امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے لگاتار چوتھی بار بھارت کو تشویش والے ممالک میں شامل کیا ہے۔ کمیشن نے بھارت، پاکستان اور چین سمیت 12 ممالک کو مذہبی آزادی کے سلب کنندہ ممالک کی صف میں شمار کیا ہے۔ امریکی کمیشن نے سال 2019 میں ملک میں مذہبی آزادی میں کمی کو اجاگر کیا تھا اور اپنی 2020 کی سالانہ رپورٹ میںبھی بھارت کو ’خاص تشویش والاملک‘ قرار دیا تھا۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی، بھارت کو مذہبی آزادی کے معاملہ میں تنقید کا نشانہ بناتارہا ہے تاہم امریکی حکومت نے ابھی تک بھارت کو تشویش والے ملک کی فہرست میں شامل نہیں کیا ہے۔دوسری طرف وزارت خارجہ حکومت ہند کمیشن کے اس اعلان کو مسترد کرچکی ہے۔امریکی کمیشن، امریکی سرکار کے تحت ایک خود مختار ادارہ ہے جو دنیا کے تمام ممالک میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی بات کرتا ہے۔سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے عالمی سطح پر یہ اعلان کرتے ہوئے کہاکہ کمیشن ایک خود مختاراور دو طرفہ امریکی ادارہ ہے جومذہب کی آزادی کے عالمی حقوق کی نگرانی کرتاہے۔
فروری 2021 میں یو ایس سی آئی آر ایف کی جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پریشان کن ہے، بھارت میں مذہب کے نام پرمذہبی اقلیتوں کے استحصال میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق بھارت میں شہریت کے جس متنازعہ قانون(سی اے اے) کیخلاف احتجاج ہو رہا تھا وہ قانون مسلمانوں کے ساتھ تفریق کیلئے بنایا گیا ہے۔ نئے قانون سے 19 لاکھ لوگوں کی شہریت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ نئے قانون سے مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے کا خطرہ بڑھ گیاہے۔ بھارتی سرکار نے متنازعہ قانون کیخلاف مظاہرہ کرنے والوں پر تشدد بھی کیا۔امریکی کمیشن کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے تحت مذہب کی بنیاد پر شہریوں کا رجسٹر تیار ہوگا۔ بھارت میں مذکورہ قانون کے نفاذ کے بعد اظہار مذہب کی آزادی متاثر ہوئی ہے۔ امریکی کمیشن کے علاوہ ملک وبیرون ملک سماجی اور سیاسی شخصیات بھی انتباہ دے چکے ہیں کہ بھارت ’جینو سائڈ‘ کی طرف بڑھ رہا ہے۔حتی کہ مسلم ممالک کی وزارت خارجہ والی تنظیم اوآئی سی بھی ملک پر ان حالات کیلئے تنقید کرچکی ہے۔
کوئی کیا کہہ رہا ہے ہم اس بات سے متفق نہیںبلکہ اپنی سرکار کی پالیسیوں سے اتفاق کرتے ہیں اور یہ ہماری بھارتی جمہوریت کی خوبصورتی ہے کہ ہم جب ملک میں کچھ غلط ہوتا ہے تو اس پر سرکار کو ہدف تنقید بناتے ہیں اور سرکار ان پر کان بھی دھرتی ہے۔اپنی سرکار سے ہماری شکایت یہ ہے کہ امریکی کمیشن اور ملک وبیرون ملک لوگوں کو یہ کہنے کاموقع کیوں ملا کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کیا جارہاہے۔ یہ جتنا حکومت کیلئے الجھن والی بات ہے اس سے زیادہ بھارت کی اقلیتوں کو ذہنی خلجان میں ڈال رہی ہے۔پوری دنیا میں اکثریت او راقلیت کے بیچ تصادم کوئی نئی بات نہیں، مگر جب اس ٹکراؤ کیلئے حکومت پر تنقید ہونے لگے تو بات سنگین ہوجاتی ہے۔ اقلیتیں بھارت کو پوری دنیا میں اپنے لئے سب سے زیادہ ’ محفوظ‘ مانتی ہیں۔ اس میں سچائی بھی ہے کیونکہ دیش کا اکثریتی طبقہ ’امن پسند‘ رہا ہے ۔ بھارتی لوگ ہمیشہ امن پسند رہے ہیں اور یہاں تمام طبقات ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں، لیکن اس مذہبی رواداری اور طبقاتی یکجہتی کو آج کوئی نشانہ کیوں بنار ہاہے؟۔
