جاتا ہے ،اتنی مہلک بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے کہ اس کی جوانی کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا ۔یہ بات ہم پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں کہ کسی ملک کا صحت مند معاشرہ ہی ملک کے مستقبل کو تابناک بناتا ہے ۔یوں تو ان دنوں برسر اقتدار حکومت زور شور سے یہ نعرہ بلند کر رہی کہ گذشتہ دس برسوں میں ہمارا ملک عالمی سطح پر ترقی یافتہ ممالک کو بھی چیلنج کر رہا ہے ۔ملک کا ایک طبقہ حکومت کے اس نعرے کی تائید بھی کرتا ہے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ۔ اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائیزیشن (ایف اے او) کے تازہ ترین گلوبل ہنگر انڈیکس میں دنیا کے 125ملکوں میں بھارت 111 نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھوک کے خلاف اس کی پیش رفت 2015 کے بعد سے تقریباً رک گئی ہے۔گلوبل ہنگر انڈیکس میں 100 پوائنٹ کے پیمانے پر صفر (0) یعنی کوئی بھوکا نہیں، بہترین اسکور اور 100بدترین اسکور ہے۔ اس انڈکس کی تیاری میں بھوک کی کثیر جہتی نوعیت کے چار اشاروں یعنی کم غذائیت، بچوں کی نشو و نما، بچوں میں لاغرپن اور بچوں کی شرح اموات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس درجہ بندی میں 100پوائنٹ پر بھارت کا اسکور 28.7 ہے، جو بھارت میں بھوک کی”سنگینی” کو ظاہر کرتا ہے۔کمال یہ بھی ہے کہ گلوبل ہنگر انڈیکس میں بھارت سے زیادہ خراب کارکردگی کی فہرست میں صرف افغانستان، ہیٹی اور سب صحارا کے 12ممالک شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھوک کی کثیر جہتی نوعیت پر قابو پانے کے سلسلے میں بھارت کے پڑوسی ملکوں نے بھارت سے زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ فہرست میں پاکستان 102ویں نمبر پر، بنگلہ دیش 81 ویں نمبر پر، نیپال 69ویں نمبر پر اور سری لنکا 60ویں نمبر پر ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "بھارت میں بچوں میں لاغرپن کی شرح ِ18.7فیصد ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ بچوں میں شدید ترین قلت تغذیہ کو ظاہر کرتا ہے۔” گلوبل ہنگر انڈیکس کے مطابق بھارت میں قلت تغذیہ کی شرح 16.6فیصد اور پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی شرح اموات3.1 فیصد ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 15سے 24 سال کی عمر کی خواتین میں خون کی کمی کی شرح 58.1 فیصد ہے۔
بھارت نے سن 2000 اور 2015 کے درمیان نمایاں پیش رفت کی تھی۔ لیکن پچھلے آٹھ برسوں میں اس میں بہت معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔ حکومت نے تاہم اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کی معتبریت اور اعداد و شمار یکجا کرنے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔بھارت میں خواتین اور بچوں کے بہبود کے محکمے نے ایک بیان میں کہا کہ” گلوبل ہنگر انڈیکس بھوک کا اندازہ لگانے کے سلسلے میں خامیوں سے پر طریقہ کار ہے اور یہ بھارت کی اصل صورت حال کو اجاگر نہیں کرتا۔” بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کے حکومتی پورٹل پر بچوں کے لاغرپن کی شرح 7.2 دکھائی گئی ہے، لیکن گلوبل ہنگر انڈیکس میں اسے 18.7 پیش کیا گیا ہے، جس کا سبب ایف اے او کا خامیو ں سے پر طریقہ کار ہے۔تاہم گلوبل ہنگر انڈیکس میں سینیئر پالیسی ایڈوائزر میریم وائمرز کا کہنا ہے کہ گلوبل ہنگر انڈیکس کی تیاری میں تمام ملکوں کے سلسلے میں یکساں طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔ بھارت میں خواتین اور بچوں کے بہبود کے محکمہ نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ ایف اے او ٹیلی فون پر لوگوں کی رائے معلوم کرتا ہے لیکن اقوام متحدہ کے ادارے نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ قلت تغذیہ کی شرح بھارت کے فوڈ بیلنس شیٹ سے لیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق براعظم ایشیا میں بھوک بدستور ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ایف اے او کے مطابق کووڈ انیس کی وبا سے پہلے کے مقابلے میں سن 2022 میں ساڑھے پانچ کروڑ مزید لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضرورت بھر کھانے کے بغیر زندگی گزارنے والوں میں سے زیادہ تر جنوبی ایشیا میں رہتے ہیں اور وہاں مردوں کے مقابلے میں خواتین کو اور بھی کم غذا ملتی ہے۔ مشرقی ایشیا کو چھوڑ کر باقی علاقے میں ہر پانچ میں سے ایک سے زیادہ خواتین کو درمیانی یا سنگین سطح کے غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔سرکار کا یہ طریقہ کار افسوسناک ہے کہ کسی بھی تحقیقی رپورٹ کو خامیوں سے پر بتا کر اس کو مسترد کر دیا جائے ۔یقینا اس طرح حکومت اپنے مخالفین سیاسی جماعتوں کو تو خاموش کر سکتی ہے لیکن اس سے حقیقی صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ۔غریبوں کو پانچ کیلو اناج دے کر سرکار نے اگر یہ سمجھ لیا ہے کہ اس طرح اس نے تمام شہریوں کی غذائیت کے مسلے کو حل کر دیا ہے تو یہ اس کی بھول ہے ۔کیونکہ کسی بھی قسم کے اناج سے پیٹ بھر لینے اور غذائیت سے پر کھانے سے پیٹ بھرنے میں جو فرق ہے وہی ہنگر انڈیکس واضح کرتا ہے ۔اور اسے نظر انداز کرنا ملک کے مستقبل کو مزید کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔
شعیب رضا فاطمی