ہماری سرکار کو اس المیہ پر بہت سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایساکیوں ہورہا ہے کہ کچھ لوگ اشتعال انگیز بیانات دیتے ہیں؟۔کیوں ملک کی ایک خاص اقلیت پر کوئی انگلی اٹھاتا ہے؟۔ کوئی کہنے لگتا ہے کہ مسلمانوں کاقتل کرو، تو کوئی اس قوم کو پاکستان جانے کی بات کرتا ہے۔ ایسی باتیں اقلیتوں کیلئے ذہنی تشویش کاباعث ہوتی ہیں اور وہ سوچتے ہیں کہ آخر ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی اچانک کیوں باڑھ آگئی ہے جن کیخلاف سرکار سختی سے نہیں نمٹ رہیہے؟۔ دیش میں امن کیلئے سرکار کو ان لوگوں کی ناک میں نکیل ڈالنی چاہئے جو بھارت کے امن پسند عوام میں مذہبی زہر پھیلاتے ہیں۔ خواہ وہ کسی بھی طبقے یا مذہب کے ہوں وہ ملکی امن وامان کیلئے اچھے نہیں کہے جاسکتے۔ انہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ قدیم زمانے سے پوری دنیا کے لوگوں کو پیا رو محبت سے اپنے اندر سمولینے والے دیش کو کس کی نظر لگ گئی ہے؟۔ اگر اس کا تدارک سختی سے نہیں کیاگیا تو یقینی طو رپر ملک میں بدامنی اور خلجان پیدا ہوگا۔
بھارت کو تشویش والے ملک کی صف میں کھڑاکرنے کی وجہ سے ہر بھارتی کو تکلیف ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہئے کیونکہ یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ ہمارے ملک کے بارے میں ایسی باتیں کہی جائیں اور ان پر بحث کھڑی ہو۔جب سماج یا ملک میں کوئی غلط روایت جنم لیتی ہے تو وقت رہتے اس کیخلاف قدم اٹھایا جانا چاہئے لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ ایک طویل عرصے سے لوگ بھارت کے امن میں زہر گھول رہے ہیں لیکن ان کیخلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ وہ جو منہ میں آئے بلاعقوبت بولتے ہیں۔ ماب لنچنگ ہو، گئورکشا کے نام پر مسلم اقلیت کے ساتھ زدوکوب کامعاملہ ہو، مسلمانوں کیخلاف اشتعال انگیز بیانات کا معاملہ ہو، ایسے درجن بھر ایشوز ہیں جن کیخلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ لے دے کے وزیراعظم نریند مودی ماب لنچنگ کیخلاف کئی بار بولے جس کے بعد اس میں کافی حد تک تخفیف ہوئی۔ اگر وزیراعظم پوری سنجید گی سے اس پر غور کریں تو یقینی طو رپردیش کے حالات پرامن ہوں گے۔
ہر سماج اور ہر طبقے میں کچھ غلط عناصرپائے جاتے ہیں جو اپنی ذاتی تسکین ، نام ونمود یا مالی مفادات کیلئے ایسی حرکتیں کرتے ہیں، اگر انہیں کھلا چھوڑ دیاجائے گا تو وہ ایک دن سماج کیلئے ناسور بن جائیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ سرکار کینسر بننے تک انہیں ڈھیل کیوں دے رہی ہے؟۔ ملک میں پیدا ہونے والے ایسے حالات کیلئے کیاکیا چیزیں ذمہ دار ہیںان پر قدغن لگانی چاہئے۔ ملک میں بدامنی پھیلانے کیلئے جہاں کچھ انفرادی عناصر ذمہ دار ہیں تو وہیں ہماری میڈیا کے کئی ادارے برابر اشتعال انگیزی پھیلارہے ہیں۔ وہ ایسی خبریں تلاش کرتے ہیں جس سے مسلم اقلیت کیخلاف اکثریت کے ذہن میں تشویش پیدا کی جائے۔ وہ دھڑلے سے اپناکام کررہے ہیں اور ذمہ دار ادارے خاموشی سے ایسے حالات کیلئے سماج کو سازگار بنارہے ہیں۔ایسے میں وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ بذات خود اس کیخلاف ٹھوس قدم اٹھائیں کیونکہ اس سے نہ صرف ملک کی شبیہ خراب ہوتی ہے بلکہ اس کے سربراہ پر بھی انگلیاں اٹھتی ہیں۔












